سلفی ، سُلفا اور بے خصمے شُرفا کبیر خان

سلفی ، سُلفا اور بے خصمے شُرفا

میٹھی چھینک آوے۔۔۔۔۔۔۔۔محترمہ ڈاکٹر مرحب قاسمی دائم اقبالہ جب حاضر سروس پروفیسر تھیں ، تب بھی اتنی غائب دماغ نہیں تھیں کہ سارے دن مغز پچی کے بعد یونیورسٹی سے گھر لوٹی ہوں ، اورگاڑی کی چابی بیڈ پر لٹا کر خود ’’ کی بورڈ ‘‘ کی کھونٹی سے لٹک کر کمر سیدھی کرنے لگی ہوں۔تاہم کبھی کبھارگھر میں داخل ہوتے ہی روانی میں ہمارے ساتھ بھی آپ جناب کرنے لگتیںتو ہمارا ماتھا ٹھنک جاتا۔لیکن جونہی احساس ہوتا کہ چار گھروں کی مشترکہ کام والی مائی نہیں، ہم اُن کے ذاتی ماہی ہیں تو فوراً ’سوری‘ کہہ کر ڈبڈبائی آواز میں اپنے الفاظ واپس لے لیتیں :’’ آخر میں بھی انسان ہوں، بھول چوُک،لینی دینی ہو ہی جاتی ہے۔۔۔۔۔بے دھیانی میں زیادہ عزت سے پیش آنے پر اگر تمہارا استحقاق بُری طرح مجروح ہوگیاہو تو تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں‘‘
اسی نوع کے ایک اظہارِ تاسّف کے دوران موصوفہ کو یک لخت یاد آیا تو تڑپ کر بولیں: ’’ میں نے تم سے ایک بہت اہم بات پوچھنی ہے۔۔۔۔۔‘‘ تادیر ہمیں ہمہ تن گوش دیکھ کر فرمایا’’ ہونقّوں کی طرح کیا دیکھتے ہو ، پھوُٹ بھی پڑو، بات کیا ہے؟ کہیں کسی سے منہ ماری تو نہیں کر بیٹھے۔۔۔۔۔، ہائے میرے نصیب۔۔۔۔‘‘ اسی اثنا میں فون کی گھنٹی بجی۔ہم نے سُکھ کا سانس اور اُنہوں نے پانی کا گھونٹ لیا۔اپنی سگی سہیلی سے ابھی چار گلاس طویل مکالمہ ہی کر پائی تھیں کہ ٹیلی فوں کی نبضیں ڈوبنے لگیں ۔جب ہیلو ہیلو کر کے اپنی سانسیں اُکھڑنے لگیں تو ریسیور رکھ کر ہماری اور متوجہ ہوئیں ۔۔۔۔۔’’ہاں تو تم کیا کہہ رہے تھے؟‘‘عرض کیا ہماری کیا مجال ،آپ ہی ہم سے کوئی اہم بات پوچھنا چاہتی تھیں۔۔۔۔۔
’’ ہاں یاد آیا۔۔۔۔‘‘وہ سنبھل کر بیٹھیں۔۔۔۔’’بتائو میں کیا پوچھنا چاہتی تھی؟‘‘ ۔ہم نے بھی ڈبڈبائی آواز میں کہا’’بھول چوک، لینی دینی ہو ہی جاتی ہے، آخر ہم بھی آدمی ہیں کام کے۔۔۔۔۔
’’ لو پوچھنا میں یہ چاہتی تھی کہ ہماری ہیپی انیورسری کے موقع پر فیس بک والی تصویر میں ایک تو رومال سے منہ چھپائے تم بیٹھے ہو، میں نے رومال سے پہچان لیا تھا۔لیکن اسٹیج پر میرے عروسی جوڑے میںتمہارے پہلو سے چپکی ، آنکھوں سے قہقہے لگاتی وہ ڈائن کون ہے؟‘‘عرض کیا ِ،ربع صدی پیشترپیش آنے والے حادثہ کے البم سے چار ہفتہ اُدھر چُن کر سوشل میڈیا پر پرتصویر ڈالنے والی آپ تھیں، آنکھوں سے قہقہے لگانے والی بھی بچشم خود ۔پھر۔۔۔۔’’لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں ایسے نازک موقع پر آنکھوں سے۔۔۔۔؟‘‘ڈرتے ڈرتے یادش بخیریا دیا کہ فوٹو گرافر نے بھی آپ کو ’’چیز چیز‘‘ کرنے سے منع کیا تھا۔جواباًآپ نے کہا تھا کہ موقع کی سنجیدہ اور باوقار تصویر کھینچنی ہے تو تھوڑی دیر کے لئے دولہا میاں کو اسٹیج سے اتار کر قناتوں کے پیچھے بھیج دو۔’’سچّی میں۔۔۔۔؟‘‘ وہ بولیں ’’ میں تب بھی اتنی ذہین فطین تھی؟۔۔۔۔۔یقین نہیں آتا۔ پھر بھی تم سے شادی ۔۔۔۔؟؟‘‘
اسی روز بیگم کو یاد آیا کہ ہم نے متذکرہ بالا انیورسری تو بنائی ہی نہیں۔کہا چلئیے آج کسی اچھے سے ریستوران میں قضا موڑ لیتے ہیں ۔فوراًراضی ہو گئیں۔جب اُنہیں باقاعدہ آمادہ فساد دیکھا تو ہم نے ایک کڑی شرط لگا دی،ہم ٹیبلٹ اٹھائیں گے نہ کیمرا۔ ’’ منظور ۔۔۔‘‘ بیگم نے کہا’’ میں اپنے موبائل سے سلفیاں بنالوں گی‘‘۔ریستوران میں بیگم نے ادھر اُدھر دیکھ کر ایک میز منتخب کی۔مگر بیٹھتے ہی اُٹھ کھڑی ہوئیں ، ویٹر کو بلایا اور دوسرے کونے میں ایک میز کی طرف اشارہ کیا’’ ہم وہاں بیٹھنا پسند کریں گے۔‘‘اُس بھلے مانس نے بلا چوں و چرا ریزروڈ کا کتبہ ہٹا دیا۔ ’’ ایک تو یہاں لائٹ بہتر ہے، دوسرے یہاں سے بیک گرائونڈ میں پورا ہال کووّر ہو جائے گا۔‘‘ اُنہوں نے موبائل فون سے سلفی بنا کر دکھاتے ہوئے کہا۔بیگم کی سلفی دیکھ کراُس دن پہلی بار ہمیں پتہ چلا کہ تصویر میں پس منظر کی اہمیت اتنی زیادہ کیوں ہوتی ہے۔سلفی میں جہاں بیگم کے جھمکوں کا ایک اک نگ تفصیل کے ساتھ لشکارے مار رہاتھا،وہاں کھُلا کھُلا اور کھِلا کھِلاکتابی چہرہ بھی پورے ماحول پر چھایا ہوا تھا۔’’ وائو۔۔۔‘‘ ریستوران کے ماحول اور معیار کے پیشِ نظر ہم نے بھی مغربی طرز کا کلمہ تحسین بلند کیا۔ہمیں انگریزی میں حیرت زدہ دیکھ کر بیگم بولیں’’ کیا یاد کرو گے ،لوآج تمہیں بھی سلفی بنانا سکھلا دیتی ہوں‘‘۔ وہ کافی دیر تک اسرار و رموز سمجھاتی رہیں ۔لیکن ہم جب بھی تاک کر بٹن دباتے،نشانہ چوک جاتا۔کم وبیش پچاس تصویریں آئوٹ آف فوکس بنانے کے بعد بیگم نے پچیس منٹ تک فوٹوگرافی کے ہُنر اور اہمیت پر سیر حاصل لیکچر دیا۔۔۔۔۔’’ قِصّہ مختصر یہ کہ تصویر ایک ایسی مفید یادگار ہوتی ہے،جس کا متبادل کوئی نہیں ہوتا۔۔۔۔۔‘‘عرض کیا ،ناچیز کو تو تصاویر سے واقعی فائدہ پہنچا،ہماری آپ سے شادی ہوگئی۔لیکن آپ سراسر گھاٹے میں رہیں۔۔۔۔۔’’ کبھی ہوتا ہے ۔۔۔۔‘‘ وہ بولیں ’’ وہ کیا کہا ہے کسی نے
ع تیر پر اُڑ کر نشانے لگے۔۔۔۔‘‘
پانی کے دو گھونٹ لے کر اُنہوں نے ایک اور کوشش کی کہ ہمیں سلفی بنانا سکھلا سکیں لیکن ناکام رہیں۔تاہم شادی کی سالگرہ سے منسوب ڈنر کے دوران زیادہ تر تصویریں بیگم نے بدست خود بنائیں ۔البتّہ بیچ میں کہیں کہیں ہمیں بھی ’’تان چکھاتی‘‘ رہیں ۔ہم نے جہاں جہاںتان چکھی،نتیجہ کچھ اور ہی نکلا۔یہاں تک کہ اٹھارہ عدد تصاویر کے صرف گڈمڈ سے پس منظردکھلائی دے رہے تھے۔ ایک ’’سیریز‘‘ تو ایسی بھی تھی جس میں شیشے کے اُس پار شیشہ(عربی حقّہ) تازہ کرنے پر مامور حسینائوں میں سے ایک لہراتی بل کھاتی نجانے کیسے ریستوران کی دیوار گیر پینٹنگ میں آن چپک گئی تھی۔
’’یہ کہاں سے آئی؟‘‘ بیگم نے پوچھا۔عرض کیاسامنے والے شیشہ سے اُڑ کر لگی ہے۔
ع جٹّی نہا کے چھپڑو چوں نکلی اتے سُلفے دی لاٹ ورگی
دوسرے روز بیگم اسکائپ پر بیٹے کو ہماری تازہ یوسف کاریشیاں سُنا سُنا کر تادیر چینی کی پیالیوں سے چینی کی پیالیاںٹکراتی رہیں۔ آخر بیٹے نے پوچھا:پپّا آپ کے زمانے میں فوٹو کیسے نکالتے تھے؟۔ہم نے ماں اور بیٹے کو ’’اپنے زمانے‘‘ کی ایک جھلک دکھلائی ، آپ بھی دیکھ لیجئے:
ہمارے زمانہ میں ’’ بتی والا ریڈیو‘‘ جدید ترین آلہ ہوتا تھا۔جس کے مالک کو لوگ کھڑے ہو ہو کر سلام کیا کرتے تھے۔ اِس نسبت سے’’ صاحب سلام ‘‘کے حقداروں کی تعداد پورے ضلع راولاکوٹ میں(بشمول سردار مختار خان) صرف تین تھی۔ تاہم بعضے بعضوں نے ’’ تھُنوں‘‘ کے ساتھ خانہ ساز خالی خولی ایریل لگا لئے تھے۔ اسکی وجہ بھی ظاہر ہے۔ ’’چلہاکے والا کیمرا‘‘ (فلیش والا کیمرا) صرف پوٹھی مکوالاں کے سردار علی حسیں خان مقیم ولائت کے پاس تھا۔ہیٹ، ٹائی اور گلے میں جھولتا ایک آٹھ پائونڈ وزنی کیمراسردار علی حسین خان کی شخصیت کا جزو لاینفک تھا۔وہ جب بھی ملک تشریف لاتے،جلسوں،جلوسوں اور لیڈروں کی تصویریں اتار کر ساتھ لے جاتے۔چنانچہ چھوٹے موٹے لیڈرانِ کرام اُن سے اتنا ہی پچک کر ملتے،جتنا پٹواری اور گردآور سے۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تصویر کشی کا چلن کیسا ہوا ہوگا۔
ہمارے زمانہ طالب علمی میں تصویر صرف میٹرک کے امتحانی داخلہ فارم پرلگانے کے لئے کھِنچوائی جاتی تھی یا’’ بستہ ب‘‘ میں ترقی یاب ہونے کے موقع پر۔جس کے لئے راولاکوٹ شہر کے چوک سلیمان میں پرچون کی ایک مستقل بند دُکان کے برامدہ میں’’ عالمی شہرت یافتہ سنیاسی بابا اینڈ فوٹوگرافر‘‘نے سانڈے کے کثیرالمقاصد تیل پر مبنی ’ھوالشافی کلینک ‘ کے علاوہ ’’نئی سین سینری‘‘ کے ساتھ پارٹ ٹائم ’درپن فوٹو اسٹڈیو‘ بھی قائم کر چھوڑا تھا۔ دکّان کے مستقلاً بند دروازے پر پیال کی رسیوں کی مددسے ’’نصب‘‘ سین سینری میںسندر بن میں ایک ببرشیر کو لہنگے،نو لکھے ہار اور سولہ سنگھا ر کے علاوہ سونے کی تلوار اورپشواز میں اڑوسے چاندی کے سہ رنگے تیروںسے مزیّن مغل شہزادے کے بائیں پائوں تلے رحم طلب نگاہوں سے گڑگڑاتے دکھلایا گیا تھا۔(الحذر!اُس سُندر بن والے ببر شیرکاموجودہ سُندربن والے ببر شیر سے کوئی علاقہ ہے نہ شہزادگان سے کوئی نسبت) پیپل کے جس پیڑ تلے شیر بے بس پڑا تھا،اس پر سندھڑی آم،کابلی بادام،کشمیری سیب ،چتری والے کیلے،بلتی خوباں اور خوبانیاں ، قندہاری انار ، اطالوی انگور اورافریقی لنگور بیک وقت اپنی بہار دکھا رہے تھے۔ پیڑ کی ایک ذیلی شاخ پر سُرخ موتیا،گلاب اور لالہ کے علاوہ کنول کے گُچھّے بھی لٹک رہے تھے۔اسی سین سینری کے سامنے ایک اسٹول ،اور اسٹول کے سامنے گھڑونجی نما اسٹینڈ پر ڈیڑھ بائی ڈیڑھ فُٹ کا ایک سیاہ پوش بکس دھرا رہتا تھا۔جسے کیمرا کہا جاتا تھا۔ اسٹول پر ’’گراہک‘‘کوسانس کھینچ کر بٹھایا جاتا تھا۔پھر سنیاسی بابا اینڈ فوٹو گرافر پردہ اٹھا کر پہلے اپنا سر ڈالتا، دیدبان کی گھُنڈی گھماتا،درپردہ کچھ اور ہاتھ کرتا۔اس کے بعد کاندھے تک بانہہ ڈال کر کیمرے سے گراہک کا فوٹو نکالتا۔اور پھر اسی سیاہ پردے کی اوٹ میں فوٹو کوپانی میں ڈبکیاں دیتا،مل مل کر اُس کی کالک اتارتا۔اوریوں گراہک کی جو تصویر بنتی،اُسے عموماً چہرے کی بجائے ملحقات سے پہچانا جاتا۔چنانچہ کئی مطلوب شخصیات شک کی بنیاد پر چھوٹ جاتیں ،کئی بے خصمے شرفا مشکوک ٹھہر جاتے۔اگر آج محولہ بالا کیمرے سے تصویر بنائی جائے تو ملکِ عزیز میں چالو اور ـ’’UP SET ‘‘سیاست کا فریش لیتھو پرنٹ نکل آئے گا۔

کبیر خان

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo