عمردراز مانگ کے لائی تھی چار دن دو آرزو میں کٹ گئے…

[ad_1] عمردراز مانگ کے لائی تھی چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے ، دو انتظار میں
اس شعر سے اردو کا تقریباٌ ہر قاری اچھی طرح سے واقف ہے ۔ اگر کسی سے اس کے شاعر کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ بلا تکلف آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفرؔ کا نام لے گا۔ یہ غزل ظفرؔ کے تخلص کے ساتھ ہندوپاک کے کئی غزل نوازوں نے گائی بھی ہے اور ایک عالم اس کو ظفرؔ سے ہی وابستہ کرتا ہے۔ پھر یہ کیا بات ہے کہ یہ شعر سیماب صاحب کی بیاض اور
:کلیم عجم: دونوں میں معمولی سے لفظی تغیرات کے ساتھ ہو بہو موجود ہے؟ اس شعرکی مشہور صورت حسب ذیل ہے:
عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے ، دو انتظار میں
گویا :لائے تھے: کی جگہ سیمابؔ صاحب کے یہاں :لائی تھی: ہے ۔ باقی کوئی فرق نہیں ہے۔
باوجود تلاشِ بسیار بہادر شاہ ظفرؔ کے کسی کلیات میں بھی اس شعر کا نام و نشان نہیں ملتا ہے ۔ البتہ اس زمین میں ظفرؔ کی جو غزل اُن کے کلیات میں ملتی ہے وہ درج ذیل ہے اور اس میں یہ شعر نہیں ہے:

ٹکڑے نہیں جگر کے ہیں اشکوں کے تا ر میں
یہ لعل موتیوں کے پروئے ہیں ہار میں

قطرے نہیں پسینہ کے ہیں زلفِ یار میں
دُرّانی آگئے ہیں یہ مُلکِ تَتار میں

سُرمہ نہیں لگا ہوا مژگانِ یار میں
ہے زنگ سا لگا ہوا خنجر کی دھار میں

ساقی شتاب دے مجھے تو بھر کے جامِ مے
بیٹھا ہوں بے حواس نشہ کے اُتار میں

ہم حُسنِ گندمی پہ ترے ہو کے شیفتہ
کیا کیا ذلیل و خوار ہیں قرب و جوار میں

بعد از فنا بھی کم نہ ہوئی سوزشِ جگر
گرمی ہے اب تلک مرے خاکِ مزار میں

سایہ میں زلف کے ہے کہاں روئے تابناک
ہے چاند سا چھپا ہوا ابر بہار میں

مثلِ غبار اُٹھ کے جو تیری گلی سے جائے
طاقت کہا ں ہے اتنی ترے خاکسار میں

اُس ر شکِ گل کو اب تو دیا ہم نے دل ظفرؔ
کہہ دیں گے ہم زبان سے سو میں ہزار میں

زیر بحث شعر کچھ کتابوں میں (مثال کے طور پر خواجہ تہورؔ حسین کی تالیف :انتخاب کلام ظفرؔ 🙂 ملتا ہے لیکن اس طرح جیسے وہ ظفرؔ کے کلیات میں شامل رہا ہو اور وہیں سے اس کا انتخاب کیا گیا ہوجبکہ واقعتاٌ ایسا نہیں ہے۔ ہندوستان کے مشہور و مستند محقق و نقاد خلیل الرحمن اعظمی مرحوم کی تالیف :نوائے ظفرؔ : (انتخابِ کلامِ بہادر شاہ ظفرؔ )میں کلیات کے انتخاب میں تو اس شعر کا کوئی ذکر نہیں ہے البتہ کتاب کے آخری باب :دکھی دل کی پکار: میں اس غزل کے چار اشعار اس تمہید کے ساتھ درج ہیں:
’’ اِس ذیل میں بہادر شاہ ظفرؔ کا وہ کلام درج کیا جاتا ہے جو کلیات میں شامل نہیں ہے اور اس میں سے اکثر و بیشتر قیام رنگونؔ کی یادگار ہے ۔ یہ نغماتِ اسیری زخمِ دل سے لہولہان ہیں‘‘۔
وہ چار اشعار یوں ہیں:
لگتا نہیں ہے جی مرا اُجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں

عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

کہہ دو اِن حسرتوں سے کہیں او ر جا بسیں
ا تنی جگہ کہا ں ہے دلِ داغدار میں

کتنا ہے بدنصیب ظفرؔ دفن کے لئے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

گویااس طرح خلیل الرحمن اعظمی کی رائے میںیہ تْصدیق ہو جاتی ہے کہ زیر بحث شعر یقیناٌ بہادر شاہ ظفرؔ کا ہی ہے!۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’’ پھر سیمابؔ صاحب نے اس کو اپنی غزل میں ہو بہو کیسے شامل کرلیا‘‘ ؟
ظاہر ہے کہ سیمابؔ صاحب ایسے نامور ، قادرالکلام اور مستند استاد پر سرقہ کے الزام کا تصور ہی ناقابل قبول ہے۔لہٰذہ اس چیستاں کاجواز کہیں اور ہی ڈھونڈنا ہو گا ۔ایسا کبھی کبھی ہوتا ہے کہ غزل کا قافیہ اپنا مضمون خود ہی شاعر کو سجھاتا ہے اوراس عمل سے زائیدہ شعر غیر شعوری طورپرکسی اور کے شعر سے خیال یا بیان میں :لڑ سکتا ہے:۔ البتہ ایسا عموماٌ چھوٹی اورآسان بحروں میں ہی ہوتا ہے اور ایسے اشعار کے مضامین اکثر:سامنے کے :ہی ہوتے ہیں یعنی وہ تقریباٌ ہر شاعرپر نازل ہوسکتے ہیں ۔ مشکل بحروں میں اشعار کا :لڑ جانا:(،اور وہ بھی ایسے بلند اور اعلیٰ مضمون کے ساتھ!) کہیں بھی نظر نہیں آتا ہے۔
یہ بھی قرینِ قیاس نہیں ہے کہ سیماب صاحب نے بہادر شاہ ظفرؔ کی یہ مشہور زمانہ غزل دیکھی یا سنی نہیں ہو گی اور اس کا یہ شعران کی نگاہوں سے نہیں گذرا ہو گا۔ بیاضِ سیمابؔ میں درج اس غزل کی تاریخِ تصنیف(۱۹۱۹ء) کے ۱۷ سال بعد :کلیم عجم: کی ترویج و تہذیب کے وقت سیماب صاحب نے بظاہر دقت نظر اور عرق ریزی سے نہ صرف بیاض کی غزلوں سے اشعا ر کا انتخاب کیا ہے بلکہ بہت سے اشعار کو تدبر و تفکر کے بعد ردّ کر کے ان کی جگہ نئے اضافی اشعار کہے ہیں۔موصوف نے اُس وقت ظفرؔ کا یہ شعر اپنی غزل میں ضرور بالضرور دیکھاہوگا اور اس کو :کلیم عجم: میں شامل کرنے کا شعوری فیصلہ بھی کیا ہوگا۔ پھر اس شعر کی سیمابؔ صاحب کے یہاں موجودگی کیا معنی رکھتی ہے؟
کیا یہ :توارد: ہے؟لیکن اس قدر صریح او رمکمل: توارد: بھی عقل قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ مصرعوں کا لڑ جانا، خیالات میں جزوی یا کلی توارد او ر زبان وبیان کی کم وبیش مماثلت کی مثالیں اساتذہ کے کلام میں جا بجا موجود ہیں ۔ دوسری زبان (مثلاٌ فارسی) کے شعر کا تقریباٌ لفظی اُردو ترجمہ بھی دیکھنے میں آ جاتا ہے۔ لیکن کسی شعر کا ہو بہو ایک ہی شکل میں دو مختلف شعرا پر مکمل نزول ایسا حادثہ ہے جو کم سے کم میری نظر سے کبھی نہیں گذرا ہے۔ :کلیم عجم: کی ترتیب و ترویج کے دوران سیمابؔ صاحب کی نظرکا ایسے عجیب الخلقت :توارد: پر نہ جانا عقل سلیم قبول نہیں کرتی ہے۔ یہ ضرور ہے کہ آج تک کہیں بھی اس شعر کو سیمابؔ صاحب سے منسوب کرکے نہیں پیش کیا گیا ہے۔ لیکن یہ امر اس بات کی سند نہیں ہو سکتا کہ سیمابؔ صاحب کو اس شعر کا علم نہیں تھا۔ایسی فاش غلطی کا اُ ن کی نگاہ میں نہ آنا ایک ایسا راز ہے جو سیمابؔ صاحب اپنے ساتھ ہی لے گئے اور مستقبل کے مورخ کے لئے ایک نا قابل حل معمہ چھوڑ گئے

کلیمِ عجم: اور سیماب اکبرآبادی کی ایک قلمی بیاض
سرور عالم راز سرور


[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo