محمد مصطفٰے معصوم ہاشمی کا قلمی نام نوشاد نوریؔ تھ…

[ad_1] محمد مصطفٰے معصوم ہاشمی کا قلمی نام نوشاد نوریؔ تھا اور اسی نام سے وہ جانے جاتے تھے۔ وہ آج کے دن ۲۶ اکتوبر ۱۹۲۶ میں در بھنگہ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ اپنی فکر اور نظریے کے اعتبار سے ایک ترقی پسند شاعر تھے۔ وہ جب ہندوستان سے ۱۹۵۰ میں ڈھاکا آئے تھے تو ان کے تخلیقی اثا ثے میں ’’ؓ بھکاری‘‘ جیسی نظم شامل تھی جو ان کی جلا وطنی اور ڈھاکا میں مقبولیت کا سبب بنی۔ نوشاد نے ۱۹۵۰ سے ۱۹۷۱ تک ملک کے سیاسی پس منظر میں کئی تاریخی نظمیں کہیں ہیں جن میں باون کی لسانی تحریک کے موضوع پر ’’ موہن جو داڑو‘‘ جیسی نظم بھی شامل ہے، اس کے علاوہ ۲۶ مارچ ۷۱ کے موضوع پر کہی جانے والی نظم ’’ لہو میں شرابور دن‘‘ شاید۲۴ سالہ اس دور کی آخری اردو نظم ہے۔ جس کے کہنے کا اعزاز نوشاد نوریؔ کو حاصل ہے۔ نوشاد کے دو شعری مجموعے ’’ رہ و رسم آشنائی ‘‘ اور ’’ روزن دیوار ‘‘ قیام بنگلہ دیش کے بعد کولکاتا اور ڈھاکا سے شائع ہوئے۔نوشاد کی تخلیقات میں زیادہ تر ایسی نظمیں شامل ہیں جن کا پس منظر قومی اور عالمی سطح پر کی جانے والی عوامی جد و جہدہے۔
اب کوئی چارہ نہیں قطع محبت کے سوا
اب کوئی راہ نہیں جنگ مسلح کے بغیر
اب کوئی ربط نہیں ، جذبۂ نفرت کے سوا
نوشاد کی نظموں میں جذبے کی شدت اور فکر کی رسائی کے ساتھ ساتھ گہری حسا سیت بھی پائی جاتی ہے۔ اس کی مثال نظم ’’ تاریخ کا دیباچہ ‘‘ ہے۔
بیتے ہوئے ادوار کے ہم بھی نگراں ہیں
نادیدہ زمانے کی طرف ہم بھی رواں ہیں
اس دور المناک میں ہم چشم و زباں ہیں
نوشاد نوریؔ نے نظموں کے علاوہ کچھ غزلیں بھی کہیں ہیں۔ لیکن وہ ان غزلوں کی اشاعت نہیں چاہتے تھے ۔ان کی وفات کے بعد نوشادنوری کی ایک غزل پہلی بار شائع ہوئی ۔ اس غزل کے چند اشعار درج ذیل ہیں:
تعلق ایسا بندھن ہے جو توڑا بھی نہیں جاتا
اسے گر چھوڑنا چاہیں تو چھوڑا بھی نہیں جا تا
بدل دیتے ہیں بیداری میں رخ اپنے خیالوں کا
مگر سوتے میں رخ خوابوں کا موڑا بھی نہیں جاتا
نہ اب یارائے ہجرت ہے نہ تاب دشت پیمائی
یہی مشکل ہے اب زنداں کو چھوڑابھی نہیں جا تا
ان کی نظموں میں غزل اور غنائیت کی پوری فضا ہوتی ہے۔ ان کی ایک نظم ’’ وارفتگی ‘‘ کے درج ذیل اشعار جدید غزل سے ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔
روزن در کو کھلا رکھنے کا مو سم آیا
ٹوٹتی رات میں کب کس کا پیام آجائے
نیم شب چھپتا چھپاتا ہوا سناٹے میں
کس طرف سے کوئی آوارہ خرام آجائے
نطق کو مہر کرو ، ہونٹ کو سی کر رکھو
بارے لب پر کوئی بے ساختہ نام آجائے
ان کی نظم ’’ روایت ہے ‘‘ بنگلہ دیش میں اردو شاعری کے نئے سفر کی نشاندہی کرتی ہے۔
میں زمانے پہ صحیفے کی طرح اترا ہوں
روشنی مجھ سے تفکر کو ودیعت ہو گی
میرے مخطوطہٗ کمیاب کو محفوظ رکھو
اس حوالے کی مؤرخ کو ضرورت ہو گی
اس کٹھن دور کی نا گفتہ صداقت لو گو
میری ہی ذات گرامی سے روایت ہوگی
اپنی آخری عمر میں وہ کینسر کے مرض میں مبتلا رہے اور ۷۵ سال کی عمر میں ۱۸ جولائی سن ۲۰۰۰ میں ڈھاکے میں انتقال کیا۔


[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo