آج اردو اور پنجابی زبان کی معروف شاعرہ، ادیبہ، صحا…

[ad_1] آج اردو اور پنجابی زبان کی معروف شاعرہ، ادیبہ، صحافی اور لیکچرار ڈاکٹرعمرانہ مشتاق مانیؔ کا یومِ پیدائش ہے۔

معروف شاعرہ، ادیبہ، صحافی، عمرانہ مشتاق 10اکتوبر 1982ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی۔ گریجویشن گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ سے کی۔ انہوں نے جغرافیہ میں ایم فل کیا۔اور پی ایچ ڈی کی ڈگری کی ”پاک امریکہ تعلقات، پاکستان کے جیو پولیٹیکل اور جیوسٹرٹیجک محل وقوع کے تناظر میں “ کے عنوان سے اپنا مکالمہ لکھ کر ساﺅتھ ایشیئن سٹڈیز سنٹر پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی۔
۔۔
چئیر پرسن : انٹرنیشنل رائیٹرز کونسل
چیف ایڈیٹر : ماہنامہ تفکر
ایڈیٹر : تفکر ڈاٹ کام
ایکس چیف ایڈیٹر : روزنامہ سماء
ایکس ریذیڈنٹ ایڈیٹر : روزنامہ جناح
ایکس ایڈیٹر : روزنامہ سحر
ایکس ایڈیٹر : روزنامہ انقلاب وقت
ایکس ایڈیٹر : روزنامہ انٹرنیشنل حکومت
میڈیا ایڈوائز : پائینا
کنوئیر : یو ایم ٹی پریس فورم

عمرانہ مشتاق نہ صرف شعر وادب سے گہری وابستگی رکھتی ہیں بلکہ نسل نوکی تعلیم و تربیت کے حوالے سے تدریسی شعبہ میں بھی نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔مختلف جرائد کی ادارت کے ساتھ ساتھ وہ بزم اقبال شعبہ خواتین کی صدر بھی ہیں ۔
اردو، پنجابی شعری مجموعوں ، ناول، سفرنامہ حج ”پہلی حاضری“ سفرنامہ بھارت ”باز میںپھول“ اور بینظیر بھٹو شہید اور منیر نیازی کی سوانخ عمریوں پر مشتمل 10 کتابیں تخلیق کرچکی ہیں اس کے علاوہ وہ قومی اخبارات میں ”دل کی بات کے عنوان سے کالم بھی لکھتی ہیں ان کے کالموں پر مشتمل کتاب بھی منظرعام پر آچکی ہے وہ اپنے تخلیقی کام پر بولان ایوارڈ سمیت اب تک متعدد ایوارڈز حاصل کرچکی ہیں۔
ان کا پہلا شعر مجموعہ” ہجر کا عذاب” تھا۔ اس شعری مجموعے سے قبل وہ اپنا کلام ڈائری پر نوٹ کرتی رہتی تھیں ناصر زیدی صاحب س ایک ملاقات میں انہوں نے اپنی ڈائری دکھائی جسے ناصر زیدی صاحب نے سراہا اور حوصلہ افزائی کی اور مشورہ دیا کہ آپ یہ کتابی شکل میں شائع کروائیں سو یہ انہوں نے ان کی بات مانی اور اسے طبع کروایا تھا ۔
عمرانہ مشتاق کی والدہ سیدہ سکینہ فرحت نعتیہ شاعری کرتی تھیں۔ ان کے والد بھی فارسی اور عربی میں شاعری کرتے تھے۔ پراداد نے بھی فارسی زبان میں ایک قلمی نسخہ لکھا۔ گھر کا ماحول مکمل ادبی تھا اس لیے عمرانہ کا ادب سے لگائو ان کو ورثے میں ملا۔ عمرانہ مشتاق نو بہن بھائی ہیں، سب بہن بھائیوں میں صرف عمرانہ ادب کے شعبہ سے وابستہ ہوئیں۔
عمرانہ نے پہلی نظم پرائمری جماعت میں لکھی۔ اس نظم کا پس منظر یہ تھا کہ ان کی والدہ نے کہا کہ جو بچہ قرآن پاک نہیں پڑھے گا اسے ناشتہ نہ ملے گا۔ ایک دن عمرانہ نے قرآن پاک نہ پڑھا تو ان کی والدہ نے اصرار کیا اورمجھے ناشتہ نہ دیا۔ عمرانہ چھت پر جا کر رونے لگی اور حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شکایت کرتے ہوئے نظم لکھی۔

اے خاتون جنت بی بی صاحبہ
میں تے رو رو حال ونجاواں
عمرانہ مشتاق کے دو بچے ہیں، بیٹا کمپیوٹر انجینئرنگ میں آنر کر رہا ہے اور بیٹی وکالت کر رہی ہے۔ ان کی بیٹی بھی شاعری کرتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پسِ دیوار و در رکھا ہوا ہے
عجب حُسنِ نظر رکھا ہوا ہے

وہ خود رہتا ہے اونچے پربتوں پر
مجھے زیرِ نظر رکھا ہوا ہے

سمندر کی یہ فطرت ہے کہ اُس نے
کناروں تک بھنور رکھا ہوا ہے

بکھر جائیں نہ چاہت میں زیادہ
جنوں کو باندھ کر رکھا ہوا ہے

مجھے اک آرزو نے اس جہاں میں
ابھی تک معتبر رکھا ہوا ہے

ہمارا نام شاید اُس نے ، مانیؔ
کسی کے نام پر رکھا ہوا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قسمت کی خوبی دیکھیے
۔
میں تو سمجھی تھی سمندر کو پُرسکون
دیکھتے ہی دیکھتے اس میں طوفان آ گۓ
میرے صیاد کو ضد ہے کہ قفس کر دوں خالی
وہ بھی مجبور ہے ، اس کے نۓ مہمان آ گۓ
منزل قریب ہے مجھے لگ رہا تھا یوں
چلتے چلتے یکدم مگر راستے ویران آ گۓ
میں لمحوں کی قید سے سمجھ رہی تھی خود کو آزاد
بیچ میں کہاں سے یہ زمان و مکان آ گۓ
بچا کے رکھے تھے کچھ پتے کچھ شگوفے
قسمت میری دیکھیے وہ بھی صرف خزاں ہو گۓ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت
آج کا دن ہے بڑی اہمیت کا حامل
کہ اس دن تو مجھے ہوا تھا حاصل
آج کے دن کا کبھی تجھے رہتا تھا انتظار
مگر آج میں تک رہی ہوں تیری راہ بار بار
سوچتی ہوں دن بدل جاتے ہیں کہ انسان
جتنا سوچتی ہوں اتنا ہی الجھتی ہوں میری جان
تو ساتھ دینا چاہتا ہے زمانے کا
ذکر چھوڑ کر وقت پرانے کا
تیرے نزدیک صرف جوانوں کو محبت نبھانا چاہیے
میرے جیسوں کو تو ویسے ہی مر جانا چاہیے
عمر کا تعلق نہیں محبت سے تجھے کیسے سمجھاؤں
محبت تو ہر عمر میں ہو سکتی ہے تمہیں کیسے بتاؤں
عمر بڑھ جاتی ہے جواں رہتی ہے محبت
چھوڑتی ان کا کچھ نہیں جن کو لگ جاتی ہے بدبخت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاش!
کاش تو نے مجھ سے اتنا پیار نہ کیا ہوتا
یا پھر اس کا اتنا اظہار ہی نہ کیا ہوتا
اگر اپنی نئی اک دنیا ہی بسانی تھی
مجھے اپنا بنانے کا اقرار ہی نہ کیا ہوتا
مجھے چھوڑنا ہی گر لازم ٹھہرا تھا
مجھے سے محبت کا اقرار ہی نہ کیا ہوتا
میرا ہونا گر تیرے لیے اس قدر غیر اہم تھا
میں نے بھی تیرا کاش انتظار ہی نہ کیا ہوتا
گر محبت بانٹنا اتنا سہل تھا تیرے لیے
مجھے دیوانہ بنا کے اپنا بیمار نہ کیا ہوتا
اگر یہی اصل روپ ۔ یہی حقیقت تھی
تو پہلے اپنی ذات کو اتنا پُراسرار نہ کیا ہوتا!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پنجابی کلام
۔۔
بِٹ بِٹ تکاں آل دوالے
کیہہ کیہہ لوھاں روگ نیں پالے

چن دے ڈکرے کر کر ویکھن
اُتوں سوہنے، اندروں کالے

دوجیاں نوں ایہہ کوجہے آکھن
لاہندے نئیں اکھاں دے جالے

رانجھے نے کیہہ ونجلی پحر لئی
رہ گئی کلی ہیر سیالے

ہجر دی اگ بجھاون لئی وی
پیار دلاں دا بالن بالے

اکھیاں وچوں مُک گۓ ہنجو
سڑ گیا تیل تے بُجھ گۓ آلے

درد تھلاں وچ ٹُردیاں مانیؔ
پے گۓ نیں پیراں وِچ چھالے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo