آج معروف شاعر کنور مہندر سنگھ بیدی سحرؔ کا یومِ وفات ہے ————————…

[ad_1] آج معروف شاعر کنور مہندر سنگھ بیدی سحرؔ کا یومِ وفات ہے
————————————————–
نام کنور مہندر سنگھ بیدی ، تخلص سحر09 مارچ 1909ء کومنٹگمری(ساہیوال) میں پیدا ہوئے۔ چیفس کالج ،لاہور میں1919ء سے 1925ء تک تعلیم پائی۔ چیفس کالج سے فارغ ہو کر گورنمنٹ کالج، لاہور میں داخلہ لیا۔ انھوں نے تاریخ اور فارسی کے ساتھ بی اے کیا۔ تعلیم سے فارغ ہو کر آئی سی ایس کا امتحان دیا، لیکن کامیاب نہ ہوئے۔ پہلی تقرری لائل پور میں ہوئی۔ وہاں جولائی 1934ء سے دسمبر1935ء تک رہے۔ اس دوران انھوں نے ریونیوٹریننگ لی اور محکمانہ امتحانات پاس کیے۔ 1935ء کے آخر میں ان کا تبادلہ بطور فرسٹ کلاس مجسٹریٹ رہتک ہوگیا۔ یہ گوڑگاؤں میں ڈپٹی کمشنر بھی رہے۔ تقریبا 33 برس ملازمت کرنے کے بعد ڈائرکٹر، محکمہ پنچایت کے عہدے سے 1967ء میں ریٹائر ہوئے۔ کنور مہندرسنگھ بیدی ایک کثیر الجہات شخصیت کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے تھے۔ ان تمام مشغلوں میں شاعری ان کا عزیز ترین مشغلہ رہا ہے۔ وہ کسی کے شاگرد نہیں تھے۔ ان کی شعر گوئی کی عمر تقریباً ساتھ سال کے لگ بھگ ہوگی۔ ان کی شخصیت ہشت پہلو تھی۔ وہ غالب انسٹی ٹیوٹ ، دہلی ترقی اردو بورڈ کے نائب صدر تھے۔ وہ 17 جولائی 1998ء کو دہلی میں انتقال کرگئے۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’یادوں کا جشن‘(خودنوشت حالات زندگی)، ’کلام کنورمہندر سنگھ بیدی سحر‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم ان کے ستم کو بھی کرم جان رہے ہیں
اور وہ ہیں کہ اس پر بھی برا مان رہے ہیں
یہ لطف تو دیکھو کہ وہ محفل میں مری سمت
نگراں ہیں کہ جیسے مجھے پہچان رہے ہیں
ہم کو بھی تو واعظ ہے بد و نیک میں تمیز
ہم بھی تو کبھی صاحب ایماں رہے ہیں
ممکن ہے اک روز تری زلف بھی چھو لیں
وہ ہاتھ جو مصروف گریباں رہے ہیں
یہ سچ ہے کہ بندے کو خدا دہر میں یوں تو
مانا نہیں جاتا ہے مگر مان رہے ہیں
وہ آۓ اس طور سے خلوت میں مرے پاس
جیسے کہ نہ آنے پہ پشیماں رہے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غم و آہ و نالوں سے فرصت نہیں ہے
محبت ہے یہ خوابِ غفلت نہیں ہے
وہ حالت پہ میری گراتے ہیں آنسو
یہ قطرے مرے دل کی قیمت نہیں ہیں
فلک پر بہت ماہ پارے ہیں لیکن
ہماری نگاہوں کو فرصت نہیں ہے
غمِ دوش مجھ کو نہ ہے فکرِ فردا
مجھے آگہی کی ضروت نہیں ہے
اگر دید ہوتی رہے گاہے گاہے
تو ہے ہجر راحت مصیبت نہیں ہے
جو دینا ہے دے، بے طلب اے خدایا
گدا ہوں گداؤں کی فطرت نہیں ہے
گناہوں پہ نادم ہوں لیکن خدایا
بتا کیا ترے پاس رحمت نہیں ہے
گلہ ہے ہمیں اپنی بد قسمتی سے
زمانے سے ہم کو شکایت نہیں ہے
کبھی تھا یہی غم ، کہ غم لگ چُکا ہے
اور اب غم یہ ہے ، غم کی فرصت نہیں ہے
سحر چھوڑ بھی یہ فرسُردہ حکایت
مجھے اب کسی سے محبت نہیں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نامہ بر آتے جاتے رہے
ہجر میں یوں دل کو بہلاتے رہے
یہ بھی کیا کم ہے کہ میرے حال پر
دیر تک وہ غور فرماتے رہے
شدت احساس تنہائی نہ پوچھ
ہم بھری محفل میں گھبراتے رہے
ہجر کی تاریکیاں بڑھتی گئیں
مہر و ماہ آتے رہے جاتے رہے
کوئی کیا جانے گا یہ راز و نیاز
دل ہمیں ہم دل کو سمجھاتے رہے
منزل مقصود پر پہنچے وہی
راہ میں جو ٹھوکریں کھاتے رہے
نشہ مے تیز تر ہوتا گیا
شیخ صاحب وعظ فرماتے گۓ
کیا عجب شے ہے متاع دل سحرؔ
جو اسے کھوتے رہے پاتے رہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی(بھٹکلی)
[ad_2]

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo