سلیم احمد کی برسی September 01, 1983 جدید اردو ا…

[ad_1] سلیم احمد کی برسی
September 01, 1983

جدید اردو ادب کی تاریخ کے بے مثال شاعر اور بے بدل نقاد سلیم احمد 27؍ نومبر 1927ء کو ضلع بارہ بنکی کے ایک قصبے کھیولی میں پیدا ہوئے۔ اور یکم ستمبر 1983ء کو کراچی میں وفات پاگئے۔سلیم احمد نے اپنے آبائی قصبے کھیولی سے ہی میٹرک کیا اور میرٹھ کالج میں داخلہ لیا جہاں اُن کے مراسم پروفیسر کرار حسین ،محمد حسن عسکری، ڈاکٹر جمیل جالبی اور انتظار حسین سے اُستوار ہوئے۔ تقسیم کے بعد وہ پاکستان چلے آئے اور ریڈیو پاکستان سے منسلک ہو گئے۔اُنہوں نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لئے متعدد ڈرامے تحریر کئے۔اور پاکستان کی پہلی جاسوسی فلم ’’راز کی کہانی‘‘لکھی۔ جس پر اُنہیں بہترین کہانی نویس کا نگار ایوارڈ دیا گیا۔وہ اخبارات کے لئے کالم نگاری بھی کرتے رہے۔مگر سلیم احمد کی شخصیت کا اصلی جوہر اُن کے تنقیدی مضامین اور شاعری میں ہے۔ایک شاعر اور نقاد کے طور پر اُن کی ذہانت اور نکتہ رس طبیعت نے نئے اسالیب ومضامین ڈھونڈے اور اردو زبان وبیان کے افق میں تبدیلیاں پیدا کردیں۔ اُن کی شاعری میں شوکتِ ندرت اور نقد میں زبردست وسعت تھی۔سلیم احمد نے اپنے دور کی ادبی فضا کو تخلیقی اور تنقیدی سطح پر کسی بھی دوسرے ادیب سے زیادہ متاثر کیا۔
سلیم احمد کے شاعری کے مجموعے بیاض، اکائی، چراغ نیم شب اور مشرق کے نام سے چھپے ہیں۔اُن کی شاعری کی کچھ جھلکیاں ملاحظہ کیجئے:
دلوں میں درد بھرتا آنکھ میں گوہر بناتا ہوں
جنہیں مائیں پہنتی ہیں میں وہ زیور بناتا ہوں
غنیمِ وقت کے حملے کا مجھ کو خوف رہتا ہے
میں کاغذ کے سپاہی کاٹ کر لشکر بناتا ہوں
٭٭٭
روز مل کر بھی کم نہیں ہوتا
دل میں وہ فاصلہ ہے برسوں سے
٭٭
خیروشر کی خبروں کو مانتے تو سب ہی ہیں
کس کو ہوش رہتا ہے جبر اور ضرورت میں
دونوں درد دیتی ہیں آہِ سرد دیتی ہیں
فرق کچھ نہیں ایسا نفرت ومحبت میں
٭٭٭
دکھ دے یا رسوائی دے غم کو مرے گہرائی دے
جتنا آنکھ سے کم دیکھوں اتنی دُور دکھائی دے
٭٭٭٭٭
جو سودوزیاں کی فکر کرے
وہ عشق نہیں مزدوری ہے
٭٭
خموشی کے ہیں آنگن اور سناٹے کی دیواریں
یہ کیسے لوگ ہیں جن کو گھروں سے ڈر نہیں لگتا
٭٭٭
اس ایک چہرے میں آباد تھے کئی چہرے
اس ایک شخص میں کس کس کو دیکھتاتھا میں
٭٭٭
خود اپنی دید سے اندھی ہیں آنکھیں
خود اپنی گونج سے بہرا ہوا ہوں
مجھے حرفِ غلط سمجھا تھا تو نے
سو میں معنی کا دفتر ہو گیا ہوں
٭٭
اتنی کاوش بھی نہ کر میری اسیری کے لئے
تو کہیں میرا گرفتار نہ سمجھا جائے
٭٭٭
میری زبان آتشیں لو تھی مرے چراغ کی
میرا چراغ چپ نہ تھا تیز ہوا کے شور میں
سلیم احمد نے سترہ سال کی عمر میں 1944 ء میں شاعری شروع کر دی تھی۔وہ اپنے اچھوتے اور نئے اُسلوب ومضامین کے باعث ہمیشہ موضوعِ بحث رہے۔سلیم احمد کی شاعری دراصل ایک ادبی وسماجی مکالمے کی حیثیت رکھتی ہے۔یہی مکالمہ اُن کے تنقیدی مضامین میں مزید وسعت پاتا ہے۔بلاشبہ اُنہوں نے اپنی تنقید میں جوسوالات اُٹھائے وہ محض فن کی پیشہ ورانہ ضرورتوں کو پورا نہیں کرتے، بلکہ یہ زندگی سے اُبھرتے ہیں۔ اُنہوں نے محمد حسن عسکری کی طرح انسان اور آدمی کے مسئلے کو اپنا موضوع بنایا۔ اور اِسے ایک اور جہت سے آشنا کردیا۔ اُنہوں نے آج کے آدمی کے ادھورے پن کی نشاندہی کی اور پورے آدمی اور کسری آدمی کی بحث کو اپنی تنقید کامرکزی پہلو بنایا۔ سلیم احمد کی کتاب’’ نئی نظم اور پورا آدمی‘‘ نے پورے برصغیر کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔اُن کے تنقیدی مجموعات میں ادبی اقدار ، غالب کون؟، ادھوری جدیدیت،اقبال ایک شاعراور محمد حسن عسکری آدمی یاانسان شامل ہیں۔ یکم ستمبر 1983ء کو سلیم احمد کراچی میں وفات پاگئے اور پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔اردو ادب کی اس کہکشاں کی لوحِ مزار پر اُن کا ہی یہ شعر تحریر ہے:
ایک پتنگے نے یہ اپنے رقص آخر میں کہا
روشنی کے ساتھ رہئے روشنی بن جایئے
۔۔۔۔۔
سلیم احمد ایک بہت اچھے ڈرامہ نگار بھی تھے۔ انہوں نے ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لئے متعدد ڈرامے تحریر کئے، اخبارات میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلیات سلیم احمد سے منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس کا انکار بھی انکار نہ سمجھا جائے
ہم سے وہ یارِطرحدار نہ سمجھا جائے
اتنی کاوش بھی نہ کر میری اسیری کے لیے
تو کہیں میرا گرفتار نہ سمجھا جائے
اب جو ٹھہری ہے ملاقات تو اس شرط کے ساتھ
شوق کو درخورِ اظہار نہ سمجھا جائے
نالہ بلبل کا جو سنتا ہے تو کھل اُٹھتا ہے گل
عشق کو مفت کی بیگار نہ سمجھا جائے
عشق کو شاد کرے غم کا مقدر بدلے
حسن کو اتنا بھی مختار نہ سمجھا جائے
بڑھ چلا آج بہت حد سے جنونِ گستاخ
اب کہیں اس سے سرِ دار نہ سمجھا جائے
دل کے لینے سے سلیمؔ اُس کو نہیں ہے انکار
لیکن اس طرح کہ اقرار نہ سمجھا جائے
۔۔۔
جنابِ دل کی بھی خوش فہمیاں بلا کی ہیں
اسی سے داد کے طالب ہیں جس سے شاکی ہیں
جو چپ رہے ہیں کبھی لب بنازِ خوش گوئی
تو اس نگاہ نے ہزار ہا باتیں کی ہیں
خبر تو زُلف کی کچھ دے تری گلی کی ہوا
کہ الجھنیں تو وہی جانِ مبتلا کی ہیں
تمہارے حسن کی باتیں بھی لغزشیں ٹھہریں
تو لغزشیں یہ محبت میں با رہا کی ہیں
۔۔
ہر چند ہم نے اپنی زباں سے کہا نہیں
وہ حال کون سا ہے جو تونے سنا نہیں
ایسا بھی اب نہیں ہے کہ نازِ صبا اُٹھائیں
محفل میں دیکھتا ہے تو پہچانتا نہیں
یوں بھی ہزار روگ ہیں دل کو لگے ہوئے
پھر اس پہ یہ ملال کہ وہ پوچھتا نہیں
کتنا دیارِ درد کا موسم بدل گیا
تجھ کو نگاہِ ناز ابھی کچھ پتہ نہیں
تو بدگماں سہی پہ کبھی مل سلیمؔ سے
یہ امرِ واقعہ ہے کہ دل کا بُرا نہیں
۔۔
کسی محفل میں مدت سے غزل خواں ہم نہیں جاتے
کسے اب یاد ہیں وہ عہد و پیماں، ہم نہیں جاتے
نہ ہونے سے ہمارے کون ایسا فرق پڑتا ہے
خدا آباد رکھے بزمِ جاناں ۔۔ ہم نہیں جاتے
صبا کے ہاتھ خوشبو بھیج کر عہدِ بہاراں کی
ہمیں کیوں تنگ کرتے ہیں گلستاں، ہم نہیں جاتے
حرم کا پوچھنا کیا گھر خدا کا ہے مگر اے دل
وہاں تو سب کے سب ہوں گے مسلماں ہم نہیں جاتے
بلاوے تو بہت آئے مگر شہرِ نگاراں میں
وہی ہے امتیازِ جان و جاناں۔ ہم نہیں جاتے
۔
سلیمؔ نفع نہ کچھ تم کو نقدِ جاں سے اُٹھا
کہ مال کام کا جتنا تھا سب دکاں سے اُٹھا
بُرا لگا مرے ساقی کو ذکرِ تشنہ لبی
کہ یہ سوال مری بزم میں کہاں سے اُٹھا
تمام عمر کی محرومیوں کا حاصل تھا
وہ لطفِ خاص جو اک شب کے میہماں سے اُٹھا
۔۔
اتنا یاروں کو نہ سُوجھا کہ لگا کر لاتے
یوں نہ آتا تو کوئی بات بنا کر لاتے
جانے کیا بول اُٹھے دل کا ٹھکانہ کیا ہے
ایسے وَحشی کو تو پہلے سے پڑھا کر لاتے
یوں بھی سنتا ہے کہیں کوئی فسانہ غم کا
ایسے مضموں کو ذرا اور بنا کر لاتے
ہم تو اس بزم میں اے دل رہے تیری خاطر
کچھ اشارہ بھی جو پاتے تو بُلا کر لاتے
رنگِ محفل کی بڑی دھوم سنی ہے یارو
کیا بگڑ جاتا ہمیں بھی جو دکھا کر لاتے
آج ہی تم کو نہ آنا تھا چلو جاؤ سلیمؔ
ورنہ ہم آج تمہیں اس سے ملا کر لاتے
۔۔
ترک ان سے رسم و راہِ ملاقات ہو گئی
یوں مل گئے کہیں تو کوئی بات ہو گئی
دل تھا اُداس عالمِ غربت کی شام تھی
کیا وقت تھا کہ تجھ سے ملاقات ہو گئی
رسمِ جہاں نہ چھوٹ سکی ترکِ عشق سے
جب مل گئے تو پُرسشِ حالات ہو گئی
خو بُو رہی سہی تھی جو تجھ میں خلوص کی
اب وہ بھی نذرِ رسمِ عنایات ہو گئی
وہ دشتِ ہول خیز وہ منزل کی دھن وہ شوق
یہ بھی خبر نہیں کہ کہاں رات ہو گئی
کیوں اضطراب دل پہ تجھے آ گیا یقیں
اے بدگمانِ شوق یہ کیا بات ہو گئی
دلچسپ ہے سلیمؔ حکایت تری مگر
اب سو بھی جا کہ یار بہت رات ہو گئی
۔۔
مسلسل دید بھی شاید کبھی ہو
ابھی تو اس کے ڈر سے کانپتا ہوں
مرا دل جیسے ہمسائے کا گھر ہے
کبھی روزن سے خود کو جھانکتا ہوں
۔۔
جلا وطنی کے دن پورے ہوئے ہیں
حیاتِ تازہ پانے جا رہا ہوں
کیا ہے طُور کو زندہ کسی نے
میں پھر سے آگ لانے جا رہا ہوں
۔۔
میرا ماضی مرے پیچھے نہ آئے
مجھے یادوں کی اب فرصت نہیں ہے
نئے خوابوں میں اُلجھایا گیا ہوں
رہی تعبیر سو عُجلت نہیں ہے
۔۔
دل میں تھی کس کی طلب یاد نہیں
حال جو کل تھا وہ اب یاد نہیں
گریہء شب سے ہیں آنکھیں نم ناک
اور رونے کا سبب یاد نہیں
۔۔
کبھی اپنی خوشی پر شادماں ہوں
کبھی اپنے غموں پہ نوحہ خواں ہوں
تواضع خود ہی کر لیتا ہوں اپنی
میں اپنے گھر میں اپنا مہماں ہوں
۔۔
بھُلا بیٹھا تھا جس یادوں کو دل سے
وہی یادیں ہیں جن پر جی رہا ہوں
اُدھیڑا تھا جسے لاکھوں جتن سے
وہ پیراہن میں پھر سے سی رہا ہوں
۔۔
تمہارے دوش پر بھاری نہیں تھا
یہ احساس کس لیے فرما دیا ہے
عزیز اس قدر عُجلت بھی کیا تھی
مجھے زندہ ہی کیوں دفنا دیا ہے
۔۔


[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo