مساجد اللہ کا گھر ہیں انہیں دکان نہ بناؤ

تحریر : اے ایم ملک

ایک دن کا ذکر ہے ۔ بزم یاراں سجی ہوئی تھی ،باتیں سیاسیات ،سماجیات،حالات حاضرہ پر ہوتے ہوئے مذہب کی جانب چل نکلیں تو ایک احباب نے ایک جملہ کہا ۔ “یہ مساجد نہیں دکانیں ہیں”۔ اس جملے کو سن کر عجیب سا غصہ محسوس ہوا ،ناگواری سے اس کی جانب دیکھا تو جناب نے فرمایا ،غصہ نہیں اس کی گہرائی پر غور کیجیئے ۔ جیسے جیسے سوچتا گیا ،اس کے اس جملے کی حقیقت مجھ پر آشکار ہوتی گئی ،گرد اٹھتی گئی ،پردے وا ہوتے گئے اور سچ سامنے آتا چلا گیا ۔ مساجد تو اللہ کا گھر ہوتے ہیں اور اللہ تو سب کا ہے ،وہ بے نیاز ذات تو سب عیبوں سے مبرا ہے ،سبھی مسلمان چاہے اس کا کسی فرقے سے تعلق ہو ،اللہ کے گھر جا سکتا ہے مگر اللہ کے گھر میں اللہ کے ماننے والوں کو روکنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ میں بھی اس دوست کی طرح سوچنے لگا کہ مساجد نہیں دکانیں ہیں،جن میں مختلف مسالک نے اپنے نام کی تختیاں لگائی ہوئی ہیں ،اور اپنے ہی عقائد کے فتوؤں کی خرید و فروخت میں مصروف عمل ہیں ۔ مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ اگر کسی اور مسلک کا مخالف مسلک کی مسجد میں چلا جاتا ہے تو اسے عجیب سی نظروں سے دیکھا جاتا ہے اور بعض اوقات تو ایک اللہ کو ماننے والے اللہ کے گھر میں کسی ایک کے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑے نہیں ہوتے ۔ مثال کے طور پر اگر کوئی اللہ کا ماننے والا مسلمان مسلکی لحاظ سے بریلوی کی تختی لگائے اللہ کے گھر میں جس پر اہلحدیث کی پلیٹ آویزاں ہو داخل ہو جائے تو اسے عجیب بلکہ تھوڑا ناگوار نظروں سے گھورا جاتا ہے ،اسی طرح اگر کوئی اہلحدیث کا لیبل لگائے بریلوی مسجد میں چلا جائے تو اسے بھی اس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے،اسی طرح سبھی مسلمانوں کا یہی حال ہے ،طبقات بنے ہوئے ہیں ،فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں ،جو کہ مسلم امہ کے لیے لمحہء فکریہ ہے۔ انہی باتوں کو لے کر اغیار ہمارا تمسخر اڑاتے ہیں اور احباب کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ یہ مساجد نہیں مسلکی دکانیں ہیں ،جو کہ انتہائی درجے کا اسلام کے ساتھ گھناؤنے مذاق کے مترادف ہے۔ اس پر ایک واقعہ یاد آ رہا ہے خلافت عباسیہ 750 ؁ء میں قائم ہوئی ،عباسی خلفاء میں سب سے شہرت خلیفہ ہارون الرشید کو حاصل رہی ،جو اہل علم کے انتہائی قدردان تھے،ان کی سلطنت تین بر اعظموں پر پھیلی ہوئی تھی ،انہیں خاتون اول ملکہ زبیدہ سے بے پناہ محبت تھی ، ایک بار شدت جذبات میں آ کر کہ دیا کہ آج کی رات اگر تم نے میری سطلنت میں بسر کی تو تمہیں تین طلاق ہیں اور تم میری زندگی سے نکل جانا۔جب خلیفہ کے ہوش ٹھکانے آئے تو انہیں اپنی حماقت کا احساس ہوا،چنانچہ مفتیان کرام کو اکٹھا کیا گیا کہ اس مسئلے کا حل بتایا جائے ،سبھی نے کہا کہ اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ اگر ملکہ عالیہ کو سلطنت سے باہر بھیج دیا جائے تو پھر علیحدگی نہیں ہو گی ،اور مسئلہ یہ تھا کہ سلطنت کی حدود تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی ،اس وقت دنیا نے اتنی ترقی نہیں کی تھی جس کی وجہ سے فضائی سفر کی سہولت تو تھی نہیں ،اور سبک رفتار گھوڑے کے ذریعے بھی اس کی حدود کو رات سے پہلے پار کرنا ممکن نہیں تھا ، خلیفہ ہارون الرشید نے مفتیان کرام سے پوچھا کہ تم میں سے کوئی امام ابو حنیفہ کا شاگرد ہے تو انہوں نے کہا کہ ایک نوجوان دھوبی کا بیٹا ہے لیکن وہ یہاں موجود نہیں ہے ،خلیفہ نے ہرکارے دوڑائے کہ اسے بلایا جائے ،اسے حاضر کیا گیا اور مسئلہ بتا کر اس کا حل دریافت کیا گیا تو نوجوان نے کہا کہ علیحدگی نہیں ہو گی اگر ملکہ عالیہ آج کی رات مسجد میں بسر کرے اور ساتھ میں سورۃ جن کی آیت نمبر ۱۸ کا حوالہ دیا کہ مساجد تو اللہ کے گھر ہیں ان پر کسی کی حکومت نہیں ،وہ نوجوان ابو یوسف ؒ تھے جن کی فراصت کو دیکھتے ہوئے بعد میں خلیفہ ہارون الرشید نے پوری سلطنت کا قاضی القضاء (چیف جسٹس) مقرر کر دیا تھا۔ مندرجہ بالا واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ایک وقت تھا جب مساجد صرف مسلمانوں کی تھیں ان پر کسی مسلک کی چھاپ نہیں ہوتی تھی ،بلکہ مسافر رات کو تھک ہار کر مساجد میں ٹھہرا کرتے تھے ،ان مساجد سے محبت کا درس دیا جاتا تھا ،امن کا سبق پڑھایا جاتا تھا ،باہمی محبت و یگانگت کے فروغ کے لئے محافل منعقد ہوتی تھیں ،مساجد کو معاشرے میں ایک ایسا مقام اور اہمیت حاصل تھی کہ باہمی جھگڑوں کو مساجد میں ختم کروایا جاتا تھا ۔ لیکن پھر کیا ہوا ،پھر ایک ایسی ہوا چلی جس نے سب کچھ الٹ کا رکھ دیا ،مساجد جو صرف مسلمانوں کی تھیں ان پہ مسالک کی چھاپ لگ گئی ،کوئی دیو بندی کی ،کوئی بریلوی کی ،کوئی اہل حدیث کی،کوئی وہابی کی ،کوئی اہل تشیع کی ،کوئی اشاعت تو حید کی تو کوئی کسی اور مسلک کی مسجد بن گئی ،اب تو یہ حال ہو چکا ہے کہ ہر کسی نے چار اینٹیں ڈال کر اپنی مسجد بنا لی ،لاؤوڈ اسپیکرز سے ایک دوسرے کے خلاف نفرت کے ترانے گونجنے لگے ،منبر رسولﷺ جہاں محبت کا درس اور بھائی چارے کی باتیں کی جاتی تھیں وہاں سے ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے جاری کئے جانے لگے ،مساجد جہاں مسافر ٹھہرا کرتے تھے وہاں تالے پڑ گئے ،اور ہر کسی نے اسلام کے احکامات کو تو بھلا دیا ،سنت نبویﷺ کو تو پس پشت ڈال دیا ،دلوں کو سنوارنے کی بجائے صرف مساجد کو ہی سجانے سنوارنے لگے ان کے اوپر اپنے مسلک کا لیبل لگانے لگے ۔ اس لئے ہم مساجد کو صرف اللہ کا گھر ہی بنائیں وہاں کسی کی اجارا داری کی بجائے صرف مسلمان اپنے رب کی احکامات کی پیروی کرتے دکھائی دیں،آپ کسی کو برا نہ کہیں ،کسی پر آوازیں نہ کسیں ،کوئی ہاتھ کھول کر نماز پڑھتا ہے تو اسے پڑھنے دیں ،کوئی ہاتھ باندھ کر پڑھتا تو بھی پڑھنے دیں ،کوئی رفع یٰدین کرتا ہے تو اسے بھی مسلمان سمجھیں جو نہیں کرتا اسے بھی مسلمان ہی سمجھیں ،کوئی آمین بلند آواز میں کہتا ہے تو کہنے دیں جو آہستہ کہتا ہو تو اس پر بھی قدغن نہ لگائیں ،کوئی پاؤں کھول کر نماز میں قیام کرتا ہو تو اسے بھی اجازت ہو اور جو سمیٹ کر نماز ادا کرتا ہو تو اس کو منع نہ کریں۔اگر ہم نے یہ کر لیا تو ہم مسالک کی بجائے صرف مسلمان بن جائیں گے اور جس دن ہم مسلمان بن گئے ،مسالک کی چھاپ ہٹ گئی تو تفرقوں میں بٹی یہ قوم دنیا کی سب سے مضبوط قوم ہو گی اور کوئی یہ نہیں کہے گا کہ یہ مساجد نہیں دکانیں ہیں۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo