سورہ القصص 28 شروع اللہ کے نام سے جو بڑامہربان، ن…

[ad_1] سورہ القصص 28

شروع اللہ کے نام سے جو بڑامہربان، نہایت رحم والا ہے۔

1۔ طٰسٓمّٓ۔

2۔ یہ واضح کتاب کی آیتیں ہیں۔

3۔ ہم موسیٰ اور فرعون کا کچھ حال تم کو ٹھیک ٹھیک سناتے ہیں، ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائیں۔

4۔بے شک فرعون نے زمین میں سر کشی کی۔ اور اس نے اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کردیا۔ ان میں سے ایک گروہ کو اس نے کمزور کر رکھا تھا۔ وہ ان کے لڑکوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا تھا۔ بے شک وہ فساد کرنے والوں میں سے تھا۔

5۔ اور ہم چاہتے تھے کہ ان لوگوں پر احسان کریں جو زمین میں کمزور کردئے گئے تھے اور ان کو پیشوا بنائیں اور ان کو وارث بنادیں۔

6۔ اور ان کو زمین میں اقتدار عطا کریں۔ اور فرعون اور ہامان اور ان کی فوجوںکو ان سے وہی دکھادیں جس سے وہ ڈرتے تھے۔

7۔ اور ہم نے موسیٰ کی ماں کو الہام کیا کہ اس کو دودھ پلاؤ۔ پھر جب تم کو اس کی بابت ڈر ہو تو اس کو دریا میں ڈال دو۔ اور نہ اندیشہ کرو اور نہ غمگین ہو۔ ہم اس کو تمھارے پاس لوٹا کر لائیں گے۔ اور اس کو پیغمبروں میں سے بنائیں گے۔

8۔ پھر اس کو فرعون کے گھر والوں نے اٹھالیا، تاکہ وہ ان کے لئے دشمن ہو اور غم کا باعث بنے۔ بے شک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر خطا کار تھے۔

9۔ اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ یہ آنکھ کی ٹھنڈک ہے، میرے لئے اور تمھارے لئے۔ اس کو قتل نہ کرو۔ کیا عجب کہ یہ ہم کو نفع دے یا ہم اس کو بیٹا بنالیں۔ اور وہ سمجھتے نہ تھے۔

10۔ اور موسیٰ کی ماں کا دل بے چین ہوگیا۔ قریب تھاکہ وہ اس کو ظاہر کردے اگر ہم اس کے دل کو نہ سنبھالتے کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے رہے۔

11۔ اور اس نے اس کی بہن سے کہا کہ تو اس کے پیچھے پیچھے جا۔ تو وہ اس کو اجنبی بن کر دیکھتی رہی اور ان لوگوں کو خبر نہیں ہوئی۔

12۔ اور ہم نے پہلے ہی موسیٰ سے دائیوں کو روک رکھا تھا۔ تو لڑکی نے کہا، کیا میں تم کو ایسے گھر والوں کا پتہ دوں جو اس کو تمھارے لئے پالیں اور وہ اس کی خیر خواہی کریں۔

13۔پس ہم نے اس کو اس کی ماں کی طرف لوٹادیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ اور وہ غمگین نہ ہو۔ اور تاکہ وہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔

14۔اور جب موسیٰ اپنی جوانی کو پہنچا اور پورا ہوگیا تو ہم نے اس کو حکمت اور علم عطا کیا اور ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو۔

15۔ اور شہر میں وہ ایسے وقت داخل ہوا جب کہ شہر والے غفلت میں تھے تو اس نے وہاں دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے پایا۔ ایک اس کی اپنی قوم کا تھا اور دوسرا دشمنوں میں سے تھا۔ تو جو اس کی قوم میں سے تھا اس نے اس کے خلاف مدد طلب کی جو اس کے دشمنوں میں سے تھا۔ پس موسیٰ نے اس کو گھونسہ مارا۔ پھر اس کا کام تمام کردیا۔ موسیٰ نے کہا کہ یہ شیطان کے کام سے ہے۔ بے شک وہ دشمن ہے، کھلا گمراہ کرنے والا۔

16۔ اس نے کہا کہ اے میرے رب، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے۔ پس تو مجھ کو بخش دے تو خدا نے اس کو بخش دیا۔ بے شک وہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔

17۔ اس نے کہا کہ اے میرے رب، جیسا تو نے میرے اوپر فضل کیا تو میں کبھی مجرموں کا مدد گار نہیں بنوں گا۔

18۔ پھر صبح کو وہ شہر میں اٹھا ڈرتا ہوا، خبر لیتا ہوا۔ تو دیکھتا کہ وہی شخص جس نے کل مدد مانگی تھی وہی آج پھر اس کو مدد کے لئے پکار رہا ہے۔ موسیٰ نے اس سے کہا، بے شک تم صریح گمراہ ہو۔

19۔ پھر جب اس نے چاہا کہ اس کو پکڑے جو ان دونوں کا دشمن تھا تو اس نے کہا کہ اے موسیٰ، کیا تم مجھ کو قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو قتل کیا۔ تم تو زمین میں سرکش بن کر رہنا چاہتے ہو۔ تم صلح کرنے والوں میں سے بننا نہیں چاہتے۔

20۔ اور ایک شخص شہر کے کنارے سے دوڑتا ہوا آیا۔ اس نے کہا اے موسیٰ، دربار والے مشورہ کر رہے ہیں کہ وہ تم کو مار ڈالیں۔ پس تم نکل جاؤ، میں تمھارے خیر خواہوں میں سے ہوں۔

21۔پھر وہ وہاں سے نکلا ڈرتا ہوا، خبر لیتا ہوا۔ اس نے کہا کہ اے میرے رب، مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔

22۔ اور جب اس نے مدین کا رخ کیا تو اس نے کہا، امید ہے کہ میرا رب مجھ کو سیدھا راستہ دکھادے۔

23۔ اور جب وہ مدین کے پانی پر پہنچا تو وہاں اُس نے لوگوں کی ایک جماعت کو پانی پلاتے ہوئے پایا۔ اور ان سے الگ ایک طرف دو عورتوں کو دیکھا کہ وہ اپنی بکریوں کو روکے ہوئے کھڑی ہیں۔ موسیٰ نے ان سے پوچھا کہ تمھارا کیا ماجرا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم پانی نہیں پلاتے جب تک چرواہے اپنی بکریاں ہٹا نہ لیں۔ اور ہمارا باپ بہت بوڑھا ہے۔

24۔ تو اس نے ان کے جانوروں کو پانی پلایا۔ پھر سائے کی طرف ہٹ گیا۔ پھر کہا کہ اے میرے رب، تو جو چیز میری طرف خير ميں سے اتارے، میں اس کا محتاج ہوں۔

25۔ پھر ان دونوں میں سے ایک لڑکی آئی شرم سے چلتی ہوئی۔ اس نے کہا کہ میرا باپ آپ کو بلا رہا ہے کہ آپ نے ہماری خاطر جو پانی پلایا اس کا آپ کو بدلہ دے۔ پھر جب وہ اس کے پاس آیا اور اس سے سارا قصہ بیان کیا تو اس نے کہا کہ اندیشہ نہ کرو۔ تم نے ظالموں سے نجات پائی۔

26۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ اے باپ اس کو ملازم رکھ لیجئے۔ بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھیں وہی ہے جو مضبوط اور امانت دار ہو۔

27۔ اس نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح تمھارے ساتھ کردوں۔ اس شرط پر کہ تم آٹھ سال میری ملازمت کرو۔ پھر اگر تم دس سال پورے کردو تو وہ تمھاری طرف سے ہے۔ اور میں تم پر مشقت ڈالنا نہیں چاہتا۔ انشاء اللہ تم مجھ کو بھلا آدمی پاؤ گے۔

28۔ موسیٰ نے کہا کہ یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہے۔ ان دونوں مدتوں میں سے جو بھی میں پوری کروں تو مجھ پر کوئی جبر نہ ہوگا۔ اور اللہ ہمارے قول و قرار پر گواہ ہے۔

29۔ پھر جب موسیٰ نے مدت پوری کردی اور وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ روانہ ہوا تو اس نے طور کی طرف سے ایک آگ دیکھی۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ شاید میں وہاں سے کوئی خبر لے آؤں یا آگ کا انگارہ تاکہ تم تاپو۔

30۔ پھر جب وہ وہاں پہنچا تو وادی کے داہنے کنارے سے برکت والے خطہ میں درخت سے پکارا گیا کہ اے موسیٰ، میں اللہ ہوں، سارے جہان کا مالک۔

31۔ اور یہ کہ تم اپنا عصا ڈال دو۔ تو جب اس نے اس کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا کہ گویا سانپ ہو، تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اور اس نے مڑ کر نہ دیکھا۔ اے موسیٰ ،آگے آؤ اور نہ ڈرو۔ تم بالکل محفوظ ہو۔

32۔اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو، وہ چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی مرض کے، اور خوف کے واسطے اپنا بازواپنی طرف ملالو۔ پس یہ تمھارے رب کی طرف سے دو سندیں ہیں فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس جانے کے لئے۔ بے شک وہ نافرمان لوگ ہیں۔

33۔ موسیٰ نے کہا اے میرے رب، میں نے ان میں سے ایک شخص کو قتل کیا ہے تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے۔

34۔ اور میرا بھائی ہارون وہ مجھ سے زیادہ فصیح ہے زبان میں، پس تو اس کو میرے ساتھ مدد گار کی حیثیت سے بھیج کہ وہ میری تائید کرے۔ میں ڈرتا ہوں کہ وہ لوگ مجھے جھٹلادیں گے۔

35۔ فرمایا کہ ہم تمھارے بھائی کے ذریعہ تمھارے بازو کو مضبوط کردیں گے اور ہم تم دونوں کو غلبہ دیں گے تو وہ تم لوگوں تک نہ پہنچ سکیں گے۔ ہماری نشانیوں کے ساتھ، تم دونوں اور تمھاری پیروی کرنے والے ہی غالب رہیں گے۔

36۔ پھر جب موسیٰ ان لوگوں کے پاس ہماری واضح نشانیوں کے ساتھ پہنچا، انھوں نے کہا کہ یہ محض گھڑا ہوا جادو ہے۔ اور یہ بات ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں نہیں سنی۔

37۔ اور موسیٰ نے کہا میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کو آخرت کا گھر ملے گا۔ بے شک ظالم فلاح نہ پائیں گے۔

38۔ اور فرعون نے کہا کہ اے دربار والو، میں تمھارے لئے اپنے سوا کسی معبود کو نہیں جانتا تو اے ہامان، میرے لئے مٹی کو آگ دے، پھر میرے لئے ایک اونچی عمارت بنا تاکہ میں موسیٰ کے رب کو جھانک کر دیکھوں، اور میں تو اس کو ایک جھوٹا آدمی سمجھتا ہوں۔

39۔ اور اس نے اور اس کی فوجوں نے زمین میں ناحق گھمنڈ کیا اور انھوں نے سمجھا کہ ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا نہیں ہے۔

40۔ تو ہم نے اس کو اور اس کی فوجوں کو پکڑا۔ پھر ان کو سمندر میں پھینک دیا۔ تو دیکھو کہ ظالموں کا انجام کیا ہوا۔

41۔ اور ہم نے ان کو سردار بنایا کہ وہ آگ کی طرف بلاتے ہیں۔ اور قیامت کے دن ان کو مدد نہیں ملے گی۔

42۔ اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگادی۔ اور قیامت کے دن وہ بدحال لوگوں میں سے ہوں گے۔

43۔ اور ہم نے اگلی امتوں کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ کو کتاب دی۔ لوگوں کے لئے بصیرت کا سامان، اور ہدایت اور رحمت تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔

44۔ اور تم پہاڑ کے مغربی جانب موجود نہ تھے جب کہ ہم نے موسیٰ کو احکام دئے اور نہ تم شاہدین میں شامل تھے۔

45۔ لیکن ہم نے بہت سی نسلیں پیدا کیں پھر ان پر بہت زمانہ گزر گیا۔ اور تم مدین والوں میں بھی نہ رہتے تھے کہ ان کو ہماری آیتیں سناتے۔ مگر ہم ہیں پیغمبر بھیجنے والے۔

46۔ اور تم طور کے کنارے نہ تھے جب ہم نے موسیٰ کو پکارا، لیکن یہ تمھارے رب کا انعام ہے، تاکہ تم ایک ایسی قوم کو ڈراؤ جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈرانے والانہیں آیا تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔

47۔ اور اگر ایسا نہ ہوتا کہ ان پر ان کے اعمال کے سبب سے کوئی آفت آئی تو وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب، تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اورہم ایمان والوں میں سے ہوتے۔

48۔ پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا تو انھوں نے کہا کہ کیوں نہ اس کو ویسا ملا جیسا کہ موسیٰ کو ملاتھا، انھوں نے کہا کہ دونوں جادو ہیں ایک د وسرے کے مدد گار، اور انھوں نے کہا کہ ہم دونوں کا انکار کرتے ہیں۔

49۔ کہو کہ تم اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ہدایت کرنے میں ان دونوں سے بہتر ہو، میں اس کی پیروی کروں گا اگرتم سچے ہو۔

50۔ پس اگر یہ لوگ تمھارا کہا نہ کرسکیں تو جان لو کہ وہ صرف اپنی خواہش کی پیروی کر رہے ہیں۔ اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو اللہ کی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کی پیروی کرے۔ بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

51۔ اور ہم نے ان لوگوں کے لئے پے درپے اپنا کلام بھیجا تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔

52۔ جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی ہے وہ اس (قرآن) پر ایمان لاتے ہیں۔

53۔ اور جب وہ ان کو سنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے۔ بے شک یہ حق ہے ہمارے رب کی طرف سے، ہم تو پہلے ہی سے اس کو ماننے والے ہیں۔

54۔ یہ لوگ ہیں کہ ان کو ان کا اجر دہرا دیا جائے گا، اس پر کہ انھوں نے صبر کیا۔ اور وہ برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں اورہم نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔

55۔ اور جب وہ لغوبات سنتے ہیں تو وہ اس سے اعراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لئے تمھارے اعمال۔ تم کو سلام، ہم بے سمجھ لوگوں سے الجھنا نہیں چاہتے۔

56۔ تم جس کو چاہو ہدایت نہیں دے سکتے۔ بلکہ اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور وہی خوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں۔

57۔ اور وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم تمھارے ساتھ ہو کر اس ہدایت پر چلنے لگیں تو ہم اپنی زمین سے اچک لئے جائیں گے کیا ہم نے ان کو امن و امان والے حرم میں جگہ نہیں دی۔ جہاں ہر قسم کے پھل کھنچے چلے آتے ہیں، ہماری طرف سے رزق کے طور پر، لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔

58۔ اور ہم نے کتنی ہی بستیاں ہلاک کردیں جو اپنے سامانِ معیشت پر نازاں تھیں۔ پس یہ ہیں ان کی بستیاں جو ان کے بعد آباد نہیں ہوئیں مگر بہت کم، اور ہم ہی ان کے وارث ہوئے۔

59۔ اور تیرا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک ان کی بڑی بستی میں کسی پیغمبر کو نہ بھیج دے جو ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے اور ہم ہرگز بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہیں مگر جب کہ وہاں کے لوگ ظالم ہوں۔

60۔اور جو چیز بھی تم کو دی گئی ہے تو وہ بس دنیا کی زندگی کا سامان اور اس کی رونق ہے۔ اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہترہے اور باقی رہنے والا ہے۔ پھر کیا تم سمجھتے نہیں۔

61۔ بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہے پھر وہ اس کو پانے والا ہے، کیا اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جس کو ہم نے صرف دنیوی زندگی کا فائدہ دیا ہے، پھر قیامت کے دن وہ حاضر کئے جانے والوں میں سے ہے۔

62۔ اور جس دن خدا ان کو پکارے گا پھر کہے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم دعوی کرتے تھے۔

63۔ جن پر بات ثابت ہوچکی ہوگی وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب، یہ لوگ ہیں جنھوں نے ہم کو بہکایا۔ ہم نے ان کو اسی طرح بہکایا جس طرح ہم خود بہکے تھے۔ ہم ان سے برأت کرتے ہیں۔ یہ لوگ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے۔

64۔ اور کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ تو وہ ان کو پکاریں گے تو وہ ان کو جواب نہ دیں گے۔ اور وہ عذاب کو دیکھیں گے۔ کاش، وہ ہدایت اختیار کرنے والے ہوتے۔

65۔اور جس دن خدا ان کو پکارے گا اور فرمائے گا کہ تم نے پیغام پہنچانے والوں کو کیا جواب دیا تھا۔

66۔ پھر اس دن ان کی تمام باتیں گم ہوجائیں گی، تو وہ آپس میں بھی نہ پوچھ سکیں گے۔

67۔ البتہ جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کیا تو امید ہے کہ وہ فلاح پانے والوں میں سے ہوگا۔

68۔ اور تیرا رب پیدا کرتا ہے جو چاہے اور وہ پسند کرتا ہے جس کو چاہے۔ ان کے ہاتھ میں نہیں ہے پسند کرنا۔ اللہ پاک اور برتر ہے ا س سے جس کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔

69۔ اور تیرا رب جانتا ہے جو کچھ ان کے سینے چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں۔

70۔ اور وہی اللہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کے لئے حمد ہے دنیا میں اور آخرت میں۔ اور اسی کے لئے فیصلہ ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

71۔ کہو کہ بتاؤ، اگر اللہ قیامت کے دن تک تم پر ہمیشہ کے لئے رات کردے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمھارے لئے روشنی لے آئے۔ تو کیا تم لوگ سنتے نہیں۔

72۔ کہو کہ بتاؤ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لئے دن کردے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمھارے لئے رات کو لے آئے جس میں تم سکون حاصل کرتے ہو۔ کیا تم لوگ دیکھتے نہیں۔

73۔ اور اس نے اپنی رحمت سے تمھارے لئے رات اور دن کو بنایا تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو۔

74۔ اور جس دن اللہ ان کو پکارے گا پھر کہے گاکہ کہاں ہیں میرے شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے۔

75۔ اور ہم ہر امت میں سے ایک گواہ نکال کر لائیں گے۔ پھر لوگوں سے کہیں گے کہ اپنی دلیل لاؤ، تب وہ جان لیں گے کہ حق اللہ کی طرف ہے۔ اور وہ باتیں ان سے گم ہوجائیں گی جو وہ گھڑتے تھے۔

76۔ قارون، موسٰی کی قوم میں سے تھا۔ پھر وہ ان کے خلاف سرکش ہوگیا۔ اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دئے تھے کہ ان کی کنجیاں اٹھانے سے کئی طاقت ور مرد تھک جاتے تھے۔ جب اس کی قوم نے اس سے کہا کہ اتراؤ مت، اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

77۔ اور جو کچھ اللہ نے تم کو دیا ہے اس میں آخرت کے طالب بنو۔ اور دنیا میں سے اپنے حصے کو نہ بھولو۔ اور لوگوں کے ساتھ بھلائی کرو جس طرح اللہ نے تمھارے ساتھ بھلائی کی ہے۔ اور زمین میں فساد کے طالب نہ بنو، اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

78۔ اس نے کہا، یہ مال مجھ کو ایک علم کی بنا پر ملا ہے جو میرے پاس ہے۔ کیا اس نے یہ نہیں جانا کہ اللہ اس سے پہلے کتنی جماعتوں کو ہلاک کرچکا ہے جو اس سے زیادہ قوت اور جمعیت رکھتی تھیں۔ اور مجرموں سے ان کے گناہ پوچھے نہیں جاتے۔

79۔ پس وہ اپنی قوم کے سامنے اپنی پوری آرائش کے ساتھ نکلا۔ جو لوگ حیاتِ دنیا کے طالب تھے انھوں نے کہا، کاش ہم کو بھی وہی ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے، بے شک وہ بڑی قسمت والا ہے۔

80۔ اور جن لوگوں کو علم ملا تھا انھوں نے کہا، تمھارا برا ہو اللہ کا ثواب بہتر ہے اس شخص کے لئے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ اور یہ انھیںکو ملتا ہے جو صبر کرنے والے ہیں۔

81۔ پھر ہم نے اس کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا۔ پھر اس کے لئے کوئی جماعت نہ اٹھی جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کرتی۔ اور نہ وہ خود ہی اپنے کو بچا سکا۔

82۔ اور جو لوگ کل اس کے جیسا ہونے کی تمنا کر رہے تھے وہ کہنے لگے کہ افسوس، بے شک اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہم کو بھی زمین میں دھنسا دیتا۔ افسوس، بے شک انکار کرنے والے فلاح نہیں پائیں گے۔

83۔ یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کو دیں گے جو زمین میں نہ بڑا بننا چاہتے ہیں اور نہ فساد کرنا۔ اور آخری انجام ڈرنے والوں کے لئے ہے۔

84۔ جو شخص نیکی لے کر آئے گا، اس کے لئے اس سے بہتر ہے اور جو شخص برائی لے کر آئے گا تو جو لوگ برائی کرتے ہیں ان کو وہی ملے گا جو انھوں نے کیا۔

85۔ بے شک جس نے تم پر قرآن کو فرض کیا ہے وہ تم کو ایک اچھے انجام تک پہنچا کر رہے گا۔ کہو کہ میرا رب خوب جانتا ہے کہ کون ہدایت لے کر آیا ہے اور کون کھلی ہوئی گمراہی میں ہے۔

86۔ اور تم کو یہ امید نہ تھی کہ تم پر کتاب اتاری جائے گی، مگر تمھارے رب کی مہربانی سے۔ پس تم منکروں کے مدد گار نہ بنو۔

87۔ اور وہ تم کو اللہ کی آیتوں سے روک نہ دیں جب کہ وہ تمھاری طرف اتاری جاچکی ہیں۔ اور تم اپنے رب کی طرف بلاؤ اور مشرکوں میں سے نہ بنو۔

88۔ اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پکارو۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوا اس کی ذات کے۔ فیصلہ اسی کے لئے ہے اور تم لوگ اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo