آئینہ – مونا نقوی

وہ میرے سامنے بیٹھی پھُوٹ پھُوٹ کے رو رہی تھی۔اُس کی آنکھوں سے گِرتے گرم آنسو انگاوروں کی طرح میرے دل پہ گِر رہے تھے۔وہ دکھ اور غم سے تڑپ رہی تھی اور میرا چین و سکون برباد ہو رہا تھامیں اُسے گلے سے لگا کے دلاسہ دینا چاہتا تھا ۔اُس کے آنسو پونچھنا چاہتا تھامگر کوشش کے باوجود بھی ہمت نہیں ہو پا رہی تھی کہ اُس کے قریب جا کے اُسے تسلی کے چند الفاظ ہی کہہ سکوں۔میں جو لفظوں پہ عبور رکھتا تھا،لفظوں سے کھیلا کرتا تھا آج اُس کے سامنے گونگا بنا بے بسی سے بس اُسے روتا دیکھ رہا تھا۔اُسے چپ کروانے کے لیے اُس کی طرف بڑھتے قدم رک سے جاتے تھےکے جب اُس کی شکل و صورت میں کسی اور کی شبیع اُبھر تی تھی۔میرے وجود میں چلتی آندھی تیز طوفانوں کا روپ دھارتی جا رہی تھیں اور اِس طوفان میں مجھے اپنا وجود بے جان برگ وبار کی طرح در بدر اُڑتا اور میری انا کے سخت پتھروں سے سر پٹکتا پھر رہا تھا۔ آج کیسے اپنے جگر کے ٹکڑے کو سمیٹوں اور تسلی کے چند لفظ بول کے اُس کے دل کو سکون دوں جبکہ میرے اپنے ہاتھ برسوں سے کسی کے ارمانوں کے خون سے رنگے تھے۔اور آج وہ خون مجھے اپنے ہاتھوں واضع نظر آرہا تھا۔شائد وہ دل آج بھی زخمی ہو۔شائد وہ آنکھ آج بھی آنسو بہاتی ہو۔آج سے پہلے یہ کبھی سوچا بھی نہ تھا مگر آج اپنی ہی بیٹی میں اُس کا چہرہ نظر آ رہا تھا۔بال کھولے شام کے جیسا اُداس چہرہ لیے غم اور دکھ سے تڑپتے اور آنسو بہاتے ہوۓ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔­۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا مل جاتا ہے تجھے یوں لڑکیوں کے دل توڑ کر؟ ثمرا کو میرے پاس سے آنسو بہاتے اُٹھ کر جاتے دیکھ کر جواد نے تاسُف سے پوچھا۔
اِس میں میرا کیا قصور ہے جو لڑکیاں میرا ہنس کے فرینکنس سے بات کرنے کو محبت سمجھ لیں تو۔میں نے کندھے اُچکاتے ہوۓ لاپرواہی سے کہا۔
تیرا ہی قصور ہے تُو صرف ہنس کے فرینکنس سے بات نہیں کرتا بلکہ اپنی پوری باڈی لینگویج سے یہ ظاہر کرتا ہے کہ سرتا پا ڈوبا ہے اُن کی محبت میں۔جواد نے میری لاپرواہی سے چڑتے ہوۓ کہا۔
ہاہاہاہا۔۔۔ یا میرا کوئی قصور نہیں سچی میرا ایسا ارادہ نہیں ہوتا مگر کیا کروں لڑکیاں خود ہی میری محبت میں گرفتار ہو جاتی ہیں۔اور پھر مجھے اُن کا دل رکھنے کے لیے چند دن یا چند ہفتے اُن کے ساتھ گُزانے پڑتے ہیں ۔میں نے بےچارگی خود پہ طاری کرتے ہوۓ کہا۔تُو ہی بتا کیا غلط کرتا ہوں میں جو اُن کا دل تب نہیں توڑتا جب وہ نیا نیا محبت کے رنگوں سے آشنا ہوتا ہے۔
کاش تُو اُن کا دل اُسی وقت توڑ دیا کرے جب وہ نیا نیا محبت کے جذبے اور اُس کے رنگوں سے آشنا ہوتا ہے۔مگر تُو تو اُن کو اتنا آگے لاکے محبت کے حسین سپنے دِکھا کے اُن کے دل توڑتا ہے۔تجھے کبھی یہ خوف نہیں آیا کہ اگر تجھے کسی کی آہ لگ گئی تو۔جواد نے اب کے میری بات سے اور بھی ذیادہ چڑتے ہوۓ کہا۔
آہ مظلوم کی لگتی ہے اور ایسی لڑکیاں مظلوم تھوڑی نا ہوتی ہیں۔جو کالج اور یونیورسٹی آتی تو گھر سے پڑھنے ہیں مگر کھیل محبت کے کھلنے لگ جاتی ہیں۔یار ایسی لڑکیوں سے دل لگی کرنا کوئی جرم نہیں۔نہ گناہ ہے۔چار دن روتی ہیں پھر کوئی نیا ملتا ہے تو آنسو پونچھ کے اُس کے گلے لگ جاتی ہیں یا پھر جو اک دھوکے سے سبق سیکھ جاتی ہیں وہ سٹڈی کو لے کے سیر یس ہو جاتی ہیں۔
تیرا کوئی حل نہیں ہے ۔تجھے سمجھانا ہی فضول ہے۔جواد کتابیں اُٹھاتا باہر نکل گیا اور میں اُسے جاتا دیکھ کر مسکراتا رہ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔­,۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں شرجیل احمد ۔میرے لیے محبت کھیل سے ذیادہ اہمیت نہ رکھتی تھی۔لڑکی کے دل میں جگہ بنانا اور اُسے محبت کی ڈگر پر لا کے اُس کی آنکھوں کو حسین سپنے دکھا کے ان کا دل چکنا چُور کر دینا میرا من پسند مشغلہ تھا۔کسی بھی لڑکی کے آنسو اور گڑگڑانا رو رو کے میری مننتیں کرنا بھی کبھی میرا دل نہیں پگھلا سکے۔لڑکی کا دل میرا پسندیدہ کھلونا تھا۔جب تک جی چاہتا تھا کھیلتا تھا جب جی بھر جاتا تھا تو لاکھ وہ دامن پکڑے میں مڑ کر نہیں دیکھتا تھا۔کالج سے یو نیورسٹی تک کتنی لڑکیاں آئیں اور گئیں میری لائف سے نہ تو کبھی میں نے تعداد گنی اور نہ ہی کبھی کسی کے جانے کا افسوس کیا۔افسوس کا کبھی موقع ہی نہیں آتا تھا کیونکہ افسوس کا مقام آنے سے پہلے کوئی اور ماہ جبین میری بانہوں میں آچُکی ہوتی تھی ۔اور میرے قدم سے قدم ملا کر عمر بھر ساتھ چلنے کی قسمیں اور وعدے کر رہی ہوتی تھی۔زندگی یونہی گزر رہی تھی ۔فائنل ائیر کا لاسٹ سمسٹر تھا کہ میری نظر اُس پہ پڑی۔بلیک گاٶن پہنے حجاب کیے لائبریری میں بیٹھی وہ کسی بُک سے کچھ دیکھ کے اپنی نُوٹ بُک میں لکھ رہی تھی۔نظر اُس پہ ٹھہر سی گئی تھی اور قدموں نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا تھا۔میں اک ٹُک اُسے دیکھے جا رہا تھا۔مجھے اپنی جانب دیکھتے پا کر اُس کی نظریں میری طرف اُٹھیں۔اُس کی نظر سے نظر ملتے ہی بجلیاں سی دل میں کُوندی تھیں۔پہلی دفعہ کسی کے لیے میری دھڑکنیں یوں بے ترتیب ہوئی تھیں۔وہ مجھے نظر انداز کر کے پھر سے نُوٹ بُک میں کچھ لکھنے میں مصروف ہو گئی تھی۔یہ پہلی بار تھا کہ کوئی لڑکی مجھے اک نظر دیکھ کے بھی اٹریکٹ نہیں ہوئی تھی۔دل نے اُس کی اِس بے رخی کا بہت بُرا مانا تھا۔مگر دل نے بھی تہیہ کر لیا تھا کہ اِس کے دل میں بھی مجھے اک دن اپنی لازوال محبت کے دیئے جلانے ہیں اور وہ بھی ہمیشہ کے لیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔­۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تیرے ٹائپ کی نہیں ہے ۔اور یار تُو اپنی زندگی میں کسی ایک لڑکی کو تو بخش سکتا ہے کہ اُس کے دل سے نہ کھیلے۔
تجھے اُس سے بڑی ہمدردی ہو رہی ہے خیریت تو ہے ۔میں نے جواد کی بات کے جواب میں معنی خیز نظروں سےاُسے دیکھتے ہوئے کہا۔
ہاں بالکل خیریت ہے ۔بس میں یہ نہیں چاہتا کہ تُو اُس کے ساتھ بھی وہی سلوک کرے جو اُس سے پہلے کئی لڑکیوں کے ساتھ کر چکا ہے۔
جواد کے تیور آج الگ تھے۔
دیکھ یار جواد دل آ گیا ہے اُس پر اور اب اُس کے دل میں گھر کرنےکی خواہش ہے۔تُو دیکھنا چند دنوں میں وہ بھی میرے گُن گارپی ہوگی۔
بھول ہے تیری ۔وہ الگ ہے اُن سب سے الگ ہے جو اب تک تیری زندگی میں آ چکی ہیں۔
اگر وہ الگ ہوئی تو وعدہ کرتا ہوں میں اُسے عمر بھر کے لیے اپنا لوں گا۔اور اُن لڑکیوں جیسی ہوئی تو اُس کا انجام بھی وپی ہوگا جو اُن سب کا ہوا۔
جو جی میں آۓ وہی کر پر اس بار تجھے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔جواد کے لہجے اور انداز میں یقین تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔­۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پتھر پر قطرہ قطرہ پانی لگاتار گرتا رہے تو  اُس میں بھی سوراخ ہو جاتا ہے۔مگر وہ تو گوشت پوست سے بنا دل تھا بھلا میری محبت کی پھوار سے کیسے نہ پگھلتا۔ابتدا میں مجھے بھی لگا تھا کہ جواد سہی کہتا اِس بار مجھے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔مگر جیسے جیسے میں نے اپنی کوشش تیز کی تو پتہ ہی نہ چلا کہ کب اور کیسے میں اُس کے دل پہ راج کرنے لگا۔وہ سادہ مزاج کی صرف پڑھنے کے لیے یونیورسٹی آنے والی لڑکی ، میری نظروں کی تپش اپنے چہرے پہ محسوس کر کے اُس کے ماتھے پہ غصہ سے سلوٹیں پڑ جاتی تھیں۔میں اُس کے پاس جا کے بیٹھتا تھا تو وہ میرے پاس سے اُٹھ کر پُر اعتماد چال چلتی مجھ سے دور چلی جاتی تھی۔کئی بار لگا کہ میں وقت ضائع کر رہا ہوں مگر ہار ماننا میری سرشت میں نہ تھا۔میں نے ابھی زباں سے اظہار بھی نہ کیا تھا مگر شائد وہ بھانپ گئی تھی کہ میرے دل میں کیا چل رہا۔میرے دل میں مایوسی
اُسے لے کر بڑھتی جا رہی تھی کہ قسمت مجھ پہ مہربان ہوگئی۔خدمتِ خلق کا مجھے کوئی خاص شوق تو نہیں تھا ۔دوستوں کے ساتھ کھانا کھا کے گھر جاتے ہوۓ اک زخمی کو سڑک پر مدد کے لیے پکارتے دیکھاکوئی توجہ نہیں دے رہا تھا میرے اندر کے انسان کو شائد پہلی دفعہ غیرت آئی تھی کہ اک انسان زخمی حالت میں مدد کے لیے پکار رہا ہےاور ہر کوئی بے حسی کا مظاہرہ کر کے اُس کے پاس سے گزرتا جا رہا ہے۔اُن کی بائیک بھی تھوڑی بہت ٹوٹ چکی تھی میں اُن بزرگ کے قریب گیا اور اپنی گاڑی میں بٹھا کر ہوسپٹل لے گیا۔زخم ذیادہ گہرے نہ تھے اک ٹاگ اور بازو پر خراشیں آئی تھیں ۔ڈاکٹر نے مرہم پٹی کر کے اور دوا دے کے گھر جانے کی اجازت دے دی تھی۔اُنہوں نے لاکھ کہا کسی ٹیکسی میں بٹھا دو بیٹا میں خود گھر چلا جاٶں گا مگر میں زندگی میں پہلی بار کوئی نیکی کرنے جا رہا تھا اور مکمل نیکی کرنا چاہتا تھا۔
ایسے کیسے بٹھا دوں انکل ٹیکسی میں میں آپ کو گھر تک چھوڑ آتا ہوں۔
جیتے رہو بیٹاآج کے دور میں تم جیسے اچھے لڑکے کم ہی ہوتے ہیں۔کسی اچھے خاندان کے چشم و چراغ لگتے ہو۔خدا تمہیں اِس نیکی بہت اجر دے۔اُن کے بتاۓ ہوۓ ایڈریس پر اُنہیں ڈراپ کیا تو وہ بہت اصرار کر کے اپنے ساتھ گھر آنے کو کہا۔میں گاڑی کو لاک کر کے انکل کو سہارا دے کے گھر کے اندر لایا۔ہمارے اندر داخل ہوتے ہی اُن کی بیوی اور بیٹی گھبرائی ہوئی آگے بڑھیں۔
کیا ہوا آپ کو بابا۔اُن کی بیٹی کو دیکھ کے دم بخود رہ گیا۔وہ نزہت تھی ،وہی نزہت جس کے دل میں اپنی محبت بٹھانے کی اب تک میں کئی کوششیں کر چُکا تھا۔گورا رنگ اور اُس پہ لمبے براٶن سلکی بال۔ریڈ شلوار قمیض اور گلے میں ڈوپٹہ ڈالے وہ گھبرائی ہوئی آگے بڑھی۔نظر اُس کے وجود سے ہٹنے کو تیار نہ تھی اور دل بھی بس اُسے دیکھے جانے پہ بضد تھا۔بمشکل خود کو سمبھالا اور بتانے لگا کہ کیا ہوا تھا۔جاٶ بیٹا مہمان کو چاۓ پلاٶ۔وہ باپ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوۓ اُٹھ کے چلی گئی۔نزہت کے گھر سے لوٹنے کے بعد تمام رات اُس کا حسین سراپا میری نگاہوں میں گھومتا رہانیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی اور دل اُسے عمر بھر کے لیے اپنا لینے کامشورہ دے رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔­۔۔۔۔۔
صبح وہ یونیورسٹی میں خود چل کر میرے پاس آئی اور اپنے بابا کی مدد کرنے پر میرا شکریہ ادا کیا۔
اجی شکریہ کی کیا بات یہ تو انسانیت کے ناتے فرض تھا میرا۔میں نہ کرتا تو کو ئی اور کرتا۔پر خدا کا شکر اُس نے  یہ سعادت مجھے عطا کی۔
میں دل سے آپکی مشکور ہوں ۔وہ یہ کہہ کر جانے کو پلٹی۔
دل سے مشکور ہیں تو اپنے دل میں تھوڑی سی جگہ عطا نہیں کریں گی مجھے۔
جی۔اُس نے مڑ کے دیکھا۔میں سمجھی نہیں۔
جب سے آپ کوپہلی دفعہ دیکھا ہے آپ کی محبت کاچراغ  دل میں جلاۓ بیٹھا ہوں۔اُس چراغ کی ہلکی سی لو آپ کے دل میں بھی دیکھنا چاہتا ہوں۔میری بات سُن کے اُس کی ہنسی چھوٹ گئی۔وہ بس ہنسے جا رہی تھی اور میرا دل اُس کی ہنسی کی آواز سے اور بھی اُتھل پُتھل  ہو رہا تھا۔میں سمجھنے سے بھی قاصر تھا کہ آخر وہ کیوں ہنس رہی ایسا کیا کہہ دیا سواۓ اظہارِمحبت کے جو وہ یوں ہنس رہی۔وہ میری بات کو لطیفہ سمجھی تھی شائد۔
سوچوں گی آپ کے بارے میں ۔ویسے معقول انسان ہو آپ۔وہ جاتے جاتے کہہ گئی تھی۔پھر ہفتے نہیں دنوں میں وہ میرے بے حد قریب آ چُکی تھی۔میرے ساتھ عمر بھر ساتھ نبھانے کے وعدے کر بیٹھی تھی۔ اُس کی آنکھیں مجھے دیکھتے ہی دئیوں کی طرح جھلملانے لگتی تھیں۔میرے محبت سے دیکھنے پر  حیا کی لالی اُس کی گالوں پر پھیل کر میرے دل کو میری محبت کا یقین دلاتی تھی۔وہ کہتی تھی مجھ سے بچھڑی تو مر جاۓ گی۔میرے بغیر اُس کی رات مشکل سے گزرتی تھی اور دن میرے ساتھ گزار کے بھی اُس کی آنکھیں میری دید کی پیاسی رہتی تھیں۔مجھ سے محبت اُس سے پہلے بھی کئی لڑکیوں نے کی تھی مگر نزہت جیسی دیوانی کوئی نہیں دیکھی۔جہاں پہلے میں اُس کا ساتھ پا کے ہواٶں میں اُڑ رہا تھا ۔وہیں اب دل اُس سے اور اُس کی دیوانگی سے اُچاٹ ہو رہا تھا۔وہ یونیورسٹی میں میرے قریب رہنے کے بہانے ڈھونڈتی پھرتی تھی۔مجھے اپنی نظروں سے دور نہیں ہونے دینا چاہتی تھی۔اور میں اب دل ہی دل میں اُس جان چھڑانے کے طریقوں پر غور کر رہا تھا۔جواد مجھے لاکھ سمجھاتا تھا کہ اِس دیوانی کو ہرگز نہ کھونا ورنہ ورنہ عمر بھر پچھتاٶ گے۔مگر وہ شرجیل احمد ہی کیا جو پچھتاۓ۔پچھتاوے جیسے کسی لفظ سے میں آشنا نہ تھا۔بلآخر مجھے اُس سے جان چھڑانے کی ترکیب سُوجھ ہی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔­۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نزہت اگر تمہیں میر ا ساتھ چاہیے تو تمہیں اک آزمائش اور امتحان کی کسوٹی پہ کھرا اترناہوگا۔
کیسی آزمائش کیسا امتحان شرجیل؟
اگر تم اِس امتحان میں پاس ہو گئی تو تمہیں زندگی بھر کے لیے اپنا لوں گا اور اگر فیل ہو گئی تو ہمارے رستے ہمیشہ کے لیے جدا ہو جائیں گے۔
ہماری محبت تو آزمائش ،امتحان اور پرکھنے جیسی ہر شرط سے ماورا تھی شرجیل۔
پر کبھی کبھی عمر بھر کا فیصلہ لینے سے پہلے اک دوسرے کو پرکھنا بہتر ہوتا ہے۔
ہمممم ۔۔۔۔ بولو کیا کرنا ہے میں تمھاری ہر آزمائش پہ پوری اُتروں گی دیکھنا۔
دیکھتے ہیں۔۔اگر تم مجھے پانا چاہتی ہو تو تمہیں اپنا گھر اور اپنے گھر والے ہمیشہ کے لیے چھوڑنے ہونگے۔
آج رات کا ٹائم ہے تمھارے پاس صبح اپنا فیصلہ سنا دینا۔۔
یہ کیا بات ہوئی تم رشتہ بھی تو لا سکتے ہو۔
ہاں لا سکتا ہوں ۔مگر تم اِس آزمائش میں پوری اُتری تو۔میں حتمی لہجے میں کہتا ہوااُسے بے یقینی کے عالم میں چھوڑ کر آگے بڑھ گیا اوراُس کی نظریں دور تک مجھے اپنا تعاقب کرتی ہوئی محسوس ہوتی رہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔­۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح میری توقع کے برخلاف اُس نے مجھے اپنا فیصلہ سنا دیا۔
میں تمہاری خاطر سب کچھ چھوڑ آئی ہوں شرجیل۔اپنے ماں ،باپ،بہن،بھائی گھر سب کچھ۔
یہ سن کر میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی مجھے لگا تھا وہ اپنے خونی رشتوں کو مجھ پر ترجیح دے گی۔اور مجھے ہمیشہ کے لیے چھوڑنے کا فیصلہ کرے گی۔
وہ تمہارے خونی رشتے ہیں مجھ سے ملے تو ابھی تمہیں جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوۓ ہیں۔تم اپنے فیصلے پر نظرِثانی کر لو۔
میں نے کئی بار نظرِثانی کی ہے ۔مجھے بس تم چاہیۓ ہو۔مجھے تم مل جاٶ تو لگے گا مجھے کُل کائنات مل گئی۔وہ میرا بازو پکڑ کر میرے کندھے سے سر ٹکاتے ہوۓ بولی۔
دماغ چل گیا ہے تمہارا۔میں نے اک جھٹکے سے اُسے خودالگ کیا۔ تمہیں کیا لگتا ہے یہ سب کرنے سے کے بعد میں تمہیں اپنا لوں گا۔
تم نے خود ہی کہا تھا کہ میں تمہارے لیے سب کچھ چھوڑ دوں تبھی اپناٶ گے۔میں تمہارے دیئے امتحان کی کسوٹی پہ کھری اُتری ہوں۔
تم پاگل ہو سکتی ہو میں نہیں یہی تو دیکھنا تھا ۔اگر تم مجھے نہیں اپنے گھر والوں کو چنتی تو کر لیتا تم سے شادی۔پر جو لڑکی اُس لڑکے لے لیے جسے وہ اتنا جانتی ہی نہیں اپنا گھر اور اپنے سگے  رشتوں کو چھوڑ سکتی وہ کیا اِس قابل ہے کہ اُس سے عمر بھر کا رشتہ باندھا جاۓ۔یہ تم کیا کہہ رہے ہو شرجیل ۔وہ آنکھوں میں آنسو بھرے بولی۔
ٹھیک کہہ رہا ہوں تمھارے جیسی لڑکی اعتبار کے قابل نہیں ہوتی۔
تم تو کہتے تھے کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔
محبت نہیں دل لگی کی تھی تمھارے ساتھ جسے تم محبت سمجھ بیٹھی۔
میں محبت نہیں سمجھ بیٹھی بلکہ تم نے مجھے محبت  کےسنہرے خواب دکھاۓ تھے۔وہ روہانسی ہو کے بولی۔
واہ نزہت آرا میں نے خواب دکھاۓ اور تم نے خواب دیکھنے بھی شروع کر دیئے۔اور میری محبت کی مالا اپنے گلے میں پہن کہ میرانام بھی جپنے لگ گئی۔حتٰی کہ آج تم اپنے خونی رشتوں سے منہ موڑ کے اُنہیں میری خاطر چھوڑ کے آ گئی۔کیسے اعتبار کر لوں تم جیسی کی محبت کاجو اپنوں کو چھوڑ سکتی اُس کے لیے مجھے چھوڑ دینا کہاں مشکل ہوگا۔وہ میری مننتیں کرتی رہی ۔میرے آگے ہاتھ جوڑتی رہی۔میرے پاٶں پکڑ کے گڑگڑاتی رہی مگر مجھے اُس پر اک لمحے کو رحم نہ آیا۔اور میں اُسے روتا تڑپتا چھوڑ کے اُس سے ہمیشہ کے لیے منہ موڑ کے چل دیا۔اور پھر کبھی اُسے پلٹ کہ نہ دیکھا اور نہ کبھی جاننے کی کوشش کی کہ وہ کس حال میں ہوگی۔اور آج جب میری بیٹی میرے سامنے کسی کی محبت کے درد اور چھوڑ دینے کی نا قابلِ برداشت اذیت تڑپ رہی تھی۔تو اُس کے چہرے میں آج برسوں بعدنزہت کا چہرہ نظر آیا تھا۔وہ میرے سامنے ہی جب میری بیٹی کو بے اعتبار ٹھہرا رہا تھا میں تب بھی اک لفظ نہ بول پایا تھا۔وہ اُس کے سامنے ہاتھ جوڑتی گڑگڑاتی کہہ رہی تھی کہ تم نے میرے ساتھ عمر بھر ساتھ نبھانے کا وعدہ کیا تھا۔
ڈونٹ بی سلی ہمنا۔ایسے وعدے تو میں روز کئی لڑکیوں سے کرتا ہوں اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ میں سب سے شادی کر لوں۔میں ایسی بیوی چاہتا ہوں جو ان دیکھی ،ان چھوئی ہو۔ ایم سوری ٹو سے تم اِس معیار پہ پور ی نہیں اُترتی۔اُس کے الفاظ مجھے اپنے چہرے پہ زوردار تھپڑوں کی طرح پڑتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔آج یقین آیا تھا کہ انسان نے جو بویا ہو وہی اک دن اُسے کٹنا بھی پڑتا ہے۔وہ اُسے میرے سامنے کہہ رہا تھا جو لڑکی اپنے باپ کی پیٹھ پیچھے مجھ سے تعلق رکھ سکتی ہے اُس کا کیا اعتبار کہ کل وہ میری پیٹھ پیچھے کسی اور سے تعلق نہیں رکھے گی۔میری بیٹی قسمیں کھا کھا کہ اُسے یقین دلا رہی تھی مگر اُس نے یقین نہ کیا اور اُسے روتا تڑپتا چھوڑ کے نکل گیا۔میں نے بھی برسوں پہلے ایسے ہی کاٹ دار لفظوں سے کسی کا دل توڑا تھا ۔اُس کا دل توڑنے کی سزا آج میری بیٹی ویسی ہی بھُگت رہی تھی۔وہ جاتے جاتے مجھے آئینہ دکھا گیا تھا۔اور اِس آئینے میں مجھے اپنا چہرہ بہت مکروہ اور کریہہ لگ رہا تھا۔

مونا نقوی, سرگودھا

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo