#hamidnaved آج کا دن کرمو کے لئے قیامت کا دن ھے…

[ad_1] #hamidnaved

آج کا دن کرمو کے لئے قیامت کا دن ھے ۔ نہ جانے قدرت نے قیامت کس دن کا نام رکھ چھوڑا ھے ۔
کل صبح چھوٹی عذرا کا ماتھا بخار سے اتنا تپ رھا تھا کہ جب گھر سے وقت رخصت اس نے اس کو سینے سے لگایا ۔ تو دل کے درد کو وہ ٹکور ھوئی تھی ۔ کہ درد بھی شرما کے رھ گیا ۔ آج دوسرا دن تھا اس ظالم بخار کو ۔گلی کا ڈاکٹر ٹیسٹ کی پرچی ھاتھ میں تھما کے کہہ کہ چلا گیا کہ ٹیسٹ کسی اچھی لیبارٹری سے کروانا ۔ اور یہ دوائی تھوڑی مہنگی ھے پر اس سے وقتی افاقہ ھو جائیگا ۔ باقی علاج ٹیسٹ رپورٹ آنے کے بعد ۔
ڈاکٹر بےچارہ کیا جانتا تھا کہ جس کو یہ ھدایت دے رھا ھے ۔ اس نے تو صبح جلال منشی کے ھاتھ اپنی نازک مزاج سائیکل پانچ سو روپے میں اس لئے بیچی تھی کہ اسکو فیس دینی تھی ۔
کرمو ایک نظر عذرا پہ ڈالتا اور دوسری ڈاکٹر پہ ۔ اس کو رخصت کر کے دھڑام سے پرانی بوسیدہ چارپائی پہ گر گیا ۔ عذرا کی ماں معاملے کو سمجھ رھی تھی اپنے قیمتی موتی جو کہ اسوقت بےوقعت ھو کے سپرد خاک ھور ھے تھے اپنے پلو سے موتیوں کی اس کان کا راستہ بلاک کر کے قریب آئی اور بولی کوئی بات نہی اللہ مالک ھے آپ بھائی شرفو کے پاس جائیں ۔ جب اس کا بیٹا جل کے مرا تھا ھم نے بھی اس کی مدد کی تھی ۔
کرمو نے بےچارگی اور لاچاری سے اس روپ کی معصوم پری کی سرخ جلتی آنکھوں کو دیکھا ۔ تو وھاں صدیوں کی بھوک اور لاچاری کے ساتھ ایک ھمت بندھاتی ھوئی آس تھی ۔جو اللہ نے ساری کرم جلی بیویوں میں یہ خوبی سما چھوڑی ھے کہ وہ اپنے شریک حیات کو ڈھولنے نہی دیتیں ۔ کرمو وہ آس کا جگنو ھاتھ میں تھام کے گھر سے نکلا ۔
اس کو بہت امید تھی کہ شرفو کچھ نہ کچھ ضرور کرے گا ۔ من دو من کے قدم جب شرفو کی دھلیز پھلانگ کے اس کے دالان میں پہنچے شرفو اسے دیکھ کے بہت خوش ھوا ۔ تھوڑی دیر بعد کرمو کے لرزتے ھونٹ حرف مدعا پہ آگئے آنسوؤں کا اک سیلاب اسکا دامن ھی نہی بگھو رھا تھا بلکہ اس میں موجود شرمندگی کا عنصر اس میں تیزاب بن کے بہہ رھا تھا ۔ آج اس کی عزت اور خود داری بیٹی کے پیار کے آگے ھار مان چکی تھی ۔
اس نے شرفو کو بتلایا کہ کسطرح پندرہ دن پہلےچھوٹی سی غلطی پہ مالک نے ایک انگلی کے اشارے پہ اس کو نوکری سے نکال دیا ۔ غریب کے پاس کھانے کی روٹی ھی پوری نہی ھوتی تو اس نے بچانا کیا ھوتا ھے ۔ پندرہ دن پتا نہی کیسے گذرے اور اب عذرا کا بخار تو اس کی جان ھی لئے جا رھا تھا ۔
ابھی کرمو نے بات بھی مکمل نہ کی تھی کہ اس نے دیکھا شرفو اس کے قدموں میں آ گرا تھا ۔ اسکے چہرے پہ بھی وھی موسم تھا جو کرمو پہ دو دن سے چھایا ھوا تھا ۔ ھاتھ باندھ کے بولا بھائی کل شام سے میں بیوی بچے بھوکے ھیں ۔ شگفتہ کی ماں مجھے کہہ رھی تھی کہ صبح بھائی کرمو کے پاس جائیں مگر میں ھمت ھی نہی جٹا پا رھا تھا ۔ تمہارا حال سن کے تو کلیجہ منہ کو آگیا ھے ۔ گھر میں بیچنے لائق بھی کوئی چیز نہی کہ وقت کی اس چیرہ دستی کو اک مرھم کا سہارا ھی دے سکیں ۔
بحر حال سول ھسپتال کا چوکیدار نذیر میرا جاننے والا ھے ۔ اس سے بات کرتے ھیں ۔
آنسوؤں کی شمعیں بجھا کے دونوں دوست اک نئی آس امید کے چراغ کی طرف روانہ ھوۓ ۔ نذیر بڑا اچھا انسان تھا بات سن کے اس نے کہا آپ عذرا کو لے آئیں میں اندر کسی سے بات کر کے ڈاکٹر کو بھی دکھا دیتا ھوں اور ٹیسٹ بھی فری کروا دونگا ۔ دونوں دوست سرپٹ بھاگ کے جلتی بجھتی عذرا کو سینے سے لگا کے ھسپتال پہنچ گئے ۔ وھا ں نذیر نے سارا انتظام کروا دیا ٹیسٹ بھی ھوگئے ۔ ڈاکٹر نے تشخیص کیا کہ ڈینگی وائرس کا حملہ ھے ھسپتال بھرا پڑا ھے بچی کو گھر لے جائیں ۔ یہ گولی کھلانی ھے اور سیب کا جوس جتنا ھوسکے پلائیں ۔
راستے میں ایک پھل والی ریڑھی دیکھی جہاں اک نوجوان دو بڑے بڑےشاپروں میں سیب ڈال کے گاڑی میں رکھ رھا تھا ۔
کرمو کا بس نہ چل رھا تھا کہ اس کی بیٹی کی زندگی کا امرت ان شاپروں میں قید ھو کے اس سے دور بہت دور جا رھا تھا ۔ بےبسی کے اک طوفان میں اپنی بیٹی کا معصوم کملایا ھوا چہرہ اور اور دو سیبوں سے بھرے ھوۓ شاپر اس کے سامنے اس کی غربت اور اسکے خدا کی لکھی ھوئی داستان کے ایسے کردار تھے جس سے وہ اپنے ھونے کا پتہ دیتا ھے ۔
آج بھی قدرت اپنے رنگ میں تھی آج بھی اس خدا نے دکھانا تھا کہ وہ ھر چیز پہ قادر ھے ۔
گھر کی چوکھٹ پہ عذرا کی ماں اپنی آنکھیں بچھاۓ کرمو کی راہ تک رھی تھی ۔ اس نے آگے بڑھ کے عذرا کو اپنی گود میں لے کے چارپائی پہ لٹا دیا اور خاموش آنکھوں میں ھزار سوال سجا لئیے۔
کرمو اللہ مالک کی دھائی دیتا پھر گھر سے نکلا ۔ پرانے مالک کے پاس جا کے ناکردہ گناہ کی معافی مانگی اور دوبارہ نوکری کی درخواست کی ۔ مگر مالک نے نیا ڈرائیور رکھ لیا تھا ۔
خالی ھاتھ خالی پیٹ گھر پہنچا تو بیوی رو رو کے ھلکان ھوئی جارھی تھی ۔ ننھی عذرا اپنے چھوٹے چھوٹے سخت گرم ھاتھوں سے ماں کی آنکھوں سے بہتے قیمتی خزانے کو زمین بوس ھونے سے بچا رھی تھی ۔ توتلی زبان میں باپ کو دیکھ کے بولی بابا مجھے بھوک نہی لگی مگر مجھے ایک گڑیا لادو ۔
کرمو کے چہرے کی ویرانی اس کے دن کی ساری کہانی سنا رھی تھی ۔ آج گھر میں صرف خدا کی خدائی تھی اور کچھ نہ تھا ۔
بارش کے طوفان کو بھی کسی نے خبر دے دی کہ آج اس گھر کی وحشت پہ رقص کناں ھونا ھے ۔ وہ بھی غریب کے صحن میں ایسا ناچی کہ گلی کے گندے پانی نےگھر کے اندر اک دریاکا سماں باندھ دیا ۔
عذرا کا بخار اترنے کا نام ھی نہ لے رھا تھا ادھر تھکا ماندہ کرمو اور اس کی بیوی بارش کے طوفان کے تھمنے کا انتظار کر رھے تھے کہ یہ تھمے اور وہ باھر نکل کے کسی نئی آس کی کرن کی طرف بھاگیں ۔
رات کے ساۓ گہرے ھو چلے تھے ۔ عذرا اپنی توتلی زبان میں غنودگی کی حالت میں بڑ بڑا رھی تھی ۔ مجھے بھوک۔۔۔۔ نہی لگی ۔۔۔۔۔مجھے گڑیا لا۔۔۔۔۔۔۔دو۔
بے بسی کا مارا کرمو طوفان کی پروا کئیے بغیر ھمت جٹا کے گھر سے نکلنے کے ارادے سے اپنی چوکھٹ پہ پہنچا ھی تھا کہ عذرا کی ماں کی چیخ سنائی دی ۔ کرموں کا مارا کرمو ۔ اندر کی طرف بھاگا ۔ تو دیکھا ۔ موت کا فرشتہ بھی اپنا کام نمٹا کے ٹوٹے ھوۓ کواڑوں سے اپنا راستہ بناتا ھوا اس کے قریب سے ھوتا ھوا اس کی جان کے ٹوٹے کو لے کے یہ جا اور وہ جا ۔ اس کو بھی جلدی ھوتی ھے ۔ کیونکہ موت کی لاکھوں پرچیوں پہ حکم بجا لانا ھوتا ھے ۔
اندر بے جان عذرا ماں کی دلدوز چیخوں میں اسکی گود میں ننھی پری سی بن کے خود ھی وہ گڑیا بن چکی تھی جسکی خواھش اس کی بھوک پہ غالب تھی ۔
کرمو ٹوٹے ھوۓ چھتیرکی مانند نیچے گر گیا ۔ چیخوں کی آواز سن کے اھل محلہ گھر میں داخل ھوچکے تھے ۔ عورتوں نے دوپٹے منہ میں دے لئے تھے ۔ اور مرد ان دونوں میاں بیوی کو حوصلہ دے رھے تھے ۔
ھر کوئی اپنا کام بڑی مستعدی سے کر رھا تھا ۔ بارش بھی رک چکی تھی گھر سے گندہ پانی بھی نکل گیا ۔ بڑے حاجی صاحب نے کفن دفن کا سارا انتظام اپنے ھاتھ میں لے لیا تھا ۔ کب صبح ھوئی کب جنازہ پڑھا کب تدفین ھوئی ۔
کرمو کو ھوش صرف اس وقت آئی جب محلے کے ایک صاحب ثروت نے کرمو کو ایک سرخ خوبصورت سا سیب ان بڑے بڑے دو شاپروں میں سے نکال کے کھانے کے لئے دیا ۔ جو وہ اس کے لئے ھمسائیگی کے ناطے سے لے کے آیا تھا ۔
سیب کو پکڑ کے کرمو ڈگمگاتے ھوۓ قدموں کیساتھ اپنی کرم جلی بیوی کی طرف چل پڑا ۔اور سوچنے لگا کہ نہ جانے قدرت نے کس دن کانام قیامت رکھ چھوڑا ھے ۔
تحریر
ظفر اقبال مغل

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo