نوحؔ ناروی-داغؔ دہلوی-نصیر الدین نصیر-بیخود دہلوی-…

[ad_1] نوحؔ ناروی-داغؔ دہلوی-نصیر الدین نصیر-بیخود دہلوی-مضطر خیرآبادی-جوشؔ ملسیانی
منور رانا-کشفی ملتانی-مرزا قربان علی بیگ قربان-غلام حسین ساجد-حسن بریلوی
شمیم جے پوری-نسیم بھرتپوری-جتیندر موہن سنہا رہبر-حفیظ جونپوری-
…………
نوحؔ ناروی
مزہ الفت میں کیا دونوں کو حاصل ہو نہیں سکتا
مگر مشکل ہے ایک اُن کا مرا دل ہو نہیں سکتا
جفا و رشک سہنے کے قابل ہو نہیں سکتا
مرا دل ہو بھی،ہوسکتا ہے ترا دل ہو نہیں سکتا
کسی کے رنج و غم میں کوئی شامل ہو نہیں سکتا
مرا ساتھی مرا حامی مرا دل ہو نہیں سکتا
عزیزِ خلق بننے کو وفا کی بھی ضرورت ہے
فقط پہلو میں ہونے سے کوئی دل ہو نہیں سکتا
الٰہی اُڑ گئی دنیا سے کیا تاثیر الفت کی
وہ کہتے ہیں ہمارا دل ترا دل ہو نہیں سکتا
وہ فرماتے ہیں لاؤ مجھ کو دے دو کس طرح دے دوں
مرے پہلو میں پیدا دوسرا دل ہو نہیں سکتا
وفا سے آدمی تسخیر کر لیتا ہے عالم کو
وہ دل میں رہتے رہتے کیا مرا دل ہو نہیں سکتا
ہم آہیں کیا کریں انجام آہوں کا سمجھتے ہیں
ہوا میں بھی شگفتی غنچہء دل ہو نہیں سکتا
موہ موسٰی ہی تھے غش کھا کر گرے جو طور سینا پر
ہمیں جلوے سے سکتہ بھی تو اے دل ہو نہیں سکتا
جگہ دوں کیا سمجھ کر میں ترے پیکاں کو پہلو میں
مرا دل بن نہیں سکتا مرا دل ہو نہیں سکتا
پرائی چیز مل جاۓ تو پھر بھی وہ پرائی ہے
کوئی لے کر مرا دل مالکِ دل ہو نہیں سکتا
نگاہوں سے نگاہیں لڑ کر اکثر چھپ بھی سکتی ہیں
مگر مل کر کبھی دل سے جدا دل ہو نہیں سکتا
وفا و عشق میں بھی کوئی شے ذاتی فضیلت ہے
تڑپنے کو جگر تڑپے مگر دل ہو نہیں سکتا
لگاوٹ اور پھر اس پر لگاوٹ خوب رویوں کی
انھیں تو دل بھی دے کر کوئی بے دل ہو نہیں سکتا
ہواۓ گل اڑا لے جاۓ لیکن کیا تماشا ہے
عنا دل کے تلفظ سے جدا دل ہو نہیں سکتا
وفا سے اس کو مطلب ہے جفا سے واسطہ اس کو
جنابِ نوحؔ کا دل آپ کا دل ہو نہیں سکتا
…….
داغؔ دہلوی
جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتا
مگر دیکھو تو پھر کچھ آدمی سے ہو نہیں سکتا
محبت میں کرے کیا کچھ کسی سے ہو نہیں سکتا
مرا مرنا بھی تو میری خوشی سے ہو نہیں سکتا
الگ کرنا رقیبوں کا الٰہی تجھ کو آساں ہے
مجھے مشکل کہ میری بیکسی سے ہو نہیں سکتا
کیا ہے وعدۂ فردا انہوں نے دیکھیے کیا ہو
یہاں صبر و تحمل آج ہی سے ہو نہیں سکتا
یہ مشتاق شہادت کس جگہ جائیں کسے ڈھونڈیں
کہ تیرا کام قاتل جب تجھی سے ہو نہیں سکتا
لگا کر تیغ قصہ پاک کیجئے دادخواہوں کا
کسی کا فیصلہ کر منصفی سے ہو نہیں سکتا
مرا دشمن بظاہر چار دن کو دوست ہے تیرا
کسی کا ہو رہے یہ ہر کسی سے ہو نہیں سکتا
پرسش کہوگے کیا وہاں جب یاں یہ صورت ہے
ادا اک حرف وعدہ نازکی سے ہو نہیں سکتا
نہ کہئے گو کہ حال دل مگر رنگ آشنا ہیں ہم
یہ ظاہر آپ کی کیا خامشی سے ہو نہیں سکتا
کیا جو ہم نے ظالم کیا کرے گا غیر منہ کیا ہے
کرے تو صبر ایسا آدمی سے ہو نہیں سکتا
چمن میں ناز بلبل نے کیا جو اپنی نالے پر
چٹک کر غنچہ بولا کیا کسی سے ہو نہیں سکتا
نہیں گر تجھ پہ قابو دل ہے پر کچھ زور ہو اپنا
کروں کیا یہ بھی تو نا طاقتی سے ہو نہیں سکتا
نہ رونا ہے طریقے کا نہ ہنسنا ہے سلیقے کا
پریشانی میں کوئی کام جی سے ہو نہیں سکتا
ہوا ہوں اس قدر محجوب عرض مدعا کر کے
کہ اب تو عذر بھی شرمندگی سے ہو نہیں سکتا
غضب میں جان ہے کیا کیجئے بدلہ رنج فرقت کا
بدی سے کر نہیں سکتے خوشی سے ہو نہیں سکتا
مزا جو اضطراب شوق سے عاشق کو ہے حاصل
وہ تسلیم و رضا و بندگی سے ہو نہیں سکتا
خدا جب دوست ہے اے داغؔ کیا دشمن سے اندیشہ
ہمارا کچھ کسی کی دشمنی سے ہو نہیں سکتا
…….
سیّد نصیر الدین نصیر
جسے پہلو میں رہ کر درد حاصل ہو نہیں سکتا
اُسے دل کون کہہ سکتا ہے، وہ دل ہو نہیں سکتا
وہ بندہ ، جس کو عرفاں اپنا حاصل ہو نہیں سکتا
کبھی خاصانِ حق کی صف میں شامل ہو نہیں سکتا
زمیں و آسماں کا فرق ہے دونوں کی فطرت میں
کوئی ذرّہ چمک کر ماہِ کامل ہو نہیں سکتا
محبت میں تو بس دیوانگی ہی کام آتی ہے
یہاں جو عقل دوڑائے، وہ عاقل ہو نہیں سکتا
پہنچتے ہیں، پہنچنے والے اُس کوچے میں مر مر کر
کوئی جنّت میں قبل از مرگ داخل ہو نہیں سکتا
نہیں جب اذنِ سجدہ ہی تو یہ تسلیم کیونکر ہو
مرا سر تیرے سنگ در کے قابل ہو نہیں سکتا
مرا دل اور تم کو بھول جائے ، غیر ممکن ہے
تمہاری یاد سے دم بھر یہ غافل ہو نہیں سکتا
مرا ایمان ہے اُن پر ، مجھے اُن سے محبت ہے
مرا جذبہ ، مرا ایمان ، باطل ہو نہیں سکتا
نزاکت کے سبب خنجر اُٹھانا بار ہو جس کو
وہ قاتل بن نہیں سکتا، وہ قاتل ہو نہیں سکتا
مرے داغِ تمنّا کا ذرا سا عکس ہے ، شاید
کسی کے عارضِ دلکش پہ یہ تِل ہو نہیں سکتا
نہ ہو وارفتہ جو اُس جانِ خوبی پر دل و جاں سے
وہ عاشق بن نہیں سکتا ، وہ عاشق ہو نہیں سکتا
ہمیں منظور مر جانا ، اگر اُن کا اِشارہ ہو
یہ کام آسان ہو سکتا ہے، مشکل ہو نہیں سکتا
جو رونق آج ہے ، وہ آج ہے ، کل ہو نہیں سکتی
ہمارے بعد پھر یہ رنگِ محفل ہو نہیں سکتا
نصیر اب کھیلنا ہے بحرِ غم کے تیز دھارے سے
سفینہ زیست کا ممنونِ ساحل ہو نہیں سکتا
…….
مضطر خیرآبادی
علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا
تم اچھا کر نہیں سکتے میں اچھا ہو نہیں سکتا
عدو کو چھوڑ دو پھر جان بھی مانگو تو حاضر ہے
تم ایسا کر نہیں سکتے تو ایسا ہو نہیں سکتا
ابھی مرتے ہیں ہم جینے کا طعنہ پھر نہ دینا تم
یہ طعنہ ان کو دینا جن سے ایسا ہو نہیں سکتا
تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں
مرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا
دم آخر مری بالیں پہ مجمع ہے حسینوں کا
فرشتہ موت کا پھر آئے پردا ہو نہیں سکتا
نہ برتو ان سے اپنائیت کے تم برتاؤ اے مضطرؔ
پرایا مال ان باتوں سے اپنا ہو نہیں سکتا
……
بیخود دہلوی
ہوا جو وقف غم وہ دل کسی کا ہو نہیں سکتا
تمہارا بن نہیں سکتا ہمارا ہو نہیں سکتا
سنا پہلے تو خواب وصل پھر ارشاد فرمایا
ترے رسوا کئے سے کوئی رسوا ہو نہیں سکتا
لگاوٹ اس کی نظروں میں بناوٹ اس کی باتوں میں
سہارا مٹ نہیں سکتا بھروسا ہو نہیں سکتا
تمنا میں تری مٹ جائے دل ہاں یہ تو ممکن ہے
مرے دل سے مٹے تیری تمنا ہو نہیں سکتا
نہ فرصت ہے نہ راحت ہے نہ بیخودؔ وہ طبیعت ہے
غزل کیا خاک لکھیں شعر اچھا ہو نہیں سکتا
……
جوشؔ ملسیانی
مسرور دل زار کبھی ہو نہیں سکتا
یعنی ترا دیدار کبھی ہو نہیں سکتا
میں غیر وفادار کبھی ہو نہیں سکتا
اس سے تمہیں انکار کبھی ہو نہیں سکتا
اب لطف و کرم پر بھی بھروسہ نہیں اس کو
اچھا ترا بیمار کبھی ہو نہیں سکتا
اسے شیخ اگر خلد کی تعریف یہی ہے
میں اس کا طلب گار کبھی ہو نہیں سکتا
اعمال کی پرسش نہ کرے داور محشر
مجبور تو مختار کبھی ہو نہیں سکتا
ممکن ہے فرشتوں سے کوئی سہو ہوا ہو
میں اتنا گناہ گار کبھی ہو نہیں سکتا
آزار محبت ہے اور آزار ہے اے جوشؔ
جو باعث آزار کبھی ہو نہیں سکتا
…..
کشفی ملتانی
دل دل ہی رہے گا گل تر ہو نہیں سکتا
خوں ہو کے بھی منظور نظر ہو نہیں سکتا
جو ظلم کیا تو نے کیا بے جگری سے
ایسا تو کسی کا بھی جگر ہو نہیں سکتا
تھک تھک کے تری راہ میں یوں بیٹھ گیا ہوں
گویا کہ بس اب مجھ سے سفر ہو نہیں سکتا
اظہار محبت مرے آنسو ہی کریں گے
اظہار بہ انداز دگر ہو نہیں سکتا
ہر بوند لہو کی کبھی بنتی نہیں آنسو
جیسے کہ ہر اک قطرہ گہر ہو نہیں سکتا
یہ عہد جوانی بھی ہے کچھ ایسا زمانہ
بے بادۂ سرجوش بسر ہو نہیں سکتا
لے جائے گا یہ دل مجھے اس بزم میں آخر
جس میں کہ صبا کا بھی گزر ہو نہیں سکتا
جب تک تری رحمت کا ہے کشفیؔ کو سہارا
سچ یہ ہے گناہوں سے حذر ہو نہیں سکتا
…..
منور رانا
مٹی میں ملا دے کہ جدا ہو نہیں سکتا
اب اس سے زیادہ میں ترا ہو نہیں سکتا
دہلیز پہ رکھ دی ہیں کسی شخص نے آنکھیں
روشن کبھی اتنا تو دیا ہو نہیں سکتا
بس تو مری آواز سے آواز ملا دے
پھر دیکھ کہ اس شہر میں کیا ہو نہیں سکتا
اے موت مجھے تو نے مصیبت سے نکالا
صیاد سمجھتا تھا رہا ہو نہیں سکتا
اس خاک بدن کو کبھی پہنچا دے وہاں بھی
کیا اتنا کرم باد صبا ہو نہیں سکتا
پیشانی کو سجدے بھی عطا کر مرے مولیٰ
آنکھوں سے تو یہ قرض ادا ہو نہیں سکتا
دربار میں جانا مرا دشوار بہت ہے
جو شخص قلندر ہو گدا ہو نہیں سکتا
…….
مرزا قربان علی بیگ قربان
ترا آنا گر اے رشک مسیحا ہو نہیں سکتا
تو بیمار محبت جانو اچھا ہو نہیں سکتا
ترے کشتہ کو زندہ سب کریں یہ غیر ممکن ہے
اگر چاہے ہر اک ہونا مسیحا ہو نہیں سکتا
تری الفت میں وہ کشتہ ہوں گر عیسیٰ بھی آ جائے
وہ زندہ کر نہیں سکتا میں زندہ ہو نہیں سکتا
میں دل میں رو بہ رو تیرے بہت کچھ سوچ آیا تھا
مگر ہیبت سے اظہار تمنا ہو نہیں سکتا
جلاؤ جتنا جی چاہے ستاؤ جتنا جی چاہے
کروں شکوہ کسی سے تیرا ایسا ہو نہیں سکتا
ہے تیرے وصل کی امید پر یے زندگی میری
بتا دو ہو بھی سکتا ہے بھلا یا ہو نہیں سکتا
زمانہ چھوڑ دے تو چھوڑ دے پروا نہیں قرباںؔ
محبت چھوڑ دوں پیارے کہ ایسا ہو نہیں سکتا
……
وسیم بریلوی
تحریر سے ورنہ مری کیا ہو نہیں سکتا
اک تو ہے جو لفظوں میں ادا ہو نہیں سکتا
آنکھوں میں خیالات میں سانسوں میں بسا ہے
چاہے بھی تو مجھ سے وہ جدا ہو نہیں سکتا
جینا ہے تو یہ جبر بھی سہنا ہی پڑے گا
قطرہ ہوں سمندر سے خفا ہو نہیں سکتا
گمراہ کئے ہوں گے کئی پھول سے جذبے
ایسے تو کوئی راہنما ہو نہیں سکتا
قد میرا بڑھانے کا اسے کام ملا ہے
جو اپنے ہی پیروں پہ کھڑا ہو نہیں سکتا
اے پیار ترے حصے میں آیا تری قسمت
وہ درد جو چہروں سے ادا ہو نہیں سکتا
……
غلام حسین ساجد
جہاں بھر میں مرے دل سا کوئی گھر ہو نہیں سکتا
کہ ایسی خاک پر ایسا سمندر ہو نہیں سکتا
رواں رہتا ہے کیسے چین سے اپنے کناروں میں
یہ دریا میری بیتابی کا مظہر ہو نہیں سکتا
کسی کی یاد سے دل کا اندھیرا اور بڑھتا ہے
یہ گھر میرے سلگنے سے منور ہو نہیں سکتا
بہت بے تاب ہوتا ہوں میں اس کو دیکھ کر لیکن
ستارہ تیری آنکھوں سے تو بڑھ کر ہو نہیں سکتا
یہ موج عمر ہر شے کو بہت تبدیل کرتی ہے
مگر جو سانس لیتا ہے وہ پتھر ہو نہیں سکتا
میں اس دنیا میں رہتا ہوں کہ جس دنیا کے لوگوں کو
خوشی کا ایک لمحہ بھی میسر ہو نہیں سکتا
……
حسن بریلوی
کہا جب تم سے چارہ درد دل کا ہو نہیں سکتا
تو جھنجھلا کر کہا تیرا کلیجا ہو نہیں سکتا
وہ اپنی ضد کے پورے ہٹ کے پورے آن کے پورے
فقط اتنی کمی ہے قول پورا ہو نہیں سکتا
کہاں کی چارہ فرمائی عیادت تک نہیں کرتے
مسیحائی پہ مرتے ہیں اور اتنا ہو نہیں سکتا
سر طور ان کے جلوے نے پکارا خود نما ہو کر
کہ اپنے چاہنے والے سے پردا ہو نہیں سکتا
کہا جب ان سے میری زندگی تم ہو کہا ہنس کر
میں سمجھا اب تمہیں میرا بھروسا ہو نہیں سکتا
مرا گھر غیر کا گھر تو نہیں کیوں کر وہ کھل کھیلیں
نگاہیں اٹھ نہیں سکتیں اشارا ہو نہیں سکتا
شرفؔ اور رشکؔ کے کہنے سے کچھ تک بندیاں کر لیں
حسنؔ افکار میں ہم سے دو غزلا ہو نہیں سکتا
…….
شمیم جے پوری
سفینہ وہ کبھی شایان ساحل ہو نہیں سکتا
جو ہر طوفاں سے ٹکرانے کے قابل ہو نہیں سکتا
گزر جائے جو آداب جنوں سے تیری محفل میں
وہ دیوانہ تری محفل کے قابل ہو نہیں سکتا
حوادث کے تھپیڑوں سے الجھ طوفاں سے ٹکرا جا
کہ غم جب تک نہ ہو انسان کامل ہو نہیں سکتا
مجھے طغیانیوں سے کھیلنا آتا ہے ہنس ہنس کر
مرا عزم جواں ممنون ساحل ہو نہیں سکتا
شمیمؔ اس دور کا یہ سنگ دل انساں ارے توبہ
کہ جس سے احترام شیشۂ دل ہو نہیں سکتا
…..
نسیم بھرتپوری
جو پوچھا صبر ہجر غیر میں کیا ہو نہیں سکتا
تو جھنجھلا کے کہا تیرا کلیجا ہو نہیں سکتا
وہ کہنا میرا اب تو صبر ہو سکتا نہیں ہم سے
تجاہل سے وہ ان کا پوچھنا کیا ہو نہیں سکتا
سبب کیا غیر سے کیوں ترک الفت ہو نہیں سکتی
تم ایسا کر نہیں سکتے کہ ایسا ہو نہیں سکتا
یہ بت قسمت کے پورے ہٹ کے پورے دھن کے پورے ہیں
کوئی ان میں سے ہو وعدے کا پورا ہو نہیں سکتا
نسیمؔ اور آپ کو رسوا کرے یہ غیرممکن ہے
یہ فقرہ ہے کسی کا اس سے ایسا ہو نہیں سکتا
……
جتیندر موہن سنہا رہبر
تجھے گر پاس غیرت اے ستم گر ہو نہیں سکتا
تو دل بھی شاکیٔ تعزیر خنجر ہو نہیں سکتا
میں ترک بادہ نوشی کے لئے مدت سے کوشاں ہوں
مگر یہ کام پورا قبل محشر ہو نہیں سکتا
بلا کر بات پوچھیں روبرو اپنے تو رو دینا
دلائل کا اثر کچھ اس سے بہتر ہو نہیں سکتا
شکایت تجھ سے کیا ساقی کہ ہے تاخیر کا عادی
ستم دنیا میں لیکن اس سے بڑھ کر ہو نہیں سکتا
سکون و ضبط کی تو ہم نشیں میں انتہا کر دوں
مگر مجھ کو وہ یوسف اب میسر ہو نہیں سکتا
پلائے جا کہ میں مدہوش ہو جاؤں تو تو مانے
کہ مے نوشی میں کوئی مجھ سے بڑھ کر ہو نہیں سکتا
سخن سازی میں لازم ہے کمال علم و فن ہونا
محض تک بندیوں سے کوئی شاعر ہو نہیں سکتا
ہنر مندوں کی ہر مجلس سے یہ آواز آتی ہے
کہ ناداں کا کوئی دنیا میں رہبرؔ ہو نہیں سکتا
…….
حفیظ جونپوری
یہ سب کہنے کی باتیں ہیں کہ ایسا ہو نہیں سکتا
محبت میں جو دل مل جائے پھر کیا ہو نہیں سکتا
شکایت ہو نہیں سکتی کہ شکوا ہو نہیں سکتا
ذرا سا چھیڑ دے کوئی تو پھر کیا ہو نہیں سکتا
برائی کا عوض ہرگز بھلائی ہو نہیں سکتی
برا کہہ کر کسی کو کوئی اچھا ہو نہیں سکتا
ہمارا ان کا قصہ لوگ سنتے ہیں تو کہتے ہیں
مزا ہے حشر تک یکسو یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا
کریں تیری شکایت کیا کہ تو اک دوست ہے اپنا
کسی دشمن کا بھی ہم سے تو شکوا ہو نہیں سکتا
الٰہی جذب دل کی اس کشش سے باز آیا میں
کوئی پردہ نشیں کہتا ہے پردہ ہو نہیں سکتا
حفیظؔ ان کی غزل ہے چوٹ کھا بیٹھی ہیں جو دل پر
بغیر اس کے سخن میں لطف پیدا ہو نہیں سکتا


[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo