خانیوال میں ایک روزہ رائٹرز کنونشن کی پُر وقار تقریب

کوئی مہر تابان سے جا کے کہہ دے کہ اپنی کرنوں کو گن کے رکھے
میں اپنے صحرا کے ذرے ذرے کو خود چمکنا سکھا رہا ہوں

خانیوال میں رائٹرز ویلفیئر فائونڈیشن، ہیومن رائٹس پاکستان اور تعمیر ادب فورم کی طرف سے ایک روزہ رائٹرز کنونشن اور تقسیم ایوارڈز کی پُر وقار تقریب کا انعقاد

23اکتوبر2016؁ء بروز اتوارکو ٹی ایم اے ہال خانیوال میںرائٹرز ویلفیئر فائونڈیشن، ہیومن رائٹس پاکستان اور تعمیر ادب فورم کی طرف سے ادیبوں کی حوصلہ افزائی اور نوجوان لکھاریوں کی تربیت کے لئے خانیوال میں ایک روزہ رائٹرز کنونشن اور تقسیم ایوارڈز کی پُر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب کی صدارت سینئر صحافی جناب عبداللطیف انور نے کی۔مہمان خصوصی معروف سکالر،باب پاکستان اور یوم تکبیر نام کے تجویز کنندہ،گنیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ میں جگہ پانے والے جناب عبدالعزیز چشتی تھے،جبکہ مہمان اعزاز معروف رپورٹ رائٹر ،کالم نویس ،مضمون نویس محترمہ پروفیسر رضیہ رحمن صاحبہ صدر شعبہ اردوگورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج برائے خواتین خانیوال تھیں۔تقریب کے روح رواں جناب آفاق احمد خان ،معروف ادیب وصحافی اور تعمیر ادب میگزین کے چیف ایڈیٹرجناب عبداللہ نظامی(لیہ) اور ڈاکٹر یوسف صدیقی صاحب تھے۔نقابت کے فرائض محترمہ مس نسرین صاحبہ اور دار ارقم سکول کی طالبات نے بہت احسن طور پر انجام دیئے۔

14720533_623571501149771_2763583866609331415_n-1

حسب روایت تقریب کا آغاز جناب کامران فریدی نے تلاوت قرآن حکیم سے کیا۔نعت پیش کرنے کی سعادت محترمہ پروفیسر ثمرینہ رمضان نے حاصل کی۔ “ہفت روزہ باوقار خانیوال” کے ایڈیٹر اور سماجی کارکن جناب اجمل عباس صاحب نے سپاس نامہ پیش کرتے ہوئے صدر تقریب سینیٔر صحافی جناب عبداللطیف انور ،مہمان خصوصی جناب عبدالعزیز اور محترمہ پروفیسر رضیہ رحمان صاحبہ ،مہمانان اعزازجناب عبداللہ نظامی، جناب ڈاکٹر سعید احمد سعدی ،جناب میاں محمد یونس،جناب عزیزالرحمان،جناب عبدالوحید عمرانہ ،جناب شہزاد اسلم راجہ،جناب تصور عباس سہو،جناب صداقت حسین ساجد،جناب صالح جوئیہ،جناب نعیم سیال،جناب حمزہ شہزاد،جناب محمد شاہد فاروق پھلور،،محترمہ فوزیہ سمیع،محترمہ ثمرینہ رمضان،محترمہ ستارہ آمین کومل،جناب حفیظ سبزواری،جناب مامون طاہر رانا،جناب طارق سمرا، محترمہ بسم اللہ ارم،جناب عاطر شاہین اور تمام مہمانان گرامی کا تقریب میں شرکت کرنے اور تقریب کی رونق بڑھانے پر شکریہ ادا کیا۔

razia-rahmanانہوں نے رائٹرز کنونشن کے انعقاد پر آفاق احمد خان،عبداللہ نظامی ،ڈاکٹر یوسف صدیقی ،رائٹرز ویلفئیر فاؤندیشن ،ہیومن رائٹس پاکستان اور تعمیر ادب فورم کو اس کامیاب اور یادگار کنونشن کے انعقاد پر خراج تحسین پیش کیا۔اور لکھاریوں کی تربیت اور حوصلہ افزائی کے لئے آئندہ بھی اس قسم کے پروگراموں کے اہتمام پر زور دیا۔انہوں نے اپنے ہفت روزہ اخبار “باوقار”کے تازہ ایڈیشن کی ایک ایک کاپی تمام شرکائے تقریب میں تقسیم کی تو انہوں نے اخبار کے معیار کو سراہا۔
دار ارقم سکول خانیوال کے بچوں نے مہمانوں کو ایک بہت خوبصورت ٹیبلو کے ذریعے خوش آمدید کہا۔بعد ازاں معروف کالم نگار جناب شہزاد اسلم راجہ صاحب نے “اچھا کالم کیسے لکھا جائے؟”کے موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے تمام اصناف ادب کے لئے وسعت مطالعہ کو لازمی شرط قرار دیا۔
اس کے بعد دار ارقم سکول خانیوال کے بچوں نے ایک خاکہ پیش کیا ۔دنیا کی زندگی میں نیکی وبھلائی کے کام انجام دینا اور اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آخرت کی فکر کرنا تھا۔موت کے فرشتے کی آمد سے انسان کی پریشانی اور مہلت کا تقاضا کرنا مگر اس کا اس مجبوری کا اظہار کرنا کہ موت کا وقت تو اللہ تعالیٰ نے پہلے سے مقرر کر رکھا ہے،اس لئے اب مہلت نہیں مل سکتی،اس خاکہ کا موضوع تھا۔اس خاکہ میں تینوں بچوں نے بہت جاندار اداکاری کا مظاہرہ کیا۔اس خاکہ پر ہال تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا۔
جناب عبداللہ نظامی نے کہانی لکھنے کے اسرارورموز پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ جس صنف میں بھی لکھنا ہو اس صنف کی بہترین تحریروں کا زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرنے سے تحریر میں پختگی آتی ہے۔اس لئے اچھا لکھنے کے لئے اچھا پڑھنا ضروری ہے۔معاشرے کے حالات و واقعات کی سچی اور حقیقی عکاسی کہانی کو مؤثر بنادیتی ہے،اس لئے اپنے اردگرد موجود حقیقی کرداروںکو اپنی کہانیوں کا موضوع بنائیں۔پروفیسر ثمرینہ رمضان صاحبہ نے “ادبی رسائل سے دوری کے اسباب”کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ والدین کی حد سے بڑھی ہوئی مصروفیات کی وجہ سے ان کے پاس بچوں کو ادبی رسائل کی اہمیت بتانے اور رسائل کی طرف راغب کرنے کا وقت ہی نہیں ہے۔نہ وہ خود یہ رسائل پڑھتے ہیں،نہ ہی اپنے بچوں کو فراہم کرتے ہیںاس لئے بچے ادبی رسائل سے دور ہیں۔انہوں نے بتایا کہ لوگوں کی زیادہ توجہ سوشل میڈیا کی طرف ہوگئی ہے جس کا یہ نقصان ہوا ہے کہ کتابوںاور ادبی رسائل کو وہ توجہ نہیں مل رہی جس کے وہ مستحق ہیں۔یہ صورت حال ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔جناب عبدالوحید عمرانہ نے کتاب سے رغبت کے حوالے سے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم چھوٹے تھے تو کتابوں کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔بچوں کو سکھایا جاتا تھا کہ کتاب کو بہت احتیاط سے پکڑیں اور پڑھیں کہیں کتاب پھٹ نہ جائے ۔موجودہ حالات کے تفاظر میںانہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آج کل کتاب کے خریدار ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ہمیں مل جل کر لوگوں کودوبارہ کتاب کے مطالعہ کی طرف راغب کرنے کے طریقوں پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کیونکہ اچھی کتاب اچھی دوست ہوتی ہے۔
دار ارقم سکول خانیوال کی اسلامی اور مشرقی لباس میںملبوس بچیوں نے ایک عربی نشید پر بہت خوبصورت پرفارمنس کا مظاہرہ کرکے خوب داد حاصل کی۔ معروف کالم نگار،مضمون نگار ،بہترین رپورٹ رائٹر ، مہمان خصوصی اورصدر شعبہ اردو گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج برائے خواتین خانیوال محترمہ پروفیسر رضیہ رحمان صاحبہ نے کامیاب اور یادگار کنونشن اور پروقار تقریب تقسیم انعامات کے انعقاد پر آفاق احمد خان،ڈاکٹر یوسف صدیقی،عبداللہ نظامی اور دیگر منتظمین کو خراج تحسین پیش کیا اور مبادک باد دی اورآئندہ بھی ایسی تقریبات کے انعقاد کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔”اچھا مُکالمہ کیسے لکھا جائے”کے موضوع پرتفصیلی لیکچر دیتے ہوئے بتایا کہ مُکالمہ عربی زبان کا لفظ ہے۔دو یا دو سے زیادہ لوگوں کی روبرو یا آمنے سامنے گفتگو کو مکالمہ کہتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک اچھے مکالمے کے پانچ حصے ہوتے ہیں۔ابتداء،کشمکش،نقطہ عروج،سلجھائو،اختتام۔انہوں نے مکالمے کے آغاز،انجام،طوالت،زبان وبیان،کردار،رموز اوقاف کے استعمال وغیرہ پر تفصیلی روشنی ڈالی اور بتایا کہ مکالمہ کے اختتام پر ہمیشہ حق کی فتح و کامیابی اور جھوٹ اور باطل کی ناکامی و شکست دکھانی چاہیئے۔
ibshamایک ننھے منے بچے محمد ابشام نے “کیا میں دنیا کو بدل سکتا ہوں؟”کے مشکل موضوع پر بہت اعتماد سے مدلل اور بہت خوبصورت اور موضوع کی مناسبت سے اشعار سے مزین تقریر کرکے حاضرین کے دل گرمادیئے۔ان کی مختصر مگر جامع تقریر پر ہال دیر تک تا لیوں سے گونجتارہا۔ جناب عبداللہ نظامی نے ابشام کو”تقریب کا دولہا”قرار دیا۔
صدر تقریب سینیئر صحافی جناب عبداللطیف انور نے خطاب کرتے ہوئے کامیاب کنونشن کے انعقاد پر منتظمین کو مبارک باد دی اور اس قسم کی تقریبات کے تسلسل سے انعقاد پر زور دیا۔انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنی 25سالہ صحافتی زندگی میں اپنے سینیئرز سے یہی سیکھا ہے کہ زیادہ سے زیادہ مطالعہ کیا جائے اور مستقل مزاجی اور ایمان داری سے اپنا کام کرتے رہنا چاہئے۔انہوں نے دار ارقم سکول کے بچوں کی پرفارمنس کو سراہا اور سربراہ ادارہ محترمہ مس عفیفہ سارہ کو مبارک باد پیش کی۔انہوں نے کہا کہ اس خانیوال میں ایک طویل مدت کے بعد ایک اس طرح کی علمی وادبی تقریب کا انعقاد ہوا ہے ،اس سلسلہ کو جاری رہنا چاہیئے ۔ان کے اس اعلان پر ہال تالیوں سے گونج اٹھاکہ اگر جگہ کا مسئلہ ہو تو خانیوال پریس کلب کی عمارت حاضر ہے ۔انجینئر مظہر خان،طاہر مامون راناوغیرہ نے بھی اظہار خیال کیا اور اپنا کلام پیش کرکے داد سمیٹی۔
اس کے بعد تقریب کے سب سے اہم مرحلے تقسیم انعامات کا آغاز کیا گیا۔سب سے پہلے بیک وقت ادب وصحافت،سماجی اور تعلیمی خدمات میں نمایاں کردار ادا کرنے والوں کو”قومی ایوارڈز” ایوارڈز سے نوازا گیا۔اس سلسلہ میں معروف شاعر،ادیب ،معروف سکالرو مصنف گولڈ میدلسٹ جناب عبدالعزیز ،معروف صحافی،ادیب اورچیف ایڈیٹر تعمیر ادب جناب عبداللہ نظامی،معروف کالم نگار،بہترین رپورٹ رائٹر،بہترین استاد ،بہترین سماجی کارکن محترمہ پروفیسر رضیہ رحمان، معروف لکھاری محترمہ پروفیسر ثمرینہ رمضان،محترمہ فرحت مرتضیٰ،جناب شہزاد اسلم راجہ،جناب حفیظ سبزواری اورجناب رشید احمد نعیم ” قومی ایوارڈ ” حاصل کرنے والے خوش نصیبوں میں شامل تھے۔
“ستارہ امتیاز ایوارڈز”حاصل کرنے والے خوش نصیبوں کے نام کچھ یوں ہیں:محترمہ فوزیہ سمیع،محترمہ ستارہ آمین کومل،جناب صداقت حسین ساجد،جناب عاطر شاہین،جناب خلیل ملک اور جناب عبدالرئوف سمرا۔
“سپیشل ایوارڈز”حاصل کرنے والوں میں جناب میاں عبدالوحید عمرانہ،محترمہ مسز فاخرہ جبیں،جناب میاں اجمل عباس،جناب طارق سمرا،جناب حافظ نعیم سیال،جناب فردین ساگر،جناب صالح جوئیہ،جناب یاسین صدیق،جناب محمد شاہد فاروق اورجناب حمزہ شہزاد شامل تھے۔
“یادگار ایوارڈز”حاصل کر نے والوں میں شامل تھے جناب تصور عباس سہو،جناب حافظ معاویہ ظفر،جناب بشیر احمد
خاکے اور ٹیبلو پیش کرنے والے دار ارقم سکول کے تمام بچوں کو ٹرافیاں اور میڈلز سے نوازہ گیا۔تقریب کے شرکاء کو شہزاد اسلم راجہ کی کتاب “آوارگی”اور دیگر کتب تحفہ کے طور پر تقسیم کی گئیں۔
تقریب کے دوران مہمانان گرامی کو ٹھنڈا مشروب پیش کیا گیاجبکہ تقریب کے بعد لذت کام ودہن کا باقا عدہ اہتمام کیا گیا تھا۔یوں یہ سادہ مگر پُر وقار تقریب اس خوشگوار تاثرکے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ خانیوال کے لوگ بہت محبت کرنے والے اورمہمان نواز ہیں اور ادبی تقریبات کے انعقاد کے لئے خانیوال کا ماحول بہت سازگار ہے۔
٭٭٭٭٭

رپورٹ:پروفیسر رضیہ رحمان۔خانیوال

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo