صحافی،مزاح نگار اور شاعرہ ڈاکٹر عارفہ صبح خان کا انٹرویو

صحافی،مزاح نگار اور شاعرہ ڈاکٹر عارفہ صبح خان کا انٹرویو

تفکر – آپ کا پورا نام؟

ڈاکٹر عارفہ صبح خان۔۔عارفہ ادریس خان

تفکر – قلمی نام؟

ڈاکٹر عارفہ صبح خان۔۔ڈاکٹر عارفہ صبح خان

تفکر – کہاں اور کب پیدا ہوئیں؟

ڈاکٹر عارفہ صبح خان۔۔10 دسمبر 1970ء کو لاہور کے دل ہال روڈ میں آنکھ کھولی

تفکر – تعلیمی قابلیت؟

ڈاکٹر عارفہ صبح خان۔۔پی ایچ ڈی اردو ادبیات

تفکر – ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

ڈاکٹر عارفہ صبح خان۔۔فاطمہ جناح گرلز ہائی سکول لاہور

تفکر – اعلی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

ڈاکٹر عارفہ صبح خان۔۔یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور

تفکر – پیشہ؟

ڈاکٹر عارفہ صبح خان۔۔صحافت اور معلمہ

تفکر –ادبی سفر کاآغاز کب ہوا؟

ڈاکٹر عارفہ صبح خان۔۔چوتھی جماعت میں پڑھتی تھی جب دو دلچسب مضامین لکھے۔دو نظمیں گڈی کی سالگرہ پر لکھیں۔چوتھی جماعت سے باقاعدہ خطوط نویسی کا بھی آغاز کر دیا تھا۔ویسے تو تیسری جماعت میں اپنی کزن،خالہ اور چچا کو بھی خط لکھے تھے۔پانچویں جماعت میں ایک کہانی”شہزادی نرگس” لکھی۔چھٹی جماعت میں مضامین،خطوط،کہانیاں اور تقریریں بھی لکھنا شروع کر دیں۔پہلی بار ساتویں جماعت میں ایک انتہائی مزاحیہ سکرپٹ لکھ کر اپنی سہیلی بشرٰی کو دیا اس سکرپٹ سے مجھے بہت پذیرائی ملی۔میں پورے سکول کی فیورٹ بن گئی۔ساتویں جماعت میں پہلی بار ایک ڈرامہ خود لکھا اور چار تقاریر لکھیں۔اس طرح میں رواں ہوگئی اور آٹھویں جماعت سے اخبارات و رسائل میں لکھنے لگی۔

تفکر – آپ نظم یا غزل میں کس سے متاثر ہوئیں؟

ڈاکٹر عارفہ صبح خان۔۔ویسے متاثر ہونے والی فطرت تو نہیں پائی میں نے۔متاثر کسی سے بھی نہیں ہوں۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نقاد بھی ہوں۔اس لیے میری نظر جہاں محاسن،خوبیاں اور خوبصورتیاں تلاش کر لیتی ہے وہیں میری نظر نقائص،خامیوں اور بد صورتیوں پر بھی بہت گہری رہتی ہے۔میں دنیا کی ہر اچھی چیز میں سے ڈھونڈ کر عیب نکال لاتی ہوں اور ہر بد صورت،مکروہ،منفی چیز میں سے اچھائی تلاش کر لیتی ہوں۔اس لیے میں کبھی متاثر ہوتی ہی نہیں۔میرا متاثر زدہ طبقے سے کوئی تعلق نہیں۔ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ کچھ لوگ یا ان کا فن دوسروں کے مقابلے میں اچھا لگا۔میرے پسندیدہ شاعروں میں جو غزل گو شعراء ہیں ان میں میر تقی میر،غالب،مومن اور نسبتاََ نئے شعراء میں احمد ندیم قاسمی،ناصر کاظمی،احمد فراز،ساحر لدھیانوی اور پروین شاکر پسند ہیں۔نظم کے میدان میں اقبال اور فیض زیادہ پسند ہیں۔اقبال کا بلند آہنگ اور فیض کی رومانیت پسندی،نرم،میٹھے رسیلے الفاظ ۔ موضوعات بھی دونوں کے نہایت فصیح و بلیغ ہیں۔

تفکر -کسی شاعر کا تلمذ اختیار کیا؟

ڈاکٹر عارفہ صبح خان۔۔توبہ کیجیے۔بچپن سے بہت بے چین اور بے قرار فطرت کی مالک ہوں۔میرے شوہر کا مقولہ ہے کہ”تمہیں مطمئن کرنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے” میں واقعی مطمئن نہیں ہوتی۔ہر کام کو اس کی انتہائی بلندیوں یا باریکیوں تک لے جاتی ہوں۔بچپن سے ہی سوال کرنے کی عادت گھٹی میں پڑی ہے۔لیکن پانچویں جماعت سے پی ایچ ڈی کرنے تک میں نے جب بھی سوال کیا ہمیشہ تشنہ کام رہی،کبھی شافی جواب نہیں ملا۔البتہ ڈاکٹر تحسین فراقی اور ڈاکٹر ناصر عباس نئیر سے گفتگو کر کے کافی تسلی اور  تشفی محسوس کی ہے۔خاص طور پر ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب کا علم بہت وسیع ہے۔مجھے نثر میں تو کسی سے ایک لفظ پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑی۔میں نے اردو ادبیات میں ڈاکٹریٹ کیا ہے لیکن اپنے پچیس سالہ کیرئیر کی بنیاد پر میں ایم فل ماس کمیونیکیشن سٹوڈنٹس کو بھی پڑھا رہی ہوں۔جو لیکچر میں تین گھنٹے دیتی ہوں وہ بقول طالب علموں کے ان کی زندگی کے بہترین لیکچرز ہوتے ہیں۔حالانکہ میں نے زندگی میں کبھی صحافت کی کوئی کتاب کھول کر نہیں دیکھی۔اس طرح جب میں نے گریجویشن کے بعد روزنامہ جنگ جوائن کیا تو صرف بیس سال کی طالبہ تھی۔کبھی جرنلزم نہیں کی تھی۔نہ کسی نے کچھ سکھایا تھا لیکن میں نے ڈھائی سال میں روزنامہ جنگ سے اتنا کام کر کے نام بنا لیا تھا جسے بنانے میں لوگ بیس سال لگا دیتے ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر انسان میں فطری صلاحیتیں ہوں تو اسے بیساکھیوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔میں صحافت،ادب،تعلیم میں بغیر کسی سفارش یا سہارے کے آئی تھی۔میرے پورے کیرئیر میں ایک بھی آدمی کھڑے ہو کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے میری سفارش کی یا میں نے اس سے مدد مانگی۔میرا سارا کیرئیر صرف اور صرف میرے کام اور اعتماد کی بنیاد پہ کھڑا ہے۔لوگوں نے کام بگاڑنے،نقصان پہنچانے،رکاوٹیں کھڑی کرنے اور بھٹکانے کی سر توڑ کوششیں کیں لیکن کسی نے بتانے،سکھانے،سمجھانے یا راستہ دکھانے کی کبھی کوشش نہیں کی۔اس لیے مجھے کبھی کوئی اہل ہی نہیں لگا کہ میں اسے استاد کا درجہ دیتی۔البتہ میں ڈاکٹر سلیم اختر کو مذاق سے منہ بولے استاد کہا کرتی تھی۔وہ ایم فل میں میرے استاد بھی رہے۔میں ان کی دل سے عزت کرتی ہوں اور انہوں نے بھی مجھے ہمیشہ اپنی بیٹیوں کی طرح عزت اور محبت دی۔تعلیمی میدان میں ڈاکٹر سلیم اختر اور ڈاکٹر تحسین فراقی یقینی طور پر میرے استاد ہیں۔میں صدق دل سے دونوں کا احترام کرتی ہوں۔نثر میں تو استاد پالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔میں نے خود اپنا اسلوب تراشا ہے اور اپنا راستہ متعین کیا ہے البتہ شاعری میں مجھے واقعتاََ ایک استاد کا غزہ اٹھانا چاہیے تھا لیکن جیسا کہ بتایا میری نیچر ہی ایسی ہے کہ خود راستوں کی کھوج میں رہتی ہوں اور کسی کا احسان اٹھانا پسند نہیں کرتی۔تاہم شاعری میں انسان کو جتنا بھی کمال حاصل ہو ایک استاد کی ضرورت رہتی ہے۔بحروں،اوزان اور ردھم کے لیے استاد کی مشاورت اہمیت رکھتی ہے۔میں نے اپنی پہلی اور دوسری شاعری کی کتابوں کو اپنی مدد آپ اور اپنے تجربوں کی بنیاد پر کیا۔خاص طور پر پہلی کتاب”اب صبح ہونے کو ہے” خالصتاََ میری اپنی شاعرانہ تجربہ گاہ ہے۔بعد میں مجھے احساس ہوا کہ اگر شاعری میں کسی کے آگے زانوئے تلمذ طے کر لیتی تو یہ ایک بہت شاندار کتاب بن جاتی۔لیکن پھر بھی مجھے خوشی ہے کہ بعض کوتاہیاں سرزد ہونے کے باوجود میں نے اپنے اعتماد کا کوہ پیمالیہ کھڑا کر لیا۔ویسے تو میں زمانہ طالب علمی سے ہی اپنی شاعری اخبارات و جرائد میں بھجوایا کرتی تھی جو بڑے طمطراق سے شائع ہوتی تھی۔ادبی ایڈیشنز اور رسائل کے مدیران اعلٰی پائے کے شاعر ہوتے تھے جو میری معصوم شاعری کو ٹھیک بھی کر دیا کرتے تھے اور میں خود بھی چلتے پھرتے،شاعروں میں یا خط لکھ کر احمد ندیم قاسمی،عطا الحق قاسمی،ڈاکٹر سجاد باقر رضوی،ڈاکٹر حسن رضوی وغیرہ سے کہتی،ذرا میری غزل پڑھ لیں۔وہ غزل پڑھتے ہوئے اس کی درستگی کر دیتے تھے لیکن میں نے کبھی کسی سے اوزان نہیں سمجھے۔بس اپنے بل بوتے پر شاعری کرتی رہی ہوں۔کبھی فرصت ملی تو استاد رکھ کے دیکھوں گی کہ کیا فرق پڑا۔ویسے تو میں بھی جانتی ہوں کہ پالش ہو کر ہر چیز چمک اٹھتی ہے۔پتھر کو تراشا جائے تو وہ بھی ہیرا بن جاتا ہے اور انمول ہیرا کسی پہاڑ کی اوٹ میں رہے تو کسی کو اس کی خیرہ کن چمک اور قدرو قیمت کا اندازہ بھی نہیں ہوتا۔

تفکر – ادب کی کون سی صنف زیادہ پسند ہے؟

ڈاکٹر عارفہ صبح خان۔۔ادب سے عشق ہے اور عشق میں معشوق کی ہر شے سے عشق ہوتا ہے۔ذاتی طور پر میری زندگی میں بہت تنوع ہے۔میری نیچر کسی ایک چیز پر قانع ہونے والی نہیں ہے۔مجھے ہر رنگ اچھا لگتا ہے۔میری زندگی میں ہر رنگ موجود ہے۔مجھے رنگوں سے عشق ہے۔میرے لیے یہ بتانا مشکل ہے کہ مجھے کونسا رنگ پسند ہے۔ویسےتو میری نیچر سے مناسبت رکھنے والارنگ سرخ ہے لیکن مجھے گلابی، سفید، سبز، نیلا، پیلا، جامنی، سیاہ سبھی رنگوں سے عشق ہے۔یہی حال میرا ادب اور زندگی میں ہے۔ادب میں مضمون، انشائیہ، افسانہ، ڈرامہ تقریباََ آدھی سے زیادہ اصناف پر طبع آزمائی کر چکی ہوں۔ابھی تک ناول،سفر نامہ اور آپ بیتی پر کام نہیں کیا۔امید ہے کہ جلد تمام اصنافِ ادب کو آزماؤ گی۔البتہ شعری کی تمام اصناف کو ٹچ کیا ہے۔صحافت میں بھی جہاں خواتین، ادب، تعلیم، شوبز، مذہب، سیاست، کھیل، کرائم اور بچوں کے موضوعات پر کام کیا ہے۔وہاں صحافت کے اکثر شعبوں مثلاََ ایڈیٹوریل، نیوز روم، میگزین، رپورٹنگ سبھی جگہ کام کیا ہے۔ پرنٹ کے علاوہ الیکٹرونک میڈیا کے لیے بھی کام کیا ہے اور کر رہی ہوں۔اس لیے مجھے ادب کی تمام اصناف سے دلچسبی ہے۔مزاح نگاری میرا اہم شعبہ ہے، اسے لکھنے سے بہت محظوظ ہوتی ہوں۔

تفکر – ادب کی کس صنف میں زیادہ کام کیا؟

ڈاکٹر عارفہ صبح خان۔۔میں نے زیادہ تر انشائیے،مضامین اور افسانے لکھے ہیں۔

تفکر – اب تک کتنی تصانیف شائع  ہو چکی ہیں؟

ڈاکٹر عارفہ صبح خان۔۔1″اب صبح ہونے کو ہے”

2 “صبح ہوگئی جاناں”

3 “عشق بلا خیز”

تفکر -نثری تصانیف اور ان کی تعداد؟

ڈاکٹر عارفہ صبح خان۔۔ عکس زن، اماں حوا سے اماں کونسلر تک، شٹ اپ، تجاہل عارفانہ، مابدولت، ادبی ستارے، اردو تنقید کا اصلی چہرہ ،کُرکُرے کردار، کافر ادا، تنقیدی گرہیں، سیاستدانوں کے سائڈ ایفیکٹس۔

تفکر – اپنے خاندان کے حوالے سے کچھ بتائیں؟

ڈاکٹر عارفہ صبح خان۔۔میں یوسفزئی پٹھان ہوں۔میرا اصل تعلق سوات سے ہے۔گیارہویں پشت میں آباؤ اجداد سوات میں رہا کرتے تھے۔محمد بارے خان جن کا تعلق بارہویں پشت سے ہے ان کی قبر آج بھی سوات میں ہے۔بعد ازاں تعلیم اور تجارت کی غرض سے گیارویں پشت میں یہ دہلی اور غازی آباد میں جا بسے۔ تقریباََ سات نسلیں انڈیا میں رہیں۔قیام پاکستان سے چار نسلوں سے پاکستان میں آباد ہیں۔میرے دادا جان سعید محمد خان اپنے وقت میں جج تھے۔جبکہ پردادا علاقے کے ایس ایس پی تھے۔سارا شہر ان کے کنٹرول میں تھا۔میرے والد کے نانا مرزا حسن رضا بیگ مسلم لیگ غازی آباد کے صدر اور قائداعظم محمد علی جناح کے قریبی دوست تھے۔میری پردادی کے فرسٹ کزن بابائے اردو مولوی عبد الحق تھے۔میرے والد ادریس محمد خان اس وقت سولہ سال کے تھے جب وہ بھی جلسے جلوسوں میں جانے لگے۔ انہی دنوں میٹرک کر کے انہوں نے دہلی کالج میں داخلہ لیا، جب میرے والد ادریس محمد خان (گولڈ میڈلسٹ) نے اپنے ماموں کے ساتھ مل کر ضلع غازی آباد میں ایک بہت بڑے جلسے کا انتظام کیا۔یہ ایک شاندار اور کامیاب جلسہ تھا جس کی صدارت قائداعظم محمد علی جناح نے کی۔انہوں نے بہترین انتظامات کو بہت سراہا۔جس پر میرے دادا جان نے قائداعظم کو بتایا کہ آج کے جلسے کی کامیابی کا سہرا اس نو عمر لڑکے ادریس محمد خان کے سر ہے جس نے ایک ہفتے کی انتھک محنت سے جلسے کو کامیاب بنایا ہے۔قائداعظم نے اس نوجوان لڑکے ادریس محمد خان کو گلے لگا لیا اور انہیں مسلم لیگ غازی آباد کا جنرل سیکرٹری مقرر کر دیا۔اس دوران وہ سٹوڈنٹ فیڈریشن کے بھی سیکرٹری منتخب ہو گئے۔میرے والد اور دادا جان نے تحریک پاکستان کے لیے جان اور مال کی بے انتہا قربانیاں دیں۔میرے والد ہجرت کے وقت اکیلے پاکستان آئے اور مہاجرین کو پنجاب سے سرحد تک آباد کیا۔صوبہ سعحد کے وزیر جلال بابا نے میرے والد کو سیکرٹری بنا دیا۔چند ماہ بعد میرے والد اپنی والدہ اور چھوٹے بھائی کو پاکستان لے آئے۔تقسیم ہند سے چند دن پہلے میرے دادا مسلم لیگ غازی آباد کے صدر کا انتقال ہوگیا۔باقی فیملی نے کہا کہ اپنے آباؤاجداد کی سر زمین اور کاروبار،جائیدادیں گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنا ممکن نہیں،لیکن میرے والد نے اس بات کی پرواہ نہیں کی اور خاندان کو چھوڑ کر والدہ اور بھائی کو لے کر پاکستان آگئے۔یہ میرے عظیم باپ کی بہت بڑی قربانی تھی۔پاکستان بننے کے سترہ سال بعد میرے والد نے شادی کی۔اس دوران انہوں نے پنجاب سے صوبہ سرحد تک تمام مہاجرین کی آباد کاری کےفرائض انجام دیئے اور بہت سے معاملات میں تحریک پاکستان کے اکابرین کے ساتھ مسلسل کام کیا جس میں سے ایک اہم کارنامہ کارکنان تحریک پاکستان کے دفتر کا قیام ہے۔نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور ایوانِ قائداعظم اسی کاوشوں کا تسلسل ہے۔

تفکر – ازدواجی حیثیت؟

ڈاکٹر عارفہ صبح خان۔۔میری شادی 1995ء میں ہوئی۔

تفکر – فیملی ممبرز کے بارے میں بتائیے؟

ڈاکٹر عارفہ صبح خان۔۔میری شادی بہاولپور کے معروف حکیم خاندان خورشید احمد کے صاحبزادے ظفر آفتاب کے ساتھ ہوئی۔حکیم خورشید احمد کے دوستوں بزرگوں میں حکیم اجمل خان اور حکیم محمد سعید شامل ہیں۔یہ ایک علمی،ادبی اور سیاسی خاندان ہے۔میری ایک اکلوتی بیٹی ہے جو 1998ء میں پیدا ہوئی آپ اسے اتفاق ہی کہہ سکتے ہیں لیکن حیرت انگیز بات ہے کہ میری والدہ کا کوئی بھائی نہیں تھا جب ہم بہنیں پیدا ہوئیں تو ہمارا بھی کوئی بھائی نہیں تھا۔مجھے بہت خواہش تھی کہ کہ میرے بھی ماموں ہوتے۔چلو ماموں نہیں تو بھائی ہوتا لیکن اندازہ کیجیے کہ میری بیٹی کا بھی بھائی نہیں ملا۔شاید ایسا کم ہی ملا ہو کہ تین نسلوں میں بہنوں کو کوئی بھائی نہیں ملا۔میرے وجود میں بھی کہیں یہ دکھ چھپا بیٹھا ہے کہ مجھے بھی اللہ نے بیٹا نہیں دیا لیکن زندگی بھر ہر منفی کو مثبت سے بدلا ہے۔اس لیے نہ کبھی ملال کیا نہ گلہ بلکہ اسے بھی زندگی کی حقیقت سمجھ کر خوش دلی سے قبول کیا۔حالانکہ اس درد اور کسک کو صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے اس درد کا ذائقہ چکھا ہے۔میرے اندر کہیں یہ درد ٹھہرا ہوا ہے لیکن میں اپنی زندگی میں اپنے شوہر اور بیٹی کے ساتھ ایک مکمل خوشگوار اور بھر پور زندگی گزار رہی ہوں۔

تفکر – آج کل کہاں رہائش پذیر ہیں؟

ڈاکٹر عارفہ صبح خان۔۔(ہنس کر)۔جی گھر میں رہائش پذیر ہوں۔لاہور کی ایک خوبصورت لوکیشن میں رہتی ہوں۔جگہ اس لیے نہیں بتا سکتی کہ انٹرویو شائع ہوتے ہی پرستار پہنچ جائیں گے اور میں اس قسم کی پرستاری”افورڈ” نہیں کر سکتی۔

تفکر – بچپن کی کوئی خوبصورت یاد؟

ڈاکٹر عارفہ صبح خان۔۔میرا بچپن بہت خوبصورت اور مکمل تھا۔ایک نہیں سینکڑوں یادیں ہیں۔میں تو خدا سے روز کہتی ہوں کہ ایک بار میرا بچپن لوٹا دے۔میں گڑیوں،پرندوں اور سہیلیوں،کزنز سے بہت کھیلتی تھی۔جب میں پانچ سال کی تھی تو ہم جھنگ تین سال رہنے کے لیے چلے گئے۔ہمارا گھر ریلوے سٹیشن کے قریب تھا۔میں کھیلنے کے بہانے اپنی چھوٹی بہن کی انگلی پکڑ کر ریلوے سٹیشن چلی جاتی تھی اور پلیٹ فارم پر بیٹھ کر گاڑی کو بھاگتے دیکھتی تھی۔ایک سال یہی شغل رہا۔ایک دن ایک لڑکے کو ٹرین کے آگے سے بھاگتے دیکھا تو مجھے بھی ایڈوینچر سوجھا۔میں چھ سال کی ہوگئی تھی اور چھوٹی بہن چار سال کی تھی جب ٹرین سامنے سے آرہی ہوتی تھی تو میں ٹرین کے آگے سے بھاگتی ہوئی گزر جاتی تھی۔یہ کام میں ہر چھٹی کے دن ضرور کرتی تھی اور لگاتار دو سال تیزی سے آتی ہوئی ٹرین کے آگے سے گزر جاتی تھی اب حیران ہوتی ہوں کہ میرے لیے یہ انتہائی دلچسپ کھیل بادی نظر میں کس قدر خوفناک تھا۔صرف ایک لمحے کی تاخیر سے میں پیوند خاک ہوسکتی تھی۔میں یہ کام بکثرت کرتی تھی اور دو سال اسی ایڈوینچر سے کھیلتی رہی۔حیرت ہے کہ خدا نے مجھے موت کے کنوئیں میں جانے سے بچائے رکھا ورنہ ذرا سی چوک سے میرا کام تمام ہوجاتا۔

تفکر – ادبی سفر کے دوران میں کوئی خوبصورت واقعہ؟

ڈاکٹر عارفہ صبح خان۔۔میں کرنل محمد خان کا انٹرویو کرنے گئی ہوئی تھی۔میں نے کرنل محمد خان کی تقریباََ سبھی کتابیں پڑھ رکھی تھیں اور مجھے ان سے ملنے کا بہت شوق تھا۔اس وقت میری عمر اکیس بائیس سال تھی۔میرے اندر بے انتہا بچپنا اور کھلنڈرا پن تھا۔کرنل محمد خان نے شفیق الرحمان کو بھی بلا لیا تھا کہ لاہور کی ایک چنچل صحافی اور مزاح نگار آرہی ہے۔اس وقت تک میری کوئی کتاب شائع نہیں ہوئی تھی لیکن میں سکول کے زمانے سے مزاحیہ مضامین لکھ رہی تھی۔مرحومہ رخسانہ نور میرے انشائیے روزنامہ جنگ میں بہت خوبصورت کر کے شائع کرتی تھی۔دوسری طرف زبیدہ خانم اور فرزانہ ممتاز نوائے وقت،امروز میں مجھے بہت محبت اور اہتمام سے شائع کرتی تھین۔ اس کی اصل وجہ میرے دلچسپ اور نٹ کھٹ خطوط ہوتے تھے جن کی وجہ سے میں تمام اخبارات و جرائد میں بہت مقبول اور لاڈلی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس زمانے میں جب کہ میں ابھی طالبہ تھی تو مجھے کرنل محمد خان،احمد ندیم قاسمی،اشفاق احمد،بانو قدسیہ،احمد فراز،امجد اسلام امجد،عطاالحق قاسمی،ڈاکٹر حسن رضوی،ڈاکٹر سعادت سعید سبھی میرے نام اور تحریروں سے واقف ہو چکے تھے۔کرنل محمد خان کافی عرصے سے میری مزاحیہ تحریریں پڑھ رہے تھے۔اسی لیے انہوں نے میری کتاب”شٹ اپ” میں مجھے”خواتین کی پطرس بخاری” کا خطاب دیا۔خیر جب میں اندر داخل ہوئی تو کرنل محمد خان مرحوم کو دیکھ کر کہا”شکر ہے آپ اب تک نہیں مرے۔مجھے یہی ڈر تھا کہ مجھ سے ملے بغیر آپ مر نہ جائیں”۔

کرنل محمد خان اور شفیق الرحمان ایک دم حیران ہو کر مسکرا دئیے۔میں نے جوش میں بات جاری رکھتے ہوئے کرنل محمد خان سے کہا کہ میں نے پہلی مرتبہ آپ کو نویں جماعت میں پڑھا تھا۔پھر فرسٹ ائیر میں بھی پڑھا۔بی اے میں بھی پڑھا اور آپ کو سارا ہی پڑھ ڈالا۔آپ کی وہ کتابیں کئی سال پرانی ہیں۔اس وقت تو آپ کا وہ بیٹا بھی میرے انکل کے برابر ہے جس کے متعلق آپ نے”قدر ایاز” لکھی تھی۔اس لیے مجھے ہر وقت کھٹکا رہتا تھا کہ کہیں آپ مجھ سے ملے بغیر مر نہ جائیں۔آپ نہیں جانتے کہ میں آپ کی کتنی بڑی فین ہوں۔اگر خدانخواستہ میرے صحافی بننے تک آپ عدم کے راستے پر چل نکلتے تو ادب میں ایک خلا پیدا ہو جاتا۔ایک عظیم ادیب ایک بڑے انٹرویو کے بغیر اللہ کو پیارا ہو جاتا۔میری باتیں سن کر کرنل محمد خان تو حیرت میں آگئے مگر شفیق الرحمان کھلکھلا کر ہنس پڑے تو میں نے کہا یہ انکل بچوں کی طرح کیوں ہنس رہے ہیں۔اور دخل در معقولات کے مرتکب ہو رہے ہیں۔کرنل محمد خان نے میری لاعلمی دیکھ کر میرا تعارف کروایا اور کہا یہ مزاح کی دنیا کے بادشاہ ہیں شفیق الرحمان۔جن کی مشہور کتابیں”حماقتیں،مزید حماقتیں،اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”میں نے ذرا سا منہ بنا کر کہا۔۔اچھا تو جناب کا ادب حماقتوں پر مشتمل ہے۔شفیق الرحمان نے کہا کیا آپ نے مجھے پڑھا ہے؟میں نے ذرا غرور سے کہ آپ کو اور آپ کی کتابوں کو۔۔۔۔۔۔۔دونوں کو نہیں پڑھا۔ایک کتاب “دجلہ” پڑھنے کی کوشش کی لیکن مزا نہیں آیا۔آپ مزاح کی جگہ سنجیدہ چیزیں لکھا کریں۔البتہ آپ کا نام اور آپ کی کتابوں کے نام سنے ہوئے ہیں۔شفیق الرحمان نے سر جھکا کر خوش دلی سے کہا’ذرہ نوازی ہے آپ کی’

اس دوران میں نے کرنل محمد خان سے سوال شروع کر دیئے۔شفیق الرحمان مسکراتے رہے۔ایک آدھ بار لقمہ بھی دیا۔تو میں نے ذرا اِترا کر کہا’اچھا آپ اتنے بے چین نہ ہوں میں لگے ہاتھوں آپ کا بھی انٹرویو کر لیتی ہوں۔کیا یاد کریں گے آپ بھی۔۔۔۔۔۔۔۔

شفیق الرحمان نے گہری اور شوخ مسکراہٹ کے ساتھ میرا بچکانہ جواب سنا اور بولے آپ نے میری کتابیں تو پڑھی نہیں۔۔انٹرویو کیسے کریں گی؟

میں نے گردن اکڑا کر کہا یہ آپ کا نہیں میرا مسئلہ ہے۔میرے پاس سوالوں کی پوری پٹاری ہوتی ہے۔میں آپ سے ایسے سوال کروں گی کہ آپ سب کچھ خود ہی بتا دیں گے۔شفیق الرحمان نے انجوائے کرتے ہوئے پوچھا” تو آپ سب کے انٹرویوز ایسے ہی کرتی ہیں؟” اب میں نے تیوری چڑھا کر کہا ہیلو انکل۔۔۔آپ مجھے UNDER ESTIMATE نہ کریں۔میں جب سوال کروں گی تو آپ خود ہی سب کچھ بتاتے چلے جائیں گے۔آپ کے ہر جواب سے میرے تین سوال نکل آئیں گے۔مجھے کسی بھی شعبے کے آدمی سے انٹرویو کے لیے کہا جاتا ہے تو میں اس سے پانچ بنیادی سوال کرتی ہوں۔وہ خود ہی اپنے اور اپنے کام کے متعلق سب کچھ بتا دیتا ہے۔آپ کو ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔اور ہاں ٹینشن دینے کی تو بالکل ضرورت نہیں ہے۔خیر کرنل محمد خان کے انٹرویو کے دوران اور بعد میں میری شفیق الرحمان سے کافی نوک جھونک رہی۔چلتے ہوئے انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ اپنا ٹارگٹ ACHIVE نہیں کر سکیں۔میں نے ادائے بے نیازی سے کہا یہ تو آپ کو چند دن بعد پتہ چلے گا۔لاہور آکر میں نے کرنل محمد خان کا انٹرویو شائع کیا جو اس قدر مقبول ہوا کہ لاہور کے علاوہ کراچی،کوئٹہ،ملتان اور اسلام آباد میں بھی شائع کیا گیا اور پھر لندن کے جنگ میگزین میں بھی شائع ہوا۔ایک دن میں بیٹھی ہوئی تھی تو شفیق الرحمان کی باتیں یاد آگئیں۔ اسی وقت بیٹھ کر انٹرویو لکھنا شروع کر دیا۔یہ انٹرویو نہ تو ریکارڈ کیا گیا تھا نہ اس کے نوٹس لیے گئے تھے اور نہ باضابطہ سوال کیے گئے تھے۔کرنل محمد خان کے ہاں زبانی کلامی جو گفتگو ہوئی تھی، یہ سارا انٹرویو اسی پر مشتمل تھا۔اس انٹرویو کو بہت سراہا گیا۔اس وقت یہ میری مشہور کتاب”ادبی ستارے” میں موجود ہے۔

تفکر – ادب میں کن سے متاثر ہیں؟

ڈاکٹر عارفہ صبح خان۔۔کئی ادیب پسند ہیں۔میں سر سید احمد خان کو بھی بہت بڑا ادیب مانتی ہوں۔انتہائی عجلت میں بغیر سجائے سنوارے لکھے گئے مضامین زبان،موضوع اور تنوع کے لحاظ سے آج بھی بہت بڑے فن پارے ہیں۔سر سید ایک زبردست اور اعلٰی شخصیت تھے۔اچھے منتظم ہونے کے ساتھ اچھے لکھاری بھی تھے۔مرزا ہادی رسواء،شبلی نعمانی،مولانا حالی،سعادت حسن منٹو،مرزا فرحت بیگ،عظیم بیگ چغتائی،غلام عباس،کرشن چندر،راجندر سنگھ بیدی،پریم چند،جمیلہ ہاشمی،ممتاز مفتی،پطرس بخاری،شوکت تھانوی اور بہت سے ہیں۔

تفکر – ادبی رسائل سے وابستگی؟

ڈاکٹر عارفہ صبح خان۔۔بے شمار اخبارات اور رسائل سے وابستگی رہی۔اب تو سب کے نام بھی یاد نہیں۔لیکن جہاں باقاعدہ جاب کی یا لکھا ہے ان میں سب سے پہلے”اخبار خواتین”کا نام ہے۔روزنامہ جنگ سے باقاعدہ جاب کا آغاز کیا۔اس کے علاوہ روزنامہ نوائے وقت سے تاحال وابستہ ہوں۔اس دوران روزنامہ پاکستان،روزنامہ انصاف سے بھی تعلق واسطہ رہا۔

تفکر – ادبی گروپ بندیوں اور مخالفت کا سامنا ہوا؟

ڈاکٹر عارفہ صبح خان۔۔میں کبھی کسی ادبی گروہ بندی کا شکار نہ ہوئی بلکہ میں پاکستان کے دو مشہور گروپس کی فیورٹ رہی ہوں، یعنی احمد ندیم قاسمی گروپ اور وزیر آغا گروپ۔مجھے دونوں ادبی گروپوں سے کوئی شکایت نہیں رہی۔میں سب کو بڑا محترم اور اہم سمجھتی رہی ہوں۔مجھے دونوں گروپوں سے پیار اور پزیرائی ملی ہے۔البتہ میں کبھی کسی گروپ سے وابستہ نہیں ہوئی۔ہر گروپ میں کچھ اچھے اور کچھ برے لوگ ہوتے ہیں۔یہ نہیں ہوتا کہ ایک طرف فرشتے بیٹھے ہوئے ہیں اور دوسری طرف شیاطین۔ میں گروپ بازی کی قائل نہیں۔گروپ بنا کر آدمی اس لیے چلتا ہے کہ وہ خود اپنی ذات میں بونا،بودا،کمزور،یا نا اہل ہوتا ہے۔گروپ میں آکر بیساکھیاں مل جاتی ہیں۔لوگ اپنے لنگڑے گھوڑے کو بھی دوڑا دیتے ہیں۔ہر طرح کی سپورٹ مل جاتی ہے۔ہر محاذ پر سہارا دینے والے مل جاتے ہیں۔پی آر شپ سے بھی ناقص مال امپورٹ ایکسپورٹ ہوجاتا ہے۔گروپ کے لوگ دو نمبر کتاب کی بھی پزیرائی کا اہتمام کر دیتے ہیں اور بیکار،مجہول شعر پر بھی واہ واہ ہو جاتی ہے۔گروپ بندی سے نا اہل،نکمے اور نالائق آدمی کو بھی ادب میں جگہ مل جاتی ہے۔ہر فنکشن میں بھی ایسے لوگ دکھائی دیتے ہیں۔گروپ میں آکر معمولی درجے کا آدمی یا عورت معتبر بن جاتا ہے۔ایسے لوگوں کو ایوارڈ اور عہدے بھی مل جاتے ہیں جنہیں پروف ریڈر ہونا چاہیے۔وہ بھی ادیب اور شاعر کہلانے لگتے ہیں۔نہ میں کسی گروپ کا حصہ ہوں اور نہ ہی مجھے کسی سہارے کی ضرورت ہے۔سہارے ہمیشہ کمزور لوگ تلاش کرتے ہیں۔میں اللہ کے فضل سے بہت مضبوط اور توانا ہوں۔اپنی صف میں ڈٹ کر کھڑی ہوں۔

تفکر – ادب کے حوالے سے حکومتی پالیسی سے مطمئن ہیں؟

ڈاکٹر عارفہ صبح خان۔۔یہ تو آپ نے دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھ دیا۔سچ سننے کا حوصلہ ہے تو سنئیے۔سوال یہ ہے کہ حکومت کی کوئی ادبی پالیسی ہے؟جن کے پاس علم نہیں،ادب نہیں،ان بیچاروں کی کیا پالیسی ہوگی۔ہماری موجودہ حکومت کا آدھے سے زیادہ حصہ جعلی ڈگریوں پر کھڑا ہے۔حکومتی ارکان میں سے بمشکل 35 فیصد گریجویٹ ہوں گے۔صرف پانچ فیصد تعلیم یافتہ ہونگے۔ 60 فیصد کی جعلی اور سفارشی ڈگریاں ہیں۔زیادہ تر حکومتی عہدیدار میٹرک اور انڈرگریجوایٹ ہیں۔میں کم از کم پنجاب کے تین ایسے وزیر تعلیم کو جانتی ہوں جو میٹرک کر کے وزیر تعلیم بنے۔جس ملک کا وزیر تعلیم میٹرک پاس ہو وہاں کی تعلیم کی شرح کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں _ ادب کے معاملے میں تو ہماری حکومتیں ویسے ہی عقل سے پیدل رہی ہیں.ادب ان کی نظر میں طوطا مینا کی کہانی ہے۔وہ ادب کو تمام شعبہ جات میں ایک شو پیس سمجھتے ہیں۔ن لیگ نے کبھی ادب کو پروان نہیں چڑھایا۔پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے ہمیشہ صرف چاپلوسوں ‘ قصیدہ خوانوں اور مکھن بازوں کو عہدے دیے ہیں۔جن کا ادب میں معمولی درجے کا کام تھا،انھیں بڑی بڑی ادبی تنظیموں کا سربراہ بنایا گیا۔ایسے کالم نگاروں کو پرموٹ کیا گیا جن کا براہ راست ادب سے کوئی تعلق واسطہ نہیں تھا۔اس سے بھی شرمناک حقیقت یہ ہے کہ ملک کے عظیم اعلی پائے کے ادباء،شعرا،نقاد و محققین، فلسفیوں اور دانشوروں کی جگہ ایسے چاپلوس اور دو نمبر کالم نگاروں یا ادیبوں شاعروں کو ایوارڈ دیے گئے جو کسی بھی طرح ان ایورڈز کے مستحق نہیں تھے۔ان لوگوں کو تو ادباء شعرا کے نام تک معلوم نہیں ان کی تصنیفات یا خدمات کیا معلوم ہونگی۔جو اربوں کڑوروں کے فنڈز ادب اور ادیبوں کے لیے جاری ہوتے ہیں ان کی کوئی مانیٹرنگ نہیں ہوتی۔ چاپلوس اور خوشامدی افراد کو عہدے تفویض کر دیے جاتے ہیں۔اور قصیدہ خوانی کی بنیاد پر ان عہدوں پر بیٹھنے والے اپنے بھائی بندوں اور سہیلیوں کو نوازتے ہیں۔ادب میں تو ایسے لوگوں نے غدر مچا رکھا ہے۔ان لوگوں نے ادب کو بھٹیار خانہ بنا رکھا ہے۔حکومت اہل’قابل’ ذہین’زیرک اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کا سامنا کرنے سے گھبراتی ہے۔حکومت سمجھتی ہے کہ وہ اعلیٰ دماغ کے لوگوں کے آگے نہیں ٹھہر سکے گی یا اعلی تعلیم یافتہ طبقے نے کوئی نکتہ اٹھا لیا،کوئی پیچیدہ سوال کر لیا،کوئی فلسفیانہ نظریہ پیش کر دیا تو یہ اسے نہیں سمجھ سکیں گے اور سب کے سامنے سبکی ہو گی۔اس لیے پارٹی میں بھی جو جینئس ہوتے ہیں انہیں عہدوں،وزارتوں سے دور رکھتے ہیں۔پیپلزپارٹی اور ن لیگ کا منشور یہی رہا ہے کہ عقل کے اندھوں اور انڈر گریجویٹوں کو وزارتیں دو تا کہ یہ دب کر رہیں۔ظاہر ہے کہ علمی طور پر کمزور آدمی بنیادی طور پر اعتماد سے محروم رہتا ہے۔اپنی کمزوریاں،عیوب چھپانے کیلئے خوشامد،جی حضوری تابعداری کرتا ہے لیکن عالم نہ جھکتا ہے نہ دبتا ہے۔حکومتی سطح پر میرے ہوش میں تو کبھی کوئی علمی وادبی کام نہیں ہوا۔پہلے کا پتہ نہیں۔جو حکومت علمی،ادبی اور معاشی سطح پر بودی ہو۔وہ یقیناً حکمرانوں کی جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہوتی ہے۔آئی ایم ایف سے قرضے لے کر امریکہ اور یورپی یونین سے فنڈز لے کرعوام سے ناجائز ٹیکسوں کی وصولی کر کے مصنوعی معشیت مضبوط دکھانے سے پاکستان معاشی طور پر مضبوط نہیں ہوا ہے بلکہ بحرانوں کا شکار ہے۔اسی طرح مصنوعی تعلیمی ترقی سے پاکستان تعلیم یافتہ نہیں کہلا سکتا اور نا سفارشی ایڈورڈں اور مصنوعی عالمی کانفرنسوں سے ادب ترقی نہیں کر سکتا۔ اگر حکومت حقیتاََ تعلیم کا معیار بلند کر دے اور ادب کو فروغ دے تو معاشرہ، قوم،افراد،سیاستدان اور حکمران سبھی ترقی اور تہذیب کی شاہراہ پرنظر آئیں لیکن یہاں تو جنیوئین ادیب شاعر اور دانشور کا استحصال کیا جاتا ہے۔اصلی ادباء اور شعرا کا حق مارا جاتا ہے۔اس استحصالی رویے سے ہمارے ادب میں اغلاط اور زوال آیا ہے۔اب ایسا ادب وجود میں آ رہا ہے جو وقت کی گرد میں قلیل ہو جائے گا یا کچرے کا ڈھیر بن جائے گا_ ۔ادب کی کسوٹی یا وقت کی چھلنی میں چھن کر صرف حقیقی اور اصلی ادب بچے گا۔حکومت نے صحافیوں میں تو اپنے مطلب اور مفادات کی خاطر طبقات پیدا کر دیے ہیں۔اب ادب میں بھی استحصالی رویہ اختیار کر کہ ادب کو نا قابل تلافی نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔دو نمبر ادیبوں شاعروں کو کاسہ اور چرب زبانی کی بنیاد پر پروموٹ کر کے بربادی اور زوال کی ایک نئی داستان رقم کر رہے ہیں۔کہیں ایسا نہ ہو اس استحصال،نا انصافی اور نا قدری سے  دنیا پاکستانی ادب کی کم مائیگی اور پسماندگی کی مثالیں دے۔کیونکہ دو نمبر ادب کی پروموشن سے قاری بھی بھاگ رہا ہے۔اور وہ وقت دور نہیں جب ہم قاری کا نوحہ لکھیں گے اس لیے ادب کو سیاسی شکنجوں اور ہتھکنڈوں سے آزاد کیا جائے۔

تفکر – اردو ادب سے وابستہ لوگوں کے لئیے کوئی پیغام؟

ڈاکٹر عارفہ صبح خان۔۔سچا اور حقیقی ادب زندہ رہتا ہے اگر ارسطو کی ” بوطیقا ” زندہ ہے تو اس کی وجہ اس کی عظمت ہے۔اس لیے صرف یہی کہوں گی کہ پاکستانی ادب کو عزت اور عظمت دیں۔ جیسے یونانی، جرمن، فرانسیسی، اطالوی، روسی، اپانی ادب عظیم ہے۔ایسے ہی اردو ادب کو وقار اور اعتبار بخشیں۔دوسرا، اپنے ادیب ساتھی کو عزت اور محبت دیں۔اسے پزیرائی دیں،جب تک ہمارا قبیلہ ایک دوسرے کا احترام کرنا نہیں سیکھے گا تب تک باہر کا کوئی فرد ہمیں مقام و مرتبہ نہیں دے گا۔گروہ بندیاں اچھی چیز نہیں مسلمان آج تک اسی لیے نہیں پہنچے کہ وہ گروہ بندیوں،فرقوں اور تفرقوں میں پڑ گئے۔ادب کا قبلہ کعبہ ایک ہونا چاہیے۔جب گروپ وجود میں آتے ہیں تو منفی اور انتقامی رویوں کی پرورش ہوتی ہے۔ادیب اور شاعر کا کام معاشرے کی اصلاح اور محبت کو عام کرنا ہے۔نفرت،بغض،حسد،رنجش اور انتقام ادب کا مسلک نہیں۔ادب کو پابند سلاسل نہ کریں بلکہ اس میں عالمگیریت اور آفاقیت پیدا کریں۔

تفکر – ہماری اس کاوش پر کچھ کہنا چاہیں گے؟

ڈاکٹر عارفہ صبح خان۔۔بہترین اور قابل مثال کاوش ہے۔اپنے ادباء شعرا کی عزت و تکریم،پزیرائی اور پہچان کر کے ہی ایک اچھی روایت قائم کی ہے۔اس روش سے ادب کو گراں قدر فوائد حاصل ہونگے۔کہ پاکستانی ادب اور شاعر کس نہج پر سوچتا ہے وہ کیا عزائم اور مقاصد رکھتا ہے۔ویل ڈن !

تفکر – پہچان شعر یا تحریر؟

ڈاکٹر عارفہ صبح خان۔۔
جب سے اتری ہوں آسمان سے میں
تب سے الجھی ہوں اس جہان سے میں

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo