سوزِ عشق : عالیہ چودھری

قافلے جب کہیں سے گزریں تو اپنے ہونے کا احساس کسی نشاں کی صؤرت وہاں چھوڑ آتے ہیں۔ اس سفر کے مسافروں کے قدموں کے ساتھ بہت سی کہانیاں بھی جنم لیتیں اور پھر صحرا کی ریت کے اندر جذب ہو کر آنے والے وقتوں میں صحرائی سفر کے نئے مسافر کو اپنی طرف ایک جستجو کی صورت راز تک پہنچنے کا راستہ دیتی ہیں۔عرب کے نخلستان کی خاموشی اپنے اندر صدیوں کی طلسماتی کہانیوں کو چھپائے ہوئے کسی غمزدہ وجود کے ابدیت کے سفر کی گواہ بھی ہے ۔ یہاں کی دھول چھٹتی ہے تو وآپسی کے سفر میں منظر بھی بدل جاتا ہے۔ رات کے اس پہر تاروں بھری رات کے چہرے پر نظریں جمائے وہ کسی ہیرو کا نہ تو روپ دھارے ہوئے تھا نہ ہی کسی ایسی شخصیت کا مالک جو شوق کی خاطر وہاں آیا ہو ۔۔۔۔یہ تو صحرا کے میدان میں عرب کا حسین شہزادہ بیٹھا تھا۔ مگر وہ جسے دیکھ کراس اجڑی ہوئی بستی کا گماں ہوتا ہو جہاں اس کا آشیانہ ایک بے رحم طوفان کی نذر ہو گیا ہو۔ اسے دیکھ کر کون کہہ سکتا تھا یہ وہی شہزادہ ہے جو سفر پہ اس لیے نکلتا تھا کہ دنیا کو جیت سکے ۔ عرب کے صحراؤں کے ساتھ اس نے خود کو ہمیشہ مقابلے کہ طور پر رکھا تھا وہ طوفانوں میں رہ کر اپنے گھوڑے کی سواری پہ اڑتے ہوئے صحرا کی ریت کو اپنے ساتھ دوڑاتا۔ مگر اسی گھوڑے نے اس کی ذات کا غرور اسی صحرا کی ریت میں ہی ملا دیا۔ وہ اسے وہاں سے نکال تو لایا تھا مگر اس کے اندر کو وہی گرا آیا۔ اس دفعہ جیت عرب کے اس نخلستان کی ہوئی تھی ،اور یہی مات اس کی تمام زندگی پہ بھاری تھی۔ کیا تھا جو وہ اس دن رکتا ہی نہ۔۔۔۔۔ ******
اس ابر آلود موسم میں بارش ہونے سے پہلے ہی وہ صحرا سے نکلنا چاہ رہا تھا۔مگر تھوڑی دور جا کر اس نے ایک قافلے کو دیکھا جو وہاں پڑاؤ ڈال کر اپنے کاموں میں مصروف تھا۔ اسے لگا جیسے عرب کےاس صحرا کو سجایا جا رہا ہے ، موسم کی یہ آمد مٹی سے آباد جہاں کے لیے خوش آئند ثابت ہوئی۔خیموں اور ان کے اردگرد پھیلی روشنی ایک محسورکن شام کا منظر پیش کر رہی تھی۔ جیسے باہر میدان سج گیا ہو،دربان ادب سے کھڑا ہے اور ابھی کسی بگھی میں بادشاہ کی آمد ہو گی۔ مگر وہاں ہر چہرہ خود ہی رقصِ جنوں میں محو تھا۔ وہاں کسی دنیا کے بادشاہ کی ضرورت نہیں تھی۔ اس وقت صحرا پہ بادشاہت کسی ایک کے ہاتھ میں نہیں بلکہ سب ہی ایک رنگ میں رنگے تھے۔خوشی کا رنگ،محبت کے کیف کا رنگ۔۔۔۔ کون کہتا ہے ریگستان آباد نہیں ہوتا ، یہ جب آباد ہوتا ہے پھر نگاہیں اسی پہ ٹھہر جاتی ہیں۔ جس طرح پانی اپنی طرف کھینچتا ہے ویسے ہی یہ مٹی بھی کشش رکھتی ہے۔ خوش کن آوزیں گونج رہی تھیں ،مسکراہٹ لبوں پہ آ کر آزاد ہو گئی۔ وہ اس منظر کو کا فی دیر سے کھڑا دیکھ رہا تھا۔ موسم اپنی پرانی رو میں وآپس لوٹ آیا۔ جیسے وہ اس منظر کو آباد رکھنا چاہ رہا ہو۔ شام کے پر پھیلتے ہی چاند بادلوں کی اوٹ سے جھانکنے کا منتظر ہو جیسے۔۔۔ عاھل سلطان نے اپنے گھوڑے کا رخ پھیرا ، قافلے کے قریب پہنچنے تک چاند نکل چکا تھا۔ وہ گھوڑے سے اترا قدم آگے بڑھائے ہی تھے کہ صحرا کی کوئل بول اٹھی۔ خوبصورت سروں میں ڈوبی اس کی آواز اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ عاھل نے قدموں کا رخ اس راستے کی طرف کر ہی لیا۔۔۔۔ عشق کے سروں کا راستہ۔۔۔۔ عشق میں مقتدی بنے رہنے والوں کا راستہ۔۔۔۔ جاہ وجلال کا راستہ۔۔۔۔ اس نے دیکھا آسماں کی کہکشاں کی چادر کو نیچے اتار کر صحرا کو اس سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔۔۔خیموں کے پیچھے تھوڑا دور اسے وہ وجود نظر آ ہی گیا۔ مگر رخِ یار کا پردہ ہٹا نہ تھا۔۔۔ انتظار والوں کو یہ بوجھ اٹھا نا ہی پڑتا ہے۔۔ وہ وہاں اس جادواں منظر میں گم ہو گیا۔ عرب کے صحرا میں روشنیوں کو اپنے اردگرد بسائے،آسماں کی طرف نگاہ اٹھائے ، شہزادیوں کی طرح پوشاک پھیلائے، اسے لگا وہ چاند سے مخاطب ہے۔۔۔ عاھل سلطان اس آواز کو اپنے اندر کہیں محسوس کرنے لگا۔۔۔عشق کا پہلا جھونکا اسے چھو گیا۔ قدم خودبخود آگے بڑھنے لگے۔۔۔ تبھی اسے لگا وہ چاند سے مخاطب نہیں، بلکہ عشقِ حقیقی کے وجد میں ڈوبی ہے،وجد میں عشق محوِ رقص ہے۔۔۔ عشق جو حق ہے ، عشق جو سچ ہے۔۔۔ سحر ذدہ سا ماحول اس پری پیکر کو دیکھنے کا احساس لیے اس کے دل کے ساز کو چھیڑ گیا۔ محبت مثلِ آئینہ ہے جہاں صرف محبوب کی جھلک نظر آتی ہے۔ اور یہی جھلک اسے بے تاب کر رہی تھی ۔ مگر یہ آہٹ سننے والا انجان کہا ہوتا ہے۔۔۔ جیسے ہی وہ اس کے سامنے آیا،عشق کے جلوے کے طلسم کدہ میں حجاب واجب ہو گیا تھا۔ صحرا کی کوئل خاموش ہو گئی، سُرحکم بجا لائے۔ مگر اس کی آنکھوں میں عشقِ حقیقی کے رنگ کی چمک ابھی بھی عیاں تھی۔ عاھل مبہوت سا کھڑا تھا،وہ سماں کو اپنے ساتھ باندھ لینا چاہتا تھا۔ کہیں محبت کی یہ ڈور اس کے ہاتھ سے نہ نکل جائے۔ وہ ان دو آنکھوں کے سحر میں مبتلا ہو گیا۔ پھر وہ نظر اٹھ گئی ، سہمی ہوئی ،اجنبیت لی ہوئی ، مقابل کو حدِادب کا اشارہ کرتی۔۔۔ وہ شہزادی بھاگی تھی وہاں سے ،اور رنگ سارے اس کے ساتھ بھاگے جارہے تھے۔ کھونے کا ڈر عاھل کو اس کے پیچھے لے گیا ۔وہاں پردہ گرایا جا چکا تھا ۔۔۔ خیمے کے باہر کھڑا اسے وہ آواز دینا چاہتا تھا،مگر لفظ گم ہو گئے ، صحرا بے آواز ہو گیا، روشنی چندھیانے لگی ،ایک نام کا ورد اب بھی جیسے ہر چیز کر رہی تھی ۔وہ نام جو اس نے پردہ گرنے سے پہلے سنا تھا۔ ”میسا“ وہ زیرِلب دوہرانے لگا۔ عشق کا پہلا درجہ محبوب کے نام کا ورد ہے۔ ******
یہ کون اجنبی تھا جو اس کے پاس چل کے آیا تھا ، اس کی آنکھوں کی زباں اس کے وجود پہ کیوں پھوار کی طرح پڑنے لگی۔ لفظ تو دور کی بات وہ تو محبت کی اٹھی ایک نظر خود پہ پڑی آج تک نہ دیکھ سکی۔ پھر یہ کون تیری مخلوق میں سے میرے ٹھکانے پہ آگیا۔۔ کون اس جانب نکل آیا کہ اسے ملال تک نہ ہوا۔۔۔ وہ سوچ رہی تھی۔ جانتی تھی وہ باہر ہی کھڑا ہے۔ زندگی میں پہلی دفعہ کوئی اس کا انتظار کر رہا تھا۔ پہلی دفعہ کسی تک اس کی آواز پہنچی اور وہ با ادب حاظر ہو گیا۔ اس کی دنیا کو لوگ بس حیرت سے دیکھتے ، ہنستے اور چل پڑتے۔جن کا ذکر خدا ٹھہرے، لوگوں کی نظر ان پہ ایسے ہی پڑتی ہے۔۔ یہ کون تھا جو رکنے کے جواز ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔ کوئی خدا کے سوا بھی اسے سننا چاہتا تھا۔۔۔ کیا اس نے اپنے کسی پیارے کو میرے لیے بھیج دیا۔آنسو بہہ رہ تھے ، ان کو زباں صرف خدا کے آگے رو دینے سے ہی ملتی ہے ، ورنہ دنیا کی نظر میں یہ اپنی دقت کھو دیتے ہیں ، ایک بس وہی ہے جو ان کی پکار سنتا ہے ،ان آنسوؤں کو بھی نواز دیتا ہے۔ میسا عرب کے جنگجو کی وہ بیٹی تھی جس کو کبھی لڑنا نہ آ سکا ، جس کا جرم نرم دلی اور عاجزانہ رویہ تھا۔۔ جو ہمیشہ ایک مہرے کے طور پر سب کے کام آتی۔۔۔ ایسے ہی وہ روایات میں جکڑی تھی۔ اس کی تنہائی کی آواز کو کبھی کوئی سن نہ سکا۔وہ اٹھی آنسو صاف کیے اور قدم بمشکل آگے بڑھاے۔ عاھل سلطان کے لیے وقت پھر رک گیا تھا ، حجاب اب بھی قائم تھا مگر وہ دو آنکھیں اسے بھیگی ہوئی نظر آئیں۔ ۔۔ ”میسا۔“ شہزادے کی زبان کو لفظ مل گئے ۔۔۔ عشق کے موتیوں کی لڑی میں ارتعاش پیدا ہوا تھا۔ خوبصورت نام اسے عنایت جو کر دیا گیا۔ وہ اسے کچھ کہنے لگی تھی کہ شہزادے کا گھوڑا پیچھے کی طرف بھاگا۔۔۔ عشق کے رباب کے ساز بکھر گئے۔۔ اس کی آنکھوں میں گہرا کرب آبسا۔۔رکنے کی چاہ لیے آنے والا بھی پلٹ گیا تھا۔ صحرا میں عشق کا مرثیہ شروع ہو گیا۔ ان کہے لفظوں کی نارسائی کا دکھ۔۔۔ ماتمی لباس میں لپٹی خوش فہمیاں۔۔۔ ******
کبھی کبھی ایک جھلک ، ایک قصہ، ایک چہرہ ، ایک آواز پوری زندگی آپ کے آگے پیچھے سایے کی طرح رہتی ہے۔۔۔ اس سے دور بھاگ تو آتے مگر اس سے انکار ممکن نہیں ہوتا۔ تلخ حقیقتوں کے ساتھ یہ حقیقت بھی جڑی رہتی ہے۔۔۔ وہ شخص پھر آپ کی زندگی میں ہو نہ ہو،اس کا مقام آپ کے دل سے کوئی نہیں چھن سکتا۔ وہ آپ کے اندر کی دنیا میں ضرور بسا رہتا ہے۔۔۔ یہی عاھل سلطان کے ساتھ ہوا تھا۔۔۔ اس رات عربی گھوڑے نے اپنے شہ سوار کو اسی جگہ گرا دیا تھا جہاں ان دو خوبصورت آنکھوں نے اس کو اپنے آگے جھکا دیا تھا۔۔۔ وہ ان کے سامنے سے اٹھنا نہیں تھا چاہتا مگر حقیقت اسے چیخ چیخ کر اس سے جڑے ایک اور انسان کی آواز سنا رہی تھی۔۔۔ کوئی اور جو اس کے گھر میں اس کامنتظر تھا۔۔اور پھر وہ آواز جیت گئی ۔۔۔حقیقت ہارتی نہیں بلکہ انسان کو ہرا دیتی ہے۔۔۔ وہ اپنا سب کچھ وہاں چھوڑ کے خالی ہاتھ پلٹ آیا۔ جانتا تھا وہ دو ساحری آنکھیں روئی ہوں گی ، ان پہ بھی اب یہی موسم ٹھہر گیا ہو گا۔۔۔ زندگی دونوں کو اپنے اپنے مقام پہ لیے چلتی رہے گی، مگر دلوں میں آباد بستی کو وہ اجاڑ نہیں سکتی۔۔۔ وہ اسے صحرا میں ڈھونڈنے آتا رہتا تھا، شایدوہ جھلک کہیں سامنے آجائے اس کے۔۔۔ اور پھر خبر کی منادی کرا دی گئی۔۔۔ اسی صحرا کے اندر میسا نے جانے سے پہلے اپنے وجود کو دفن کرنے کا بولا۔۔۔وہ بھی شاید عشق لاحاصل پہ بھروسہ رکھے ہوئی تھی ، عشق والوں کو سچے دلوں کی خبر ہوتی ہے ، اسے یقین تھا وہ اسے وہی ملے گا۔اس کو پورے مان کے ساتھ صحرا کے سپرد کر دیا گیا۔۔۔ صحرا کی کوئل لوٹ آئی اپنی جگہ پھرکبھی نہ جانے کے لیے۔۔۔ اس کے نام کی تختی لگا دی گئی۔۔۔۔ عاھل کو اس دفعہ وہ مل گئی ، دونوں کا انتظار ختم ہوا۔اس دفعہ وہ سب سے پردہ کیے تھی۔۔۔ مگر وہ جانتا تھا اس کا یہاں پھر لوٹ کےآنا اسی کے لیے ہے۔۔۔ وہ وعدہ نبھا گئی تھی اب اسے اپنا وعدہ نبھانا تھا۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo