غم و حزن میر کا تصور ،زندگی کے بارے میں بڑا واضح …

[ad_1] غم و حزن

میر کا تصور ،زندگی کے بارے میں بڑا واضح ہے کہ ان کا زندگی کی بارے میں نقطۂ نظر حزنیہ تھا۔ حزن ایک ایسے غم کا نام ہے جو اپنے اندر تفکر اورتخلیقی صلاحیتیں بھی رکھتا ہے۔ یہ غم ذاتی مقاصد اور ذاتی اغراض کا پرتو نہیں رکھتا۔ اس غم میں تو سوچ ، غور و فکر اور تفکر کو دخل ہے۔ میر کے متعلق یہ کہنا بھی درست نہیں کی میر قتوطی شاعر ہیں یا محض یاسیت کا شکار ہیں۔ محض یاس کا شاعر ہونا کوئی بڑی بات نہیں، اصل بات تو یہ ہے کی انسان یاس و غم کا شکار ہونے کے باوجود زندگی سے نباہ کیسے کرتا ہے۔ یہی نباہ اس کا تصور زندگی کی تشکیل دیتا ہے۔ میر کا تصور زندگی مایوس کن نہیں صرف اس میں غم و الم کا ذکر بہت زیادہ ہے۔ مگر یہ غم و الم ہمیں زندگی سے نفرت نہیں سکھاتا بلکہ زندہ رہنے کا حوصلہ عطا کر تا ہے۔ اس میں زندگی کی بھرپور توانائی کا احساس ہوتا ہے۔

مجھ کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب میں نے
درد و غم کتنے کئے جمع تو دیوا ن کیا

چشم رہتی ہے اب پر آب بہت
دل کو میر ے ہے اضطرا ب بہت

متصل روتے رہیے تو بجھے آتش دل
ایک دو اشک تو اور آگ لگا دیتے ہیں
میر کا تصور غم

میر کا تصور غم تخیلی اور فکری ہے۔ یہ قنوطیت پیدا نہیں کرتا ۔ اس کے ہوتے ہوئے میر کی شاعری میں توازن اور ٹھہرائو نظر آتا ہے۔ شکستگی کا احساس نہیں ہوتا اور ضبط ، سنجیدگی اور تحمل ملتا ہے۔ وہ غم سے سرشار ہو کر اسے سرور اور نشاط بنا دیتے ہیں۔ مجنوں گورکھپوری ان کے تصورات غم سے بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
” میر نے غم عشق اور اس کے ساتھ غم زندگی کو ہمارے لیے راحت بنا دیا ہے۔ وہ درد کو ایک سرور اور الم کو ایک نشاط بنا دیتے ہیں۔ میر کے کلام کے مطالعہ سے ہمارے جذبات و خیالات اور ہمارے احساسات و نظریات میں وہ ضبط اور سنجیدگی پیدا ہوتی ہے۔ جس کو صحیح معنوں میں تحمل کہتے ہیں۔

ہر صبح غموں میں شام کی ہے میں
خونبابہ کشی مدام کی ہے میں نے

یہ مہلت کم کہ جس کو کہتے ہیں عمر
مر مر کے غرض تمام کی ہے میں نے
میر کی دردمندی

میر کے ہاں درمندی ان کے فلسفہ غم کا دوسرا نام ہے۔ اگرچہ لفظ فلسفہ انہوں نے استعمال ہی نہیں کیا، مگر اس سے مراد ان کی یہی ہے۔ دردمندی سے مراد زندگی کی تلخ حقیقتوں کا اعتراف و ادراک اور مقدور بھر ان تلخیوں کو دور کرنے کی کوشش کا نام ہے۔ یہ درمندی ان کی زندگی کے تضادات سے جنم لیتی ہیں۔ درمندی کا سرچشمہ دل ہے۔ میر کے یہ اشعار ذہن میں رکھیے:

آبلے کی طرح ٹھےس لگی پھوٹ بہے
درمندی میں کٹی ساری جوانی اپنی

نہ درد مندی سے یہ راہ تم چلے ورنہ
قدم قدم پہ تھی یاں جائے نالہ و فریاد

چشم رہتی ہے اب پرُ آب بہت
دل کو میرے ہے اضطراب بہت

دردمندی کے محرکات

میر کا دور شدید ابتری کا دور تھا ۔ زندگی کے مختلف دائروں کی اقدار کی بے آبروئی ہو رہی تھی۔ انسانی خون کی ارزانی ، دنیا کی بے ثباتی اور ہمہ گیرانسانی تباہی نے انسانوں کو بے حد متاثر کیا۔ میر اس تباہی کے محض تماشائی نہ تھے بلکہ وہ خود اس تباہ حال معاشرہ کے ایک رکن تھے۔ جو صدیوں کے لگے بندھے نظام کی بردبادی سے تسبیح کے دانوں کی طرح بکھر کر رہ گیا تھا۔ اوراب اس کو جوڑنا ممکن نہ رہا تھا۔ میر نے اس ماحول کے اثرات شدت سے محسوس کیے ہیں۔ ان کی غزلوں میں اس تباہی کے نقوش ملتے ہیں۔ لٹے ہوئے نگروں ، شہروں اور اجڑی ہوئی بستیوں کے حالات ، بجھے ہوئے دلوں کی تصویریں، زمانے کے گرد و غبار کی دھنڈلاہٹیں ،تشبیہوں اور استعاروں کی شکل میں میر کے ہاں موجود ہیں۔

روشن ہے اس طرح دل ویراں میں داغ ایک
اُجڑے نگر میں جیسے جلے ہے چراغ ایک

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

دل کی ویرانی کا کیا مذکور
یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

حوصلہ شرط عشق ہے ورنہ
بات کا کس کو ڈھب نہیں آتا

بلند حوصلگی

بقول ڈاکٹر سید عبداللہ:

” میر کو زندگی سے بیزار شاعر نہیں کہا جاسکتا ۔ ان کا غم بعد میں آنے والے شاعر ، فانی کے غم سے مختلف ہے جس کی تان ہمیشہ موت پرٹوٹتی ہے۔ ان کا غم سودا سے بھی مختلف ہے۔ ان کا غم ایک مہذب اوردرمند آدمی کا غم ہو جو زندگی کے تضاد کو گہرے طور سے محسوس کرتا ہے کہ ایسی دلکش جگہ اور اتنی بے بنیاد اور محروم۔“

غم و الم کے اس عالم میں میر بے حوصلہ نہیں ہوتے ۔ وہ سپاہیانہ دم خم رکھتے ہیں۔ فوجی سازو سامان کے استعاروں میں مطلب ادا کرکے زندگی کا ایسا احساس دلاتے ہیں جس میں بزدلی بہرحال عیب ہے۔ وہ رویہ جسے اہل تذکرہ بے دماغی یا بد دماغی کہتے ہیں وہ دراصل وہ احتجاجی روش ہے جو ہر سپاہی کا شیوہ ہے۔

خوش رہا جب تلک رہا جیتا
میر معلوم ہے قلندر تھا

بہت آرزو تھی گلی کی تیری
سو یاں سے لہو میں نہا کر چلے


[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo