ردیف ” ضروری تو نہیں ” 15 شاعر پروین شاکر ……….

[ad_1] ردیف ” ضروری تو نہیں ” 15 شاعر
پروین شاکر
………………………..
میں بتا دوں تمہیں ہربات ضروری تو نہیں
آخری ہو یہ ملاقات ضروری تو نہیں
جیت جانا تمہیں دشوار نہیں لگتا تھا
آج بھی ہوگی مجھے مات ضروری تو نہیں
آدمی فہم و ذکاء سے ہے مزین لیکن
بند ہو جائے خرافات ضروری تو نہیں
دل کی راہوں پہ کڑا پہرا ہے خوش فہمی کا
مجھ سے کھیلیں میرے جذبات ضروری تو نہیں
امتحاں گاہ سے تو جاتے ہیں سبھی خوش ہوکر
ٹھیک ہوں سب کے جوابات ضروری تو نہیں
ممتحن میں تو تیرے نام سے لرزاں تھی مگر
تیرے تیکھے ہوں سوالات ضروری تو نہیں
مجھ کو انسان کی قدریں بھی بہت بھاتی ہیں
بیش قیمت ہوں جمادات ضروری تو نہیں
یوں تو زر اور زمیں بھی ہیں مگر عورت ہو
باعث وجہ فسادات ضروری تو نہیں
ہر نئے سال کی آمد پر یہ کیوں سوچتی ہوں
اب بدل جائیں گے حالات ضروری تو نہیں
ناسک اعجاز
………….
مشک و عنبر کی ہو برسات ضروری تو نہیں
چاندنی رات کی سوغات ضروری تو نہیں
اس کے سانسوں کی مہک دل میں ہر اک پل اترے
اس کے ہاتھوں میں رہیں ہاتھ ضروری تو نہیں
کیا یہ کم ہے کہ وہ ہمراز سمجھتا ہے مجھے
اب بتائے مجھے ہر بات ضروری تو نہیں
یوں بھی ہوتا ہے کہ برسات میں کلیاں ٹوٹیں
یہ خزاؤں کی عنایت ضروری تو نہیں
کیا ضروری ہے میری شام اسی سے مہکے
ریگزاروں میں ہرے پات ضروری تو نہیں
یہ ضروری تو نہیں لب میرے پھر ہوں زخمی
لمحہ لمحہ وہ حکایات ضروری تو نہیں
بھیگی بھیگی ہوئی پلکوں پہ سلگتی شبنم
خشک ہونٹوں پہ شکایات ضروری تو نہیں
میرا ٹوٹا ہوا احساس پکارے ناسک
روٹھے روٹھے ہوئے نغمات ضروری تو نہیں
خاموش دہلوی
…………………………..
عمر جلووں میں بسر ہو یہ ضروری تو نہیں
ہر شب غم کی سحر ہو یہ ضروری تو نہیں
نیند تو درد کے بستر پہ بھی آسکتی ہے
تیری آغوش میں سر ہو یہ ضروری تو نہیں
آگ کو کھیل پتنگوں نے سمجھ رکھا ہے
سب کو انجام کا ڈر ہو یہ ضروری تو نہیں
شیخ جو مسجد میں کرتا ہے خدا کو سجدے
اس کے سجدوں میں اثر ہو یہ ضروری تو نہیں
سب کی ساقی پہ نظر ہو یہ ضروری ہے مگر
سب پہ ساقی کی نظر ہو یہ ضروری تو نہیں
واصف علی واصف
…………………………………..
ان سے ہو روز ملاقات ضروری تو نہیں
ہو ملاقات میں کچھ بات ضروری تو نہیں
جام چھلکاتی ہو برسات ضروری تو نہیں
مے کشی رند خرابات ضروری تو نہیں
یوں تو ہر رات کی قسمت میں ہے سحر لیکن
ہاں مگر ہجر کی اک رات ضروری تو نہیں
ہے کوئی پردہ تخیل کے پیچھے نہاں
حسن پابندِ حجابات ضروری تو نہیں
چشم ساقی کا تلطف ہے مشیت واصف
سب پہ یکساں ہوں عنایات ضروری تو نہیں
——————
زاہدہ زیدی
(۱) وہ ہمیں راہ میں مل جائیں ضروری تو نہیں
خود بخود فاصلے مٹ جائیں ضروری تو نہیں
چاند چہرے کہ ہیں گم وقت کے سناٹے میں
ہم مگر ان کو بھلا پائیں ضروری تو نہیں
جن سے بچھڑے تھے تو تاریک تھی دنیا ساری
ہم انہیں ڈھونڈ کے پھر لائیں ضروری تو نہیں
تشنگی حد سے سوا اور سفر جاری ہے
پر سرابوں سے بہل جائیں ضروری تو نہیں
زندگی تو نے تو سچ ہے کہ وفا ہم سے نہ کی
ہم مگر خود تجھے ٹھکرائیں ضروری تو نہیں
جوئے احساس میں لرزاں یہ گریزاں لمحات
نغمہ’ درد میں ڈھل جائیں ضروری تو نہیں
یہ تو سچ ہے کہ اک عمر سے بس ایک تلاش
ہم مگر اپنا پتا پائیں ضروری تو نہیں
____________
رفیق خیال
مژدہ پھر لائے کوئی کل یہ ضروری تو نہیں
خواب سارے ہوں مکمل یہ ضروری تو نہیں
کوئی مجموعہ خوشبو رگِ جان میں اُترے
اور کر دے مجھے صندل یہ ضروری تو نہیں
راحت آگیں ہے بہت تیرا سراپا، لیکن
پوجا جائے تجھے ہر پل یہ ضروری تو نہیں
رنگ و نکہت میں نہاتا ہوا وہ ابرِ بہار
میرے گھر برسے مسلسل یہ ضروری تو نہیں
بڑا دلکش بنے تیرا دامِ محبت، لیکن
تُو مجھے کر لے مقفل یہ ضروری تو نہیں
ہجر کی دھوپ میں جلتی ہوئی اُمیدوں کو
سایہ بخشے ترا آنچل یہ ضروری تو نہیں
قیس و فرہاد ہوئے عشق میں دیوانے خیال
عشق میں ہم بھی ہوں پاگل یہ ضروری تو نہیں
__________
انور کاظمی
پھر کوئی تارا گرا ہو ، یہ ضر و ری تو نہیں
سو چ کر پھر د ل برا ہو ، یہ ضر و ری تو نہیں
یہ تو ممکن ہے کہ کو ئی اور ہو پیشِ نظر
ذہن میں بھی دوسرا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
و یسے تو پھر سے ہمیں ہنسنا سکھایا وقت نے
ز خمِ د ل بھی بھر گیا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
آنکھ ملنےَ کے لیے کچھ تو بہانہ چاہئے
آنکھ میں کچھ پڑ گیا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
اُس سے وہ اچھے مراسم نہ سہی پر دوستو
ہم بھلے اور وہ برُا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
طیش میں بیٹھے ہیں جتنا آپ اُس سے رُوٹھ کر
وہ بھی اِتنا ہی خفا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
ویسے تو ابتک تمہاری راہ تکتی ہے نظر
دل کو بھی کچھ آسرا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
ایک مصرعے سے جڑا ہو دوسرا مصرعہ کوئی
ہم وزن ہم قافیہ ہو ،إإإإ یہ ضروری تو نہیں
شاعری کیجئے مگر ہر شعر میں ا س شخص کی
بے وفائی کا گلا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
اُسکے بارے میں بہت کچھ شاعری میں کہہ دیا
لیکن ہم نے سچ کہا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
گرچہ ہم نے آپ سے ترکِ تعلق کر لیا
پر ہمیں اچھا لگا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
و یسے تو بیٹھے ہیں انور دوستوں کے درمیاں
دل بھی ا نکا لگ رہا ہو یہ ضروری تو نہیں
————-
صبا اکبرآبادی
اس کو بھی ہم سے محبت ہو ضروری تو نہیں
عشق ہی عشق کی قیمت ہو ضروری تو نہیں
ایک دن آپ کی برہم نگہی دیکھ چکے
روز اک تازہ قیامت ہوضروری تو نہیں
میری شمعوں کو ہواؤں نے بجھایا ہوگا
یہ بھی ان کی شرارت ہو ضروری تو نہیں
اہلِ دنیا سے مراسم بھی برتنے ہوں گے
ہر نفس صرف عبادت ہو ضروری تو نہیں
دوستی آپ سے لازم ہے مگر اس کے لئے
ساری دنیا سے عداوت ہو ضروری تو نہیں
پرسش حال ہو تم آؤ گے اس وقت مجھے
لب لانے کی بھی طاقت ہو ضروری تو نہیں
باہمی ربط میں رنجش بھی مزا دیتی ہے
بس محبت ہی محبت ہو ضروری تو نہیں
ایک مصرع بھی جو زندہ رہے کافی ہے صبا
میرے ہر شعر کی شہرت ہو ضروری تو نہیں
——————–
شاہین فصیح ربانی
زیست میں ہو کوئی ترتیب ضروری تو نہیں
لوگ ہوں تابعِ تہذیب ضروری تو نہیں
مہربانوں نے بلایا ہے محبت سے مگر
راس آ جائے وہ تقریب ضروری تو نہیں
آپ جھٹلائیں مجھے، آپ کا ہے ظرف مگر
میں کروں آپ کی تکذیب، ضروری تو نہیں
دوست بھی تو مری تعمیر سے خائف ہوں گے
ہوں عدو ہی پسِ تخریب، ضروری تو نہیں
مجھ کو بچنا ہے جدائی کے کٹھن لمحوں سے
گارگر ہو مری ترکیب ضروری تو نہیں
آپ ہو جائیں محبت میں وفا پر مائل
رنگ لائے مری ترغیب ضروری تو نہیں
بہتری لائیے کچھ اپنے رویے میں فصیح
بات بے بات ہو تادیب، ضروری تو نہیں
————-

زکریا شاد
نہ بنے آنکھ کا تارا یہ ضروری تو نہیں
ہو کوئی چاند سا پیارا، یہ ضروری تو نہیں
فائدہ ایک ہو سب کا، یہ تو ہو سکتا ہے
ایک جیسا ہو خسارہ، یہ ضروری تو نہیں
یہ بھی ممکن ہے کہ پردہ کوئی پردہ ہی نہ ہو
اور نظارہ ہو نظارہ، یہ ضروری تو نہیں
یہ الگ بات، کہ ہم ٹوٹ کے چاہیں، لیکن
کوئی بن جائے ہمارا، یہ ضروری تو نہیں
میں جو چاہوں تو حقیقت میں بھی مل سکتا ہوں
خواب دیکھوں میں تمہارا، یہ ضروری تو نہیں
یوں تو اس حسن کو پڑھتا ہوں میں صفحہ صفحہ
یاد ہو جائے وہ سارا، یہ ضروری تو نہیں
پیار کی پینگ جو چڑھتا ہے، اترتا ہے کہاں
دے کوئی شاذؔ ہلارا، یہ ضروری تو نہیں
————————-
ریحانہ قمر
اب خوشی روح میں در آئے ضروری تو نہیں
کوئی اچھی ہی خبر آئے ضروری تو نہیں
یہ پرندہ جو اڑا جاتا ہے مہتاب کے ساتھ
میرے آنگن میں اتر آئے ضروری تو نہیں
جو مجھے دل میں نظر آتا ہے چلتا پھرتا
وہ کہیں اور نظر آئے ضروری تو نہیں
آنکھ میں خواب کی کلیاں بھی تو کھل سکتی ہیں
آنکھ میں اشک ہی بھر آئے ضروری تو نہیں
جو تیرے دل سے کسی خوف کی مانند گیا
یاد وہ تجھ کو قمرؔ آئے ضروری تو نہیں
____________
اسد قریشی
کہکشاں راہگزر ہو یہ ضروری تو نہیں
زندگی عیش بسر ہو یہ ضروری تو نہیں
اُس کی خاموش نظر ہو یہ ضروری تو نہیں
خَمِ ابرو میں اثر ہو یہ ضروری تو نہیں
ہم میں بھی کوئِ گہر ہو یہ ضروری تو نہیں
کوئی ہم سا بھی مگر ہو یہ ضروری تو نہیں
مندمل زخمِ جگر ہو یہ ضروری تو نہیں
چارہگر تجھ میں ہنر ہو یہ ضروری تو نہیں
تشنگی جامِ حذر ہو یہ ضروری تو نہیں
“سب پہ ساقی کی نظر ہو یہ ضروری تو نہیں”
—————–
عائشہ خان
خسارے زندگی کا حاصل ہوں یہ ضروری تو نہیں
ہم بازی جیت کے ہارے ہوں یہ ضروری تو نہیں
جلی ہے تیری محفل جو گلہ نہ کر مجھ سے تو
وہ میری آہوں کے شرارے ہوں یہ ضروری تو نہیں
سنا ہے پار لگائے گا سفینہ میری چاہت کا
دریائے الفت کے کنارے ہوں یہ ضروری تو نہیں
عمر بھر کی ریاضتیں اک وفا کی نظر ہو ئیں
ہم تم قسمت کے مارے ہوں یہ ضروری تو نہیں
جدا ہو گیا مجھ سے وہ شخص جسے میرا ہونا تھا
عائش میں نے اشک بہائے ہوں یہ ضروری تو نہیں
_________
اسماعیل اعجاز خیال
تم مجھے اپنا بناؤ یہ ضروری تو نہیں
اپنے دل میں بھی بساؤ یہ ضروری تو نہیں
میری راحت اور سکوں کا تم سے ہے گر واسطہ
زندگی میں میری آؤ یہ ضروری تو نہیں
تم جیو ہر پل خوشی سے زندگی پیکر جمال
ہر کوئی خوش باش پاؤ یہ ضروری تو نہیں
میں تمہیں جو چاہتا ہوں وہ ضرورت ہے مری
تم بھی اب الفت جتاؤ یہ ضروری تو نہیں
ساتھ جب تم دے نہ پائے رک گیا میرا سفر
میرے بن تم چل نہ پاؤ یہ ضروری تو نہیں
تم تصوّر میں میری مسکان بن کر آئے ہو
سنگ میرے مسکراؤ یہ ضروری تو نہیں
غم خوشی یا دھوپ چھاؤں ، زندگی کے روپ ہیں
پیار کا موسم ہی پاؤ یہ ضروری تو نہیں
بدلے رُخ سے آج موسم میں ہے تبدیلی خیالؔ
تم کسی سے دل لگاؤ یہ ضروری تو نہیں
____________
نکہت نسیم
دل ہو اک بار ہی آباد ضروری تو نہیں ،
عشق پہلا ہی رہے یاد ضروری تو نہیں
……
بشکریہ بحر سے خارج


ردیف ” ضروری تو نہیں ” 15 شاعر
پروین شاکر
………………………..
میں بتا دوں تمہیں ہربات ضروری تو نہیں
آخری ہو یہ ملاقات ضروری تو نہیں
جیت جانا تمہیں دشوار نہیں لگتا تھا
آج بھی ہوگی مجھے مات ضروری تو نہیں
آدمی فہم و ذکاء سے ہے مزین لیکن
بند ہو جائے خرافات ضروری تو نہیں
دل کی راہوں پہ کڑا پہرا ہے خوش فہمی کا
مجھ سے کھیلیں میرے جذبات ضروری تو نہیں
امتحاں گاہ سے تو جاتے ہیں سبھی خوش ہوکر
ٹھیک ہوں سب کے جوابات ضروری تو نہیں
ممتحن میں تو تیرے نام سے لرزاں تھی مگر
تیرے تیکھے ہوں سوالات ضروری تو نہیں
مجھ کو انسان کی قدریں بھی بہت بھاتی ہیں
بیش قیمت ہوں جمادات ضروری تو نہیں
یوں تو زر اور زمیں بھی ہیں مگر عورت ہو
باعث وجہ فسادات ضروری تو نہیں
ہر نئے سال کی آمد پر یہ کیوں سوچتی ہوں
اب بدل جائیں گے حالات ضروری تو نہیں
ناسک اعجاز
………….
مشک و عنبر کی ہو برسات ضروری تو نہیں
چاندنی رات کی سوغات ضروری تو نہیں
اس کے سانسوں کی مہک دل میں ہر اک پل اترے
اس کے ہاتھوں میں رہیں ہاتھ ضروری تو نہیں
کیا یہ کم ہے کہ وہ ہمراز سمجھتا ہے مجھے
اب بتائے مجھے ہر بات ضروری تو نہیں
یوں بھی ہوتا ہے کہ برسات میں کلیاں ٹوٹیں
یہ خزاؤں کی عنایت ضروری تو نہیں
کیا ضروری ہے میری شام اسی سے مہکے
ریگزاروں میں ہرے پات ضروری تو نہیں
یہ ضروری تو نہیں لب میرے پھر ہوں زخمی
لمحہ لمحہ وہ حکایات ضروری تو نہیں
بھیگی بھیگی ہوئی پلکوں پہ سلگتی شبنم
خشک ہونٹوں پہ شکایات ضروری تو نہیں
میرا ٹوٹا ہوا احساس پکارے ناسک
روٹھے روٹھے ہوئے نغمات ضروری تو نہیں
خاموش دہلوی
…………………………..
عمر جلووں میں بسر ہو یہ ضروری تو نہیں
ہر شب غم کی سحر ہو یہ ضروری تو نہیں
نیند تو درد کے بستر پہ بھی آسکتی ہے
تیری آغوش میں سر ہو یہ ضروری تو نہیں
آگ کو کھیل پتنگوں نے سمجھ رکھا ہے
سب کو انجام کا ڈر ہو یہ ضروری تو نہیں
شیخ جو مسجد میں کرتا ہے خدا کو سجدے
اس کے سجدوں میں اثر ہو یہ ضروری تو نہیں
سب کی ساقی پہ نظر ہو یہ ضروری ہے مگر
سب پہ ساقی کی نظر ہو یہ ضروری تو نہیں
واصف علی واصف
…………………………………..
ان سے ہو روز ملاقات ضروری تو نہیں
ہو ملاقات میں کچھ بات ضروری تو نہیں
جام چھلکاتی ہو برسات ضروری تو نہیں
مے کشی رند خرابات ضروری تو نہیں
یوں تو ہر رات کی قسمت میں ہے سحر لیکن
ہاں مگر ہجر کی اک رات ضروری تو نہیں
ہے کوئی پردہ تخیل کے پیچھے نہاں
حسن پابندِ حجابات ضروری تو نہیں
چشم ساقی کا تلطف ہے مشیت واصف
سب پہ یکساں ہوں عنایات ضروری تو نہیں
——————
زاہدہ زیدی
(۱) وہ ہمیں راہ میں مل جائیں ضروری تو نہیں
خود بخود فاصلے مٹ جائیں ضروری تو نہیں
چاند چہرے کہ ہیں گم وقت کے سناٹے میں
ہم مگر ان کو بھلا پائیں ضروری تو نہیں
جن سے بچھڑے تھے تو تاریک تھی دنیا ساری
ہم انہیں ڈھونڈ کے پھر لائیں ضروری تو نہیں
تشنگی حد سے سوا اور سفر جاری ہے
پر سرابوں سے بہل جائیں ضروری تو نہیں
زندگی تو نے تو سچ ہے کہ وفا ہم سے نہ کی
ہم مگر خود تجھے ٹھکرائیں ضروری تو نہیں
جوئے احساس میں لرزاں یہ گریزاں لمحات
نغمہ’ درد میں ڈھل جائیں ضروری تو نہیں
یہ تو سچ ہے کہ اک عمر سے بس ایک تلاش
ہم مگر اپنا پتا پائیں ضروری تو نہیں
____________
رفیق خیال
مژدہ پھر لائے کوئی کل یہ ضروری تو نہیں
خواب سارے ہوں مکمل یہ ضروری تو نہیں
کوئی مجموعہ خوشبو رگِ جان میں اُترے
اور کر دے مجھے صندل یہ ضروری تو نہیں
راحت آگیں ہے بہت تیرا سراپا، لیکن
پوجا جائے تجھے ہر پل یہ ضروری تو نہیں
رنگ و نکہت میں نہاتا ہوا وہ ابرِ بہار
میرے گھر برسے مسلسل یہ ضروری تو نہیں
بڑا دلکش بنے تیرا دامِ محبت، لیکن
تُو مجھے کر لے مقفل یہ ضروری تو نہیں
ہجر کی دھوپ میں جلتی ہوئی اُمیدوں کو
سایہ بخشے ترا آنچل یہ ضروری تو نہیں
قیس و فرہاد ہوئے عشق میں دیوانے خیال
عشق میں ہم بھی ہوں پاگل یہ ضروری تو نہیں
__________
انور کاظمی
پھر کوئی تارا گرا ہو ، یہ ضر و ری تو نہیں
سو چ کر پھر د ل برا ہو ، یہ ضر و ری تو نہیں
یہ تو ممکن ہے کہ کو ئی اور ہو پیشِ نظر
ذہن میں بھی دوسرا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
و یسے تو پھر سے ہمیں ہنسنا سکھایا وقت نے
ز خمِ د ل بھی بھر گیا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
آنکھ ملنےَ کے لیے کچھ تو بہانہ چاہئے
آنکھ میں کچھ پڑ گیا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
اُس سے وہ اچھے مراسم نہ سہی پر دوستو
ہم بھلے اور وہ برُا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
طیش میں بیٹھے ہیں جتنا آپ اُس سے رُوٹھ کر
وہ بھی اِتنا ہی خفا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
ویسے تو ابتک تمہاری راہ تکتی ہے نظر
دل کو بھی کچھ آسرا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
ایک مصرعے سے جڑا ہو دوسرا مصرعہ کوئی
ہم وزن ہم قافیہ ہو ،إإإإ یہ ضروری تو نہیں
شاعری کیجئے مگر ہر شعر میں ا س شخص کی
بے وفائی کا گلا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
اُسکے بارے میں بہت کچھ شاعری میں کہہ دیا
لیکن ہم نے سچ کہا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
گرچہ ہم نے آپ سے ترکِ تعلق کر لیا
پر ہمیں اچھا لگا ہو ، یہ ضروری تو نہیں
و یسے تو بیٹھے ہیں انور دوستوں کے درمیاں
دل بھی ا نکا لگ رہا ہو یہ ضروری تو نہیں
————-
صبا اکبرآبادی
اس کو بھی ہم سے محبت ہو ضروری تو نہیں
عشق ہی عشق کی قیمت ہو ضروری تو نہیں
ایک دن آپ کی برہم نگہی دیکھ چکے
روز اک تازہ قیامت ہوضروری تو نہیں
میری شمعوں کو ہواؤں نے بجھایا ہوگا
یہ بھی ان کی شرارت ہو ضروری تو نہیں
اہلِ دنیا سے مراسم بھی برتنے ہوں گے
ہر نفس صرف عبادت ہو ضروری تو نہیں
دوستی آپ سے لازم ہے مگر اس کے لئے
ساری دنیا سے عداوت ہو ضروری تو نہیں
پرسش حال ہو تم آؤ گے اس وقت مجھے
لب لانے کی بھی طاقت ہو ضروری تو نہیں
باہمی ربط میں رنجش بھی مزا دیتی ہے
بس محبت ہی محبت ہو ضروری تو نہیں
ایک مصرع بھی جو زندہ رہے کافی ہے صبا
میرے ہر شعر کی شہرت ہو ضروری تو نہیں
——————–
شاہین فصیح ربانی
زیست میں ہو کوئی ترتیب ضروری تو نہیں
لوگ ہوں تابعِ تہذیب ضروری تو نہیں
مہربانوں نے بلایا ہے محبت سے مگر
راس آ جائے وہ تقریب ضروری تو نہیں
آپ جھٹلائیں مجھے، آپ کا ہے ظرف مگر
میں کروں آپ کی تکذیب، ضروری تو نہیں
دوست بھی تو مری تعمیر سے خائف ہوں گے
ہوں عدو ہی پسِ تخریب، ضروری تو نہیں
مجھ کو بچنا ہے جدائی کے کٹھن لمحوں سے
گارگر ہو مری ترکیب ضروری تو نہیں
آپ ہو جائیں محبت میں وفا پر مائل
رنگ لائے مری ترغیب ضروری تو نہیں
بہتری لائیے کچھ اپنے رویے میں فصیح
بات بے بات ہو تادیب، ضروری تو نہیں
————-

زکریا شاد
نہ بنے آنکھ کا تارا یہ ضروری تو نہیں
ہو کوئی چاند سا پیارا، یہ ضروری تو نہیں
فائدہ ایک ہو سب کا، یہ تو ہو سکتا ہے
ایک جیسا ہو خسارہ، یہ ضروری تو نہیں
یہ بھی ممکن ہے کہ پردہ کوئی پردہ ہی نہ ہو
اور نظارہ ہو نظارہ، یہ ضروری تو نہیں
یہ الگ بات، کہ ہم ٹوٹ کے چاہیں، لیکن
کوئی بن جائے ہمارا، یہ ضروری تو نہیں
میں جو چاہوں تو حقیقت میں بھی مل سکتا ہوں
خواب دیکھوں میں تمہارا، یہ ضروری تو نہیں
یوں تو اس حسن کو پڑھتا ہوں میں صفحہ صفحہ
یاد ہو جائے وہ سارا، یہ ضروری تو نہیں
پیار کی پینگ جو چڑھتا ہے، اترتا ہے کہاں
دے کوئی شاذؔ ہلارا، یہ ضروری تو نہیں
————————-
ریحانہ قمر
اب خوشی روح میں در آئے ضروری تو نہیں
کوئی اچھی ہی خبر آئے ضروری تو نہیں
یہ پرندہ جو اڑا جاتا ہے مہتاب کے ساتھ
میرے آنگن میں اتر آئے ضروری تو نہیں
جو مجھے دل میں نظر آتا ہے چلتا پھرتا
وہ کہیں اور نظر آئے ضروری تو نہیں
آنکھ میں خواب کی کلیاں بھی تو کھل سکتی ہیں
آنکھ میں اشک ہی بھر آئے ضروری تو نہیں
جو تیرے دل سے کسی خوف کی مانند گیا
یاد وہ تجھ کو قمرؔ آئے ضروری تو نہیں
____________
اسد قریشی
کہکشاں راہگزر ہو یہ ضروری تو نہیں
زندگی عیش بسر ہو یہ ضروری تو نہیں
اُس کی خاموش نظر ہو یہ ضروری تو نہیں
خَمِ ابرو میں اثر ہو یہ ضروری تو نہیں
ہم میں بھی کوئِ گہر ہو یہ ضروری تو نہیں
کوئی ہم سا بھی مگر ہو یہ ضروری تو نہیں
مندمل زخمِ جگر ہو یہ ضروری تو نہیں
چارہگر تجھ میں ہنر ہو یہ ضروری تو نہیں
تشنگی جامِ حذر ہو یہ ضروری تو نہیں
“سب پہ ساقی کی نظر ہو یہ ضروری تو نہیں”
—————–
عائشہ خان
خسارے زندگی کا حاصل ہوں یہ ضروری تو نہیں
ہم بازی جیت کے ہارے ہوں یہ ضروری تو نہیں
جلی ہے تیری محفل جو گلہ نہ کر مجھ سے تو
وہ میری آہوں کے شرارے ہوں یہ ضروری تو نہیں
سنا ہے پار لگائے گا سفینہ میری چاہت کا
دریائے الفت کے کنارے ہوں یہ ضروری تو نہیں
عمر بھر کی ریاضتیں اک وفا کی نظر ہو ئیں
ہم تم قسمت کے مارے ہوں یہ ضروری تو نہیں
جدا ہو گیا مجھ سے وہ شخص جسے میرا ہونا تھا
عائش میں نے اشک بہائے ہوں یہ ضروری تو نہیں
_________
اسماعیل اعجاز خیال
تم مجھے اپنا بناؤ یہ ضروری تو نہیں
اپنے دل میں بھی بساؤ یہ ضروری تو نہیں
میری راحت اور سکوں کا تم سے ہے گر واسطہ
زندگی میں میری آؤ یہ ضروری تو نہیں
تم جیو ہر پل خوشی سے زندگی پیکر جمال
ہر کوئی خوش باش پاؤ یہ ضروری تو نہیں
میں تمہیں جو چاہتا ہوں وہ ضرورت ہے مری
تم بھی اب الفت جتاؤ یہ ضروری تو نہیں
ساتھ جب تم دے نہ پائے رک گیا میرا سفر
میرے بن تم چل نہ پاؤ یہ ضروری تو نہیں
تم تصوّر میں میری مسکان بن کر آئے ہو
سنگ میرے مسکراؤ یہ ضروری تو نہیں
غم خوشی یا دھوپ چھاؤں ، زندگی کے روپ ہیں
پیار کا موسم ہی پاؤ یہ ضروری تو نہیں
بدلے رُخ سے آج موسم میں ہے تبدیلی خیالؔ
تم کسی سے دل لگاؤ یہ ضروری تو نہیں
____________
نکہت نسیم
دل ہو اک بار ہی آباد ضروری تو نہیں ،
عشق پہلا ہی رہے یاد ضروری تو نہیں
……
بشکریہ بحر سے خارج
[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo