“محبت درد تنہائی” کے شاعر ماجد جہانگیرمرزا کا انٹرویو

“محبت درد تنہائی” کے شاعر ماجد جہانگیرمرزا کا انٹرویو

تفکر – آپ کا پورا نام؟

ماجد۔۔ماجد جہانگیرمرزا

تفکر – قلمی نام؟

ماجد۔۔ماجد

تفکر – کہاں اور کب پیدا ہوئے؟

ماجد۔۔31جولائی1984 راولپنڈی میں پیدا ہوا

تفکر -تعلیمی قابلیت؟

ماجد۔۔ایم اے اردو(پنجاب یونیورسٹی)

تفکر – ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

ماجد۔۔میٹرک ایف جی بوائز سیکنڈری سکول مریڑحسن راولپنڈی سے 2002 میں کیا

تفکر – اعلٰی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

ماجد۔۔بی اے 2004 میں پنجاب پونیورسٹی سے کیا جبکہ ایم اے اردو پنجاب یونیورسٹی سے 2016 میں کیا

تفکر -پیشہ؟ 

ماجد۔۔سرکاری ملازمت

تفکر –ادبی سفر کاآغاز کب ہوا؟

ماجد۔۔شاعری کا آغاز 2004 میں غزل کہہ کر کیا

تفکر – آپ نظم یا غزل میں کس سے متاثر ہوئے؟

ماجد۔۔اقبال۔جالب۔میر تقی میر۔ساغر صدیقی۔غالب

تفکر -کسی شاعر یا ادیب کا تلمذ اختیار کیا؟

ماجد۔۔شاعری خدا داد صلاحیت ہے اس کے بنیادی رموز مرحوم پروفیسر ڈاکٹر عبدالغنی ونر آف اقبال ایوارڈ2001 اور اپنے ایک قریبی دوست جو میرا کلاس فیلو بھی تھا محمد عثمان ساغر سے سیکھے جو خود بھی ایک اچھا شاعر ہے

تفکر – ادب کی کون سی صنف زیادہ پسند ہے؟

ماجد۔۔غزل،نظم

تفکر -ادب کی کس صنف میں زیادہ کام کیا؟

ماجد۔۔غزل،نظم

تفکر -شعری تصانیف کی تعداد اور نام؟

ماجد۔۔پہلی کتاب “محبت درد تنہائی” کے نام سے 2014میں شائع ہوئی جبکہ دوسری زیر اشاعت ہے

تفکر -نثری تصانیف کی تعداد اور نام؟

ماجد۔۔کوئی نہیں

تفکر – اپنے خاندان کے حوالے سے کچھ بتائیں؟

ماجد۔۔مغل چغتائی باپ دادا کے زمانے سے راولپنڈی میں رہائش پذیر ہیں دادا فوج میں تھے جبکہ والد صاحب پولیس سے انسپکٹر ریٹائرڈ ہیں 4 بھائی اور ایک بہن ہے۔بہن بھائیوں میں میرا نمبر 3 ہے

تفکر – ازدواجی حیثیت؟

ماجد۔۔شادی شدہ

تفکر – فیملی ممبرز کے بارے میں بتائیے؟

ماجد۔۔ماشاء اللہ دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے

تفکر – آج کل کہاں رہائش پذیر ہیں؟

ماجد۔۔قاضی آباد مریڑحسن راولپنڈی میں رہائش پذیر ہوں

تفکر – بچپن کی کوئی خوبصورت یاد؟

ماجد۔۔ویسے بچپن کی ہر یاد ہی خوبصورت ہوتی ہے لیکن ایک دو ایسے واقعات ہیں جن کو گھر والےآج بھی یاد کرتے ہیں تو انہیں اور مجھے بے اختیار ہنسی آجاتی ہے۔میں بچپن سے ہی شرارتی تھا اور تعلیم کی طرف بالکل رحجان نہیں تھا ہر وقت شرارتیں کرنا اور لڑائی جھگڑے کرنے جیسے واقعات سے میرا بچپن بھرا پڑا ہے میں تیسری کلاس میں تھا تو میری دادی میرے لیے یونیفارم کی نئی شرٹ لائیں وہ پہن کر میں سکول گیا واپسی پر روڈ کی مرمت کا کام جاری تھا اور اس کے اوپر تار کول ڈالی جارہی تھی میرے ساتھ ایک دوست نے بتایا اس سے گیند ہارڈ بال بہت اچھی بنتی ہے میں نے اس سے ایک ہارڈ بال تیار کی اور اس کو سوکھانے کی غرض سے اس کو اپنی شرٹ کی فرنٹ جیب میں ڈال لیا گھر پہچنے تک وہ تار کول میری شرٹ سے میرے جسم کے مختلف اعضا تک پھیل چکی تھی اب میں گھر داخل ہونے سے ڈر رہا تھا آخر ہمت کی دادی کی نظرپڑی اور آواز آئی ہائے میں مر گئی اے کی کیتا ای،میں اپنی سانس پر کنٹرول کرتے ہوئے بولا دادی فکر کی کوئی بات نہیں میں نے پتہ کیا ہے یہ مٹی کے تیل سے اتر جائے گی۔پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔۔۔۔۔۔

تفکر – ادبی سفر کے دوران میں کوئی خوبصورت واقعہ؟

ماجد۔۔رفعت سعود(لاہور) کے گھر مشاعرے پر شعرا اپنا کلام پیش کر رہے تھے اور اعتبار ساجد صاحب اپنے مخصوص انداز میں داد دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک نوجوان نے کلام پیش کیا اس پر واہ واہ شروع ہو گئی کیوں کہ کلام انتہائی پختہ تھا نوجوان کلام سناتا جا رہا تھا اور ہم داد دیتے جا رہے تھے کہ اس دوران اس نے شعر سنایا۔عرش والے میرے توقیر سلامت رکھنا۔ہم نے حیرانگی سے ایک دوسر ے کی طرف دیکھا اعتبار ساجد صاحب نے نوجوان سے اپنے مخصوص انداز فقرے کو لمبا کھنچتے ہوۓ پوچھا۔کیا یہ آپ کا شعر ہے وہ بولا نہیں۔تو پھر کس کا ہے،جی شاید محسن نقوی کا ہے۔تو کیا اب تک ہم کسی اور کے شعروں پر داد دے رہے تھے حد ہوگئی اور سب نے ہنسنا شروع کر دیا

تفکر – ادب میں کن سے متاثر ہیں؟

ماجد۔۔منٹو۔اشفاق احمد

تفکر – ادبی رسائل سے وابستگی؟

ماجد۔۔جی پاکستان کے تمام اخبارت میں وقتا فوقتا میرا کلام چھپتا رہتا ہے

تفکر – ادبی گروپ بندیوں اور مخالفت کا سامنا ہوا؟

ماجد۔۔جی اس وقت ادب کی کم اور نام نہاد شاعر حضرات ٹولیوں کی شکل میں اپنی خدمت زیادہ کر رہے ہیں مجھے مخالفت کا سامنا تو نہیں ہوا ہاں کسی کسی مقام پر حسد کی بو ضرور محسوس ہوئی تو خود ہی اپنا راستہ تبدیل کر لیا کیوں کہ میرا ایمان ہے آپ کو آپ کا کام زندہ رکھے گا نہ کہ اس طرح کہ منفی ہتھکنڈے سو خلوص نیت سے اپنا کام کر رہا ہوں باقی اللہ پر چھوڑا ہوا ہے جس نے سب عطا کیا ہے وہی راستہ بھی دکھائے گا اور منزل تک بھی لے کر جائے گا انشاء اللہ۔

تفکر – ادب کے حوالے سے حکومتی پالیسی سے مطمئن ہیں؟

ماجد۔۔جاہل اور نااہل لوگ بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں ان کو کیا معلوم کہ ادب کس بلا کا نام ہے سب اپنی اپنی باری لگا کر ملک کو لوٹنے میں مصروف ہیں ایسے ماحول میں کون ادب کی ترویج میں کردار ادا کرے گا اس پر ستم ظریفی یہ ہے کہ کچھ اہل قلم شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہونے کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔

تفکر – اردو ادب سے وابستہ لوگوں کے لئیے کوئی پیغام؟

ماجد۔۔گروپ بندیوں سے اجتناب کریں اپنے کام کےخلوص نیت سے کریں۔بلا خوف وخطر سچ کاپرچار کریں جینوئن لوگوں کی عزت کریں کیوں کہ تاریخ بڑی بے رحم ہوتی ہے وہ سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کر دیتی ہے۔

تفکر – ہماری اس کاوش پر کچھ کہنا چاہیں گے؟

ماجد۔۔بہترین کاوش ہے اور آپ ایک تاریخی کام کر رہی ہیں ایک وقت آئے گا بہت سے مورخین آپ کے اس کام سے مستفید ہو نگے

تفکر – پہچان شعر یا تحریر؟

ماجد۔۔کیا ترا اس خُلد سے آنا ہوا ہے کارگر
کیا ملا کیا کھو گیا سودو زیاں تحریر کر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے تو عشق کا مطلب یہی سمجھ آیا
دوئی کمال کو پہنچے اکائی ہو جائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجذوب بے لباس سہی مت حقیر جان
رکھی ہوئی ہے اس نے نظر شَش جہات پر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طے کر چکا ہوں عشق کو کرنا ہے دربدر
اب دل سے تیرا قبضہ چھڑانے کی جنگ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاقہ کشی کے ہاتھوں سخن دان مر گیا
ہوتا پسر رئیس کا………. اخبار بولتے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گر دائمی سکون کا طالب ہے تیرا قلب
دنیائے بے ثبات کو پھر مختصر سمجھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیسا عجب فقیر تھا آنکھیں بھی دے گیا
اب الٹے سیدھے پیچھے سوالات کیجیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس پورے فسانےمیں مرا نام نہیں تھا
لگتا ہے میں کردار نبھانے کے لیے تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہےعجب قدموں سے تیرے منسلک سانسیں مری
چاپ قدموں کی سنو اور آئےجائے زندگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ مٹی مٹی کی دشمن ہوئی ہے
جو خاکی خاک پر گھبرا گیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمارے قصر سے کس کا لہو ٹپکتا ہے
نجانے کتنے کٹے سر سمجھ سے باہر ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیری تصویر دھوپ میں رکھ کر
تیرا سایہ…………….. تلاش کرتا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طوفاں کا پیش خیمہ ہیں خاموش لب ترے
ڈرتا ہوں اس لیے ہی تری خامشی سے میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب عدالت ہی عدل بیچے گی
آہ نکلے گی………. گولیاں بن کر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قسمت کو کوستا ہے اندھیرے میں بیٹھ کر
جرات نہیں ہے روشنی کا سامنا کرئَے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں مر رہا تھا اور مرے عہد کے ادیب
تصویر لے رہے تھے مری بے بسی کے ساتھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرے الفاظ سے ماجد نیا خورشید ابھرے گا
مرے اشعار نے سویا جہاں بیدار کرنا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مذاہب کے تصادم نے خدا تقسیم کر ڈالا
کہیں مندر کہیں گرجا عبادت اب نہیں ہو گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب خدائے پاک نے سب کو برابر کر دیا
تجھ کو کس نے حق دیا انسان کی تو ذآت دیکھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جینےکی آرزو میں لڑا موت سے بہت
آخر شکست مجھ کو دی مٹی کے ڈھیر نے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ جرم بھی ادیب کے کھاتے میں آئے گا
انسان سو رہا تھا ………جگایا نہیں گیا
بستر پہ مرے سلوٹیں ہیں دکھ کی علامت
اک درد مسلسل میں نے پہلو میں سلایا
……………….
یہ جن و انس ملائک بھی سر کھجائیں گے
فلک کی گود میں ایسا سوال ڈالوں گا
………………….
میں لفظ کن کی حقیقت سمجھ نہیں پایا
صنم کدے میں اذان بلال ڈالوں گا
…………………………
ازل سے عشق کی دیکھو یہی روایت ہے
ولی فقیر قلندر…… بنائے پھرتا ہے
………………………….
اپنے لہو سے سینچتا ہوں شعر کی زمیں
تخلیق چھین لیتی ہے آنکھوں سے نیند بھی
……………………..
زندگی جب مرگ میں لپٹی ملی
ان گنت صدمات کا ماتم کیا
……………………..
آنکھ کی پتلی کے اندر رقص ہے
کج نظر کو کب نظر یہ آئے گا
……………………..
اندر کی آگ بولتی ہے شعر میں میاں
سو شعر بن گیا ہے بنایا نہیں گیا
……………………….
گر ہو سکے تو پھول بنا تیر مت بنا
پھر پھینک اس کو دہر میں اپنی کمان سے
………………………
اپاہج سوچ آڑے آگئی تھی
وگرنہ توڑ لاتا میں بھی تارے
…………………….
سمندر کو فقط آواز دی تھی
کہ چلنے لگ پڑے خود ہی کنارے
………………………..
حلقوں سے عیاں ہو رہا ہے شب کا فسانہ
تو نیند سے بیدار کئی بار ہوا ہے
………………………..
سن حق کے قبیلے سے تعلق ہے پرانا
منصور سرِ دار کئی بار ہوا ہے
……………………….
تو نظر سے گر گیا ہے دوستا
چل پرے ہٹ مت صفائی دے مجھے
…………………
اس نہج پر اب ریاضت ہے مری
بولے گونگا اور سنائی دے مجھے
……………….
دیکھو مکیں بغیر یہ حالت دیار کی
آواز لوٹنے لگی خالی مکان سے
………………….
ہم تو صداقتوں کے ازل سے امین ہیں
دھوکے سے وار کرنا سکھایا نہیں گیا
…………………
میں زندگی سے موت کی جانب تھا گامزن
کتنا میں بے خبر تھا خبر ڈھونڈتا رہا
………………….
سرخی جو آسمان پہ پھیلی ہے چار سو
یہ قرض ہے حسین کا اس کائنات پر
…………………
مرے عزیز ہی میری یہ جان لے لیں گے
ہر اک قدم پہ یہی ڈر سمجھ سے باہر ہے
………………..
اندر سے امڈنے لگے تھے تازہ خیالات
جب نخلِ سخن حالتِ مستی میں ہلایا
…………………….
رہزنوں کے ہاتھ میں دے کر وطن
دیکھنا اک روز تو پچھتائے گا
………………..
لگتا ہے خاک خاک میں پائے گی کچھ سکوں
اس واسطے ہوں اصل کی جانب رواں دواں

میں نے سنا تھا عشق کی آیت ہے کارگر
جب معجزہ یہ عام کیا میں نہیں رہا

اک نامِ محمد جوسماعت سے ہوا مس
تخلیق کی معراج پہ اب کوزہ گری ہے
ہر اک وبال ان دنوں ہے مقتدی مرا
دکھ درد کا امام ہوں آگے کی بات چھوڑ

میں ضرورت سے زیادہ سخت تھا
ہائے پھر صدمات نے روندا مجھے

آغاز اخوت کا مرے دین کا ہے درس
جا دیکھ مہاجر سے بھی انصار ملے گا

……………….
(ماجد جہانگیر مرزا)

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

slot online gacor Situs IDN Poker Terpercaya slot hoki rtp slot gacor slot deposit pulsa
Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo