خواجہ عزیز الحسن مجذوبؔ کی برسی August 17, 1944 …

[ad_1] خواجہ عزیز الحسن مجذوبؔ کی برسی
August 17, 1944

حضرت خواجہ عزیز الحسن مجذوبؔ کی ولادت 16 شعبان 1301ھ بمطابق 12 جون 1884ء بروز چہار شنبہ صبح صادق کے وقت ہوئی۔تاریخی نام مرغوب احمد ہے ۔ ہمایوں کے عہد میں آپ کے اجداد میں سے کوئی بزرگ الٰہ داد بن خواجہ غوری تھے ۔ اس لۓ آپ کو اور آپ کے خاندان کو غوری کہا جاتا ہے ۔ آباؤ اجداد کا وطن ریاست بھرتپور کا ایک قصبہ آباد عرف ندبئی ہے۔ جس کے متعلق مشہور ہے کہ یہ بھی ان بارہ بستیوں میں سے ایک ہے جو سلطان شہاب الدین غوری نے بسائی تھیں ۔اس میں آپ کا محلہ نامہ ” غوری پاڑہ” آپ کے خاندان کی مناسبت سے ہے ۔ آپ کے والد گرامی خواجہ عزیز اللہ صاحبؒ نے جو ایک قابل وکیل ،معزز با وضع بزرگ اور حاجی امداد اللہ صاحبؒ سے بیعت تھے،اورئی ضلع جالوں بسلسلہ وکالت قیام فرمایا تھا ۔ اس لۓ خواجہ صاحب کا مولد و مسکن یہی مقام ہے۔ آپ شیوخ میں سے ہیں اور آپ کے خاندان کے افراد بڑے عہدوں پر معزز سرفراز رہے ہیں ۔ آپ نے علیگڑھ یونیورسٹی سے بی۔اے کیا ۔ انگریزی رعلیم کے زمانہ میں بھی اسلامی وضع قطع اور طریقہ کے پوری طرح پابند رہے۔ حضرت مولانا تھانویؒ سے بھی اسی زمانہ میں عقیدت و تعلق پیدا ہو گیا تھا ۔ شعر بھی اسی زمانہ سے فرمانے لگے تھے ۔ پہلے حسنؔ تخلص کرتے تھے اور بعد میں مجذوبؔ کر لیا ۔ آپ کا شمار ملک کے مشاہیر شعراء میں ہوتا تھا۔ آپ بڑے ادبی اجتماعات اور آل انڈیا مشاعروں میں مدعو کۓ جاتے تھے ۔ آپ نے بہت سے مشاعروں کی صدارت بھی فرمائی ۔ آپ اولاً ڈپٹی کلکٹر رہے ، لیکن بعض شرعی مجبوریوں سے آپ نے اس کو پسند نہیں فرمایا۔اور ڈپٹی انسپکٹر تعلیم کے عہدہ پر تبادلہ کرا لیا ۔ حکومت نے آپ کی بلند شخصیت کا اعتراف کرتے ہوۓ اول خان صاحب ( یہ تخؒص آپ کی طبیعت کی مناسبت سے حجرت تھانویؒ نے تحریر فرمایا تھا ۔ حجرت مجذوب نے اس خطاب کی جا قدر کی اس پر ان کا شعر سنیۓ

بنایا ہے مجذوبؔ کو خان صاحب
بہت ہی یہ ہوتے ہیں نادان صاحب

اور پھر ” خان بہادر” کا خطاب دیا ۔ آپ نے انسپکٹری کے عہدہ سے پنشن حاصل کی اور پھر زیادہ وقت آپ کا خانقاہ امدادیہ اور اشرفیہ تھانہ بھون میں گزرا ۔ آپ حجرت مولانا تھانویؒ کے ارشد خلفاء میں سے تھے۔آپ نے شعر و شاعری کے ساتھ ہمیشہ صلاح و تقویٰ کی زندگی گزاری ۔ گلستان عالم میں ایک مدت تک نغمہ سرائی کے بعد 27 شعبان 1363ھ بمطابق 17 اگست 1944ء صبح 8 آٹھ بجے یہ بلبل چمنستان اشرفیہ ہمیشہ ہمیشہ کے لۓ خاموش ہو گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حمد
ظاہر مطیع و باطن ذکر مدام تیرا
زندہ رہوں الٰہی ہو کر تمام تیرا

بگڑے نظام دین کو میرے بھی ٹھیک کر دے
ہر دوسرا میں کیا کیا ہے انتظام تیرا

باطن میں میرے یارب بس جاۓ یاد تیری
ہر دم رہے حجوری دل ہو مقام تیرا

مونس ہو میری جاں کی فکر مدام تیری
ہمدم ہو میرے دل کا فکرِ دوام تیرا

دل کو لگی رہے دھن لیل و نہار تیری
مذکور ہو زباں پر ہر صبح و شام تیرا

مورد رہے یہ ہر دم تیری تجلیوں کا
ہو جاۓ قلب میرا بیت الحرام تیرا

سینہ میں ہو منقش یارب کتاب تیری
جاری رہے زباں پر ہر دم کلام تیرا

ہے خوبی دو عالم اک حسن خاتمہ پر
کرنا سر اس مہم کا ادنٰی ہے کام تیرا

رگ رگ میں مرتے دم ہو صدق یقیں کے باعث
تیرے نبی کی وقعت اور احترام تیرا

اپنے کرم سے کرنا مجھ کو بھی ان میں شامل
جن پر عذاب ہو گا یارب حرام تیرا

محشر میں ہو پہنچ کر اس تشنہ لب کو حاصل
تیرے نبی کے ہاتھوں کوثر کا جام تیرا

دونوں جہاں میں مجھکو مطلوب تو ہی تو ہے
ہو پختہ کارِ وحدت مجذوبؔ خام تیرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعت
یادگارِ مدینہ
کہاں ہند میں وہ بہارِ مدینہ
بس اب میں ہوں اور یادگارِ مدینہ

مرا دل ہے اک اختصارِ مدینہ
کہ اس میں بسا ہے دیارِ مدینہ

زہے عرزت و افتخارِ مدینہ
شہِ دوجہاں تاجدارِ مدینہ

ہے عرش آشیاں خاکسارِ مدینہ
ہے کرسی نشیں جو ہے خوارِ مدینہ

کریں کچھ یونہی شوق دل اپنا پورا
کریں آؤ ذکرِ دیارِ مدینہ

وہ ہر سو کھجوروں کی دلکش قطاریں
وہ کہسار وہ سر سبز زارِ مدینہ

وہ مسجد وہ روضہ وہ جنت کا ٹکڑا
خوشا منظرِ پُر بہارِ مدینہ

نگینہ زمرد کا ہے سبز گنبد
اور انگشتری کوہسارِ مدینہ

وہ دن حاصلِ زندگی ہیں جو گزرے
بآغوشِ لیل و نہار مدینہ

کہاں جی لگے میرا باغِ جہاں میں
ہے آنکھوں میں میری بہارِ مدینہ

میسر ہے ہر وقت مجھکو زیارت
میں ہوں محو یادِ مزارِ مدینہ

کہیں جاؤں طیبہ ہی پیش نظر ہے
مجھے کل جہاں ہے جوارِ مدینہ

ادھر دیکھ ادھر اے میری چشمِ حسرت
میں دل میں لۓ ہوں بہارِ مدینہ

وہاں سے میں حبِ نبیﷺ دل میں لایا
یہی تحفہ ہے یادگارِ مدینہ

میسر ہو پھر اس کو یارب زیارت
کہ مجذوبؔ ہے اشکبار مدینہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزلیں
ادھر دیکھ لینا ادھر دیکھ لینا
پھر ان کا مجھے اک نظر دیکھ لینا

دکھائیں گی آہیں اثر دیکھ لینا
وہ آئیں گے تھامے جگر دیکھ لینا

انھیں اک نظر چشمِ تر دیکھ لینا
رُلاۓ گا خوں عمر بھر دیکھ لینا

یہ کر دے نہ مجذوبؔ محرومِ سجدہ
انھیں چار سُو جلوہ گر دیکھ لینا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رحم کھا کر وہ کبھی جلوہ دکھا بھی دے گا
جس نے درد دیا ہے وہ دوا بھی دے گا

نقشِ باطل کو میرے دل سے مٹا بھی دے گا
اپنا نقشہ وہ مرے دل میں جما بھی دے گا

چہرہ و چشم کے آثار چھلیں گے کس سے
دل کے ان نالوں کو عاشق جو دبا بھی دے گا

یہ تغافل ہے غضب کچھ تو ملے دادِ وفا
ہم تو سمجھیں گے جزا اگر وہ سزا بھی دے گا

وجہ شادابئی گلزار ہے بارانِ بہار
صبر کر جس نے رلایا ہے ہنسا بھی دے گا

اپنی ہی بزم میں رکھنا اسے ناکام مجھے
مسکرا کر وہ کبھی دل کو بڑھا بھی دے گا

خدمتِ عشق میں اے دل تو کۓ جانا
رحم کھا کر وہ کبھی آہِ رسا بھی دے گا

بزم الفت میں مدِ نظر پاسِ ادب
جس نے محفل میں بٹھایا ہے اٹھا بھی دے گا

کر کے کشتوں کو تہ خاک انھیں یاد آئی
ہاں شہادت تو یہ خونِ شہداء بھی دے گا

دختر رز سے بہت دل نہ لگاۓ کوئی
ٹوٹ کر شیشہء دل اب یہ صدا بھی دے گا

باریابی کی میں شرطوں کا خلاصہ سمجھا
وہی پہنچے گا جو آپے کو مٹا بھی دے گا

سرد ہو جاۓ گا دنیا سے دل اپنا اک دن
غم ہی خود بڑھ کر مرے غم کو گھٹا بھی دے گا

اس کی ٹکسال میں گر عشق کی چوٹیں سہہ لیں
دل کے بگڑے ہوۓ سکہ کو چلا بھی دے گا

ہے یہ کیوں شکوہء صیقل گر آئینہ دل
کیوں نہ مٹی میں ملاۓ وہ جلا بھی دے گا

اک جہاں میں دل غدار تھا مشہورِ وفا
کیا خبر تھی کہ یہ کمبخت دغا بھی دے گا

وعدہء حشر پہ کیا شاد ہو جانِ حزیں
اس قدر عرصہ تو وعدے کو بھلا ہی دے گا

خانہء ویرانی دل پر نہ کڑھے عاشق زار
جس نے اس گھر کو اجاڑا ہے بسا بھی دے گا

ہوش آتے ہی نہ جاۓ گا سودا ان کا
وہ اگر لخلخلہ زلیف سنگھا بھی دے گا

کثرتِ خندہ سے آنسو بھی نکل آتے ہیں
یہ بہت ہنسنا ترا تجھ کو رلا بھی دے گا

بے جھجک شوق سے ہاں مٹنے پہ ہو جا تیار
بے نشاں کر کے وہ کچھ اپنا پتہ بھی دے گا

دل گم گشتہ کو ڈھونڈیں گے بیابانوں میں
کچھ پتا ہم کو وہ نقشِ کفِ پا بھی دے گا

تا بہ کہ اس کی طلب رہے یہ سرگرداں
ایک دن پیک نفس کو وہ تھکا بھی دے گا

اے صبا ٹھہر!لۓ جا خبر مرگ مری
ایک پیغام یہ مجبورِ وفا بھی دے گا

ایسے کم بخت کو کرتے تو ہو خدمت میں قبول
دل مرا کچھ تمھیں زحمت کے سوا بھی دے گا

کر سکا شور جرس کا تو نہ بیدار اسے
پاۓ خفتہ کو مرے کوئی جگا بھی دے گا

ہاں کوئی مر تو مٹے اے دل نادان ان پر
لطف الطاف پھر آزارِ جفا بھی دے گا

بددعا ہو گی وہ بیمارِ محبت کے لۓ
اس کو صحت کی اگر کوئی دعا بھی دے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

slot online gacor Situs IDN Poker Terpercaya slot hoki rtp slot gacor slot deposit pulsa
Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo